روپے کی قدر میں اضافے کے ثمرات عوام کو منتقل کیے جائیں کاروباری برادری

ڈالرکی قدرگرنے سے برآکنندگان کو کچھ نقصان، معیشت کو مجموعی طور پر فائدہ ہوگا، ایندھن کادرآمدی بل،کاروباری اوربجلی۔۔۔

کراچی:کرنسی ڈیلرامریکی ڈالر کے بینک نوٹ دکھا رہا ہے، بزنس کمیونٹی نے روپے کے مقابل ڈالر کی قدر میں کمی کافائدہ عوام کو منتقل کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ ڈالرکی قیمت کم ہونے سے مہنگائی میں بھی کمی ہونی چاہیے. فوٹو : فائل

کاروباری برادری نے ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر مستحکم ہونے پر وزیراعظم میاں محمد نواز شریف اور وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی کوششوں کو سراہتے ہوئے روپے کی قدر میں استحکام کے ثمرات عوام تک منتقل کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

ایف پی سی سی آئی کے صدر زکریا عثمان نے کہا کہ پاکستانی معیشت کا دارومدار زیادہ تر امپورٹ پر ہے جبکہ ایکسپورٹ اور ترسیلات زر سے جو بھی فائدہ حاصل ہوتا ہے، امریکی ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدربڑھنے سے مہنگائی میں کمی آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ پائیدار ایکسچینج کرنسی ریٹ سے آئل پراڈکٹس خصوصاً ٹرانسپورٹیشن اور پاور جنریشن کی لاگت میں کمی آئے گی جس سے کاروباری لا گت کم ہو گی اور پاکستانی مصنوعات عالمی منڈیوں میں مسابقت کے قابل ہوں گی اور پاکستانی ایکسپورٹ میں اضافہ ہوگا۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ حکومت اسی طر ح سے اپنی کوششیں جاری رکھے گی اور روپے کی قدر میںاضافے کے ثمرات غریب طبقے کے لیے اشیا کی قیمتوں میں کمی سے ظاہر ہوں گے۔ زکریا عثمان نے کہا کہ 2008 سے ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی رو پے کی قدر میں مستقل کمی کی وجہ سے ملکی معاشی نمو ہر سطح پر رک گئی تھی جس کی وجہ سے کچھ سال میں معیشت کا گروتھ ریٹ 7 فیصد سے گرکر 2 فیصد پر آ گیا، اس سے کئی صنعتیں بند، بیروزگاری میں اضافہ اور امن و امان کی صورتحال ابتر ہوگئی۔


صدر ایف پی سی سی آئی نے کہا کہ فی الوقت روپے کی قدر میں اضافے سے پاکستانی ایکسپورٹرز کو کچھ نقصان ہو گا لیکن مجموعی طور پر پورے ملک کی معیشت پر اسکے گہر ے مثبت اثرات مر تب ہوں گے۔ سارک چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے نائب صدر اور وفاق ایوانہائے صنعت و تجارت کے سابق صدر افتخار علی ملک نے کہا کہ اسحاق ڈار نے ڈالر کی قدر میں کمی کا جو وعدہ کیا تھا وہ پورا ہوتا دکھائی دے رہا ہے جس کے تجارت و صنعت پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ انہوں نے مئی 2014 تک نیشنل گرڈ میں 1500 میگا واٹ بجلی داخل کرنے کی خبر کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے لوڈشیڈنگ کم کرنے میں مدد ملے گی، مصنوعات کی پیداوار بڑھے گی جس سے برآمدات میں اضافہ اور تجارتی خسارہ کم ہوگا اور روپے کی قد میں مزید اضافہ ہوگا، روپے کی قدربڑھنے سے غیرملکی سرمایہ کاری میں اضافہ ہو گا اور حکومت کو بیرونی ادائیگیوں میں 700 ارب روپے کی خطیر بچت ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافے کیلیے مزید جارحانہ اقدامات کرے، امریکا سے کولیشن فنڈ کے 1 ارب 60 کروڑ ڈالر کی جلد وصولی کے لیے کوششیں کی جائیں، حکومت اسٹیٹ بینک یا بینکاری نظام سے بھاری قرضے لینے کے بجائے ٹیکس ریونیو میں اضافہ کرے تاکہ مالیاتی خسارے کو مناسب سطح پر رکھا جاسکے۔

لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے روپے کی قدر میں استحکام کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے نہ صرف عوام کو فائدہ ہوگا بلکہ غیرملکی سرمایہ کاروں کا پاکستانی معیشت پر اعتماد بھی بڑھے گا۔ لاہور چیمبر کے صدر انجینئر سہیل لاشاری نے کہا کہ اگرچہ پاکستانی معیشت مسلسل بہتری کی طرف گامزن ہے لیکن حکومت کو کارکردگی برقرار رکھنے کے لیے غیر معمولی اقدامات اٹھانا ہونگے تاکہ تمام شعبے بہترین پالیسیوں سے یکساں فائدہ اٹھا سکیں، حکومت ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر مستقل طور پر مستحکم رکھنے کے لیے قلیل وطویل مدتی منصوبہ بندی کرے۔
Load Next Story