حصص مارکیٹ مندی کی زد میں آکر بلند ترین سطح سے گر گئی

مندی کے سبب 58.39 فیصد حصص کی قیمتوں میں کمی آئی جبکہ سرمایہ کاروں کے34 ارب 16 کروڑ 1 لاکھ 69 ہزار977 روپے ڈوب گئے۔

کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای100انڈیکس193.81 پوائنٹس کی کمی سے 27115.21 ہوگیا۔ فوٹو : آن لائن

کراچی اسٹاک ایکس چینج میں پرافٹ ٹیکنگ کے سبب بدھ کو اتارچڑھاؤ کے بعد مندی کے اثرات غالب رہے جس سے انڈیکس کی 27300 اور27200 کی 2 حدیں بیک وقت گرگئیں.

مندی کے سبب 58.39 فیصد حصص کی قیمتوں میں کمی آئی جبکہ سرمایہ کاروں کے34 ارب 16 کروڑ 1 لاکھ 69 ہزار977 روپے ڈوب گئے۔ ماہرین اسٹاک کا کہنا تھا کہ شعبہ ٹیکسٹائل، آئل اینڈ گیس سیکٹر میں پرافٹ ٹیکنگ کا رحجان غالب رہا جبکہ روپے کی نسبت ڈالر کی قدر میں کمی سے شعبہ ٹیکسٹائل کے ایکسپورٹرز کا پرافٹ مارجن متاثر ہونے کی وجہ سے ٹیکسٹائل سیکٹر کی کمپنیوں میں فروخت کا دباؤ زیادہ رہا جس سے مارکیٹ کا مورال متاثر ہوا۔


کاروباری دورانیے میں ایک موقع پر 118.14 پوائنٹس کے اضافے سے انڈیکس 27427 پوائنٹس کی نئی بلند ترین سطح پر آگیا تھا کیونکہ اس دوران بینکوں و مالیاتی اداروں، میوچل فنڈز اور انفرادی سرمایہ کاروں کی جانب سے مجموعی طور پر 91 لاکھ 18 ہزار903 ڈالر مالیت کی تازہ سرمایہ کاری بھی کی گئی لیکن اس سرمایہ کاری کے اثرات اس وقت زائل ہوگئے کہ جب ٹریڈنگ کے دوران غیرملکیوں کی جانب سے7 لاکھ 87 ہزار 41 ڈالر، مقامی کمپنیوں کی جانب سے39 لاکھ 76 ہزار 353 ڈالر، این بی ایف سیز کی جانب سے35 لاکھ 91 ہزار988 ڈالر اور دیگر آرگنائزیشنز کی جانب سے7 لاکھ 63 ہزار520 ڈالر مالیت کے سرمائے کا انخلا کیا گیا جس سے مارکیٹ مندی سے دوچار ہوئی۔

کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای100انڈیکس193.81 پوائنٹس کی کمی سے 27115.21 ہوگیا جبکہ کے ایس ای 30 انڈیکس 174.12 پوائنٹس کی کمی سے 19700.35 اور کے ایم آئی 30 انڈیکس386.97 پوائنٹس کی کمی سے 45343.48 ہوگیا، کاروباری حجم منگل کی نسبت 2.69 فیصد زائد رہا اور مجموعی طور پر31 کروڑ32 لاکھ 98 ہزار940 حصص کے سودے ہوئے جبکہ کاروباری سرگرمیوں کا دائرہ کار387 کمپنیوں کے حصص تک محدود رہا جن میں 148 کے بھاؤ میں اضافہ، 226 کے داموں میں کمی اور13 کی قیمتوں میں استحکام رہا۔
Load Next Story