منی پاکستان المیوں سے نڈھال
کراچی کے قدیم پر امن علاقے لیاری میں تشدد کی تازہ لہر نے صحرائے تھر کے درد انگیز المیے کو دھندلا دیا
سب سے بڑا الجھاؤ یہ ہے کہ کراچی آپریشن کے تین مرحلے طے تو کر لیے گئے مگر قتل و غارت بند نہیں ہو سکی۔ فوٹو : این این آئی/فائل
کراچی کے قدیم پر امن علاقے لیاری میں تشدد کی تازہ لہر نے صحرائے تھر کے درد انگیز المیے کو دھندلا دیا، بدھ کو جھٹ پٹ مارکیٹ اور گل محمد لین میں خون کی ہولی کھیلی گئی اور قانون کی حکمرانی کے سارے دعوے کالعدم پیپلز امن کمیٹی اور گینگ وار کے کارندوں کے درمیان خونی تصادم میں بہہ گئے۔ اس خونیں واردات میں خواتین اور 4 بچوں سمیت 19 افراد جاں بحق جب کہ50 سے زائد زخمی ہو گئے، قومی فٹ بال ٹیم کے سابق کپتان مولا بخش گوٹائی کے گھر پر بم پھینکا گیا، ان کے ایک قریبی عزیز پہلے ہی ہلاک کیے جا چکے ہیں۔ اسی روز کراچی میں فائرنگ کے مختلف واقعات کے دوران4 افراد ہلاک ہو گئے، ایک گھر سے لیڈی ڈاکٹر کی لاش ملی۔ زمانہ ہوا شہر قائد کی بے داغ جمہوری اور آمریت مخالف سیاسی شناخت برباد ہوئی، آبادی کے بے ہنگم پھیلاؤ نے کراچی کو جرائم پیشہ افراد کا مسکن بنا دیا، اب بھی اگر منظم نیٹ ورک رکھنے والے تشدد پسند کریمنل عناصر اور گینگ وار کارندوں سمیت ٹارگٹ کلرز و فرقہ وارانہ ہلاکتوں میں ملوث مجرموں کو قابو نہ کیا گیا تو کراچی کے مستقبل کے بارے اندیشے اور خدشات حقیقت کا روپ بھی دھار سکتے ہیں۔ آج منی پاکستان کئی شہروں میں تقسیم ہے، اس کی مرکزیت ختم ہو چکی ہے۔
سب سے بڑا الجھاؤ یہ ہے کہ کراچی آپریشن کے تین مرحلے طے تو کر لیے گئے مگر قتل و غارت بند نہیں ہو سکی، دو کروڑ کی آبادی والے معاشی ہب میں دیگر علاقوں کے ساتھ ساتھ لیاری کی سماجی تاریخ کی بہیمانہ وارداتوں اور گروپوں میں مسلح تصادم کا سلسلہ بھی جاری ہے، پولیس اور رینجرز میدان جنگ سے حسب دستور غائب رہنے کی حکمت عملی پر کاربند ہیں، کہا جاتا ہے کہ جب لوگ لاشیں اٹھاتے ہیں تو فورسز کی گاڑیاں بعد از مرگ علاقے میں داخل ہوتی ہیں، اس لیے آپریشن در اصل آنکھ مچولی کی شکل اختیار کر گیا ہے، سیکڑوں ٹارگٹ کلرز زیر حراست ہیں، ہزاروں جیلوں اور رینجرز کے حراستی مراکز میں بند ہیں، برآمد شدہ اسلحہ کا ڈھیر لگ چکا ہے، کئی ملزمان اور ٹارگٹ کلرز کے ہلاک کیے جانے کے دعوے ہیں مگر انٹیلی جنس ایجنسیاں اور قانون نافذ کرنے والے گینگ وار کے کسی مرکزی ملزم کے بیرون ملک جانے سے بے خبر رہتے ہیں، ایف آئی اے کے امیگریشن کاؤنٹر پر کوئی ان کو شناخت نہیں کر پاتا، کئی ٹارگٹ کلرز کراچی میں دندناتے پھرتے ہیں۔ پولیس تھانوں کے قریب ان کی رہائش گاہیں ہیں مگر ان کے سیف ہیونز کو اجاڑنے کی فورسز کو شاید اجازت نہیں۔ ''باغباں بھی خوش رہے راضی رہے صیاد بھی'' والی مثال لیاری اور کراچی پر صادق آتی ہے۔ سب سے حیران کن معمہ پی پی کے اس ووٹ بینک کی لاوارثی کا ہے جسے پولیس اور رینجرز کے سپرد کر کے صوبائی حکومت خود الگ تھلگ ہو گئی۔
اصل میں لیاری تشدد کی تازہ لہر علی محمد محلہ میں پولیس اور رینجرز کے مبینہ مقابلے میں گینگ وار کے انتہائی مطلوب ملزم کے بھائی کی ہلاکت کے بعد شروع ہوئی۔ تھر کی طرح اس نازک صورتحال کا بھی کسی نے پیشگی ادراک نہیں کیا کہ تین روز قبل مواچھ گوٹھ میں 3 باکسروں سمیت 5 افراد کی ہلاکت اور گینگ وار سرغنہ کے بھائی کی ہلاکت پر شدید رد عمل سامنے آ سکتا ہے۔ جو رد عمل آیا وہ ہلاکت خیز ثابت ہوا۔ کراچی پولیس چیف شاہد حیات نے کہا ہے کہ کراچی کو صاف کرنے کا فیصلہ ہو چکا ہے۔ اس شہر میں جنوبی افریقہ، بھارت اور افغانستان کی سمیں استعمال ہو رہی ہیں اور اس پر بہت حد تک قابو بھی پا لیا گیا ہے، کراچی میں سبھی سیاسی جماعتوں کے عسکری ونگز ہیں اور یہ بات سپریم کورٹ نے بھی کہی ہے۔ گزشتہ دنوں ایک ایسی رپورٹ بھی شایع ہوئی جس میں انکشاف کیا گیا تھا کہ دو سو کے لگ بھگ ٹارگٹ کلرز اور بدنام زمانہ کریمنلز کے سروں کی قیمت کروڑوں میں لگائی گئی ہے، لسٹ میں متعدد جرائم پیشہ افراد کے نام شامل ہیں۔
بلاشبہ ہلاکتوں کے باعث کراچی '' جلا ہے جسم جہاں دل بھی جل گیا ہو گا''کی جیتی جاگتی تصویر ہے۔ یہ عروس البلاد گزشتہ تین عشروں سے بد امنی، انتظامی عاقبت نااندیشی اور داخلی سیاسی تضادات، اختلافات اور معاشی محرومیوں کی آگ میں جل رہا ہے، کراچی سمیت پورے ملک میں ریاستی اور حکومتی طرز عمل کا سب سے بنیادی نقص چنگاری کو شعلہ جوالہ بننے کی کھلی اجازت دینا ہے، پھر دکھاوے کی داد رسی، امدادی کاموں اور امن کے قیام کی نیم دلانہ کوششیں شروع ہوتی ہیں۔ تھر کی ہلاکتیں ہوں یا لیاری اور کراچی کا قتل گاہ میں بدل جانا، یہ ایک ہی سیاسی و انتظامی ناکامی کے دو رخ ہیں۔ دو ماہ گزر گئے چوہدری اسلم کے قاتلوں کا سراغ نہیں ملا۔ گینگ وار کے ماسٹر مائنڈز اور کارندوں کی سرپرستی ریاستی اور حکومتی سطح پر کی گئی، کون نہیں جانتا کہ کراچی جیسا خوش خصال شہر جو ہم وطنوں کا اجتماعی معاشی آشیانہ اور رزق خداد داد کا کشادہ وسیلہ رہا ہے کس تیزی سے ابتری کی جانب مائل ہوا۔ کیا صورتحال ابتدا ہی میں سرجیکل اسٹرائیک کی متقاضی نہیں تھی۔ اب بھی وقت ہے کہ ارباب اختیار آنکھیں کھولیں اور ریاست کے خلاف متوازی قوت بن جانے والوں کا بلا امتیاز قلع قمع کریں، بعد کا پچھتاوا کسی کام نہیں آئے گا۔
سب سے بڑا الجھاؤ یہ ہے کہ کراچی آپریشن کے تین مرحلے طے تو کر لیے گئے مگر قتل و غارت بند نہیں ہو سکی، دو کروڑ کی آبادی والے معاشی ہب میں دیگر علاقوں کے ساتھ ساتھ لیاری کی سماجی تاریخ کی بہیمانہ وارداتوں اور گروپوں میں مسلح تصادم کا سلسلہ بھی جاری ہے، پولیس اور رینجرز میدان جنگ سے حسب دستور غائب رہنے کی حکمت عملی پر کاربند ہیں، کہا جاتا ہے کہ جب لوگ لاشیں اٹھاتے ہیں تو فورسز کی گاڑیاں بعد از مرگ علاقے میں داخل ہوتی ہیں، اس لیے آپریشن در اصل آنکھ مچولی کی شکل اختیار کر گیا ہے، سیکڑوں ٹارگٹ کلرز زیر حراست ہیں، ہزاروں جیلوں اور رینجرز کے حراستی مراکز میں بند ہیں، برآمد شدہ اسلحہ کا ڈھیر لگ چکا ہے، کئی ملزمان اور ٹارگٹ کلرز کے ہلاک کیے جانے کے دعوے ہیں مگر انٹیلی جنس ایجنسیاں اور قانون نافذ کرنے والے گینگ وار کے کسی مرکزی ملزم کے بیرون ملک جانے سے بے خبر رہتے ہیں، ایف آئی اے کے امیگریشن کاؤنٹر پر کوئی ان کو شناخت نہیں کر پاتا، کئی ٹارگٹ کلرز کراچی میں دندناتے پھرتے ہیں۔ پولیس تھانوں کے قریب ان کی رہائش گاہیں ہیں مگر ان کے سیف ہیونز کو اجاڑنے کی فورسز کو شاید اجازت نہیں۔ ''باغباں بھی خوش رہے راضی رہے صیاد بھی'' والی مثال لیاری اور کراچی پر صادق آتی ہے۔ سب سے حیران کن معمہ پی پی کے اس ووٹ بینک کی لاوارثی کا ہے جسے پولیس اور رینجرز کے سپرد کر کے صوبائی حکومت خود الگ تھلگ ہو گئی۔
اصل میں لیاری تشدد کی تازہ لہر علی محمد محلہ میں پولیس اور رینجرز کے مبینہ مقابلے میں گینگ وار کے انتہائی مطلوب ملزم کے بھائی کی ہلاکت کے بعد شروع ہوئی۔ تھر کی طرح اس نازک صورتحال کا بھی کسی نے پیشگی ادراک نہیں کیا کہ تین روز قبل مواچھ گوٹھ میں 3 باکسروں سمیت 5 افراد کی ہلاکت اور گینگ وار سرغنہ کے بھائی کی ہلاکت پر شدید رد عمل سامنے آ سکتا ہے۔ جو رد عمل آیا وہ ہلاکت خیز ثابت ہوا۔ کراچی پولیس چیف شاہد حیات نے کہا ہے کہ کراچی کو صاف کرنے کا فیصلہ ہو چکا ہے۔ اس شہر میں جنوبی افریقہ، بھارت اور افغانستان کی سمیں استعمال ہو رہی ہیں اور اس پر بہت حد تک قابو بھی پا لیا گیا ہے، کراچی میں سبھی سیاسی جماعتوں کے عسکری ونگز ہیں اور یہ بات سپریم کورٹ نے بھی کہی ہے۔ گزشتہ دنوں ایک ایسی رپورٹ بھی شایع ہوئی جس میں انکشاف کیا گیا تھا کہ دو سو کے لگ بھگ ٹارگٹ کلرز اور بدنام زمانہ کریمنلز کے سروں کی قیمت کروڑوں میں لگائی گئی ہے، لسٹ میں متعدد جرائم پیشہ افراد کے نام شامل ہیں۔
بلاشبہ ہلاکتوں کے باعث کراچی '' جلا ہے جسم جہاں دل بھی جل گیا ہو گا''کی جیتی جاگتی تصویر ہے۔ یہ عروس البلاد گزشتہ تین عشروں سے بد امنی، انتظامی عاقبت نااندیشی اور داخلی سیاسی تضادات، اختلافات اور معاشی محرومیوں کی آگ میں جل رہا ہے، کراچی سمیت پورے ملک میں ریاستی اور حکومتی طرز عمل کا سب سے بنیادی نقص چنگاری کو شعلہ جوالہ بننے کی کھلی اجازت دینا ہے، پھر دکھاوے کی داد رسی، امدادی کاموں اور امن کے قیام کی نیم دلانہ کوششیں شروع ہوتی ہیں۔ تھر کی ہلاکتیں ہوں یا لیاری اور کراچی کا قتل گاہ میں بدل جانا، یہ ایک ہی سیاسی و انتظامی ناکامی کے دو رخ ہیں۔ دو ماہ گزر گئے چوہدری اسلم کے قاتلوں کا سراغ نہیں ملا۔ گینگ وار کے ماسٹر مائنڈز اور کارندوں کی سرپرستی ریاستی اور حکومتی سطح پر کی گئی، کون نہیں جانتا کہ کراچی جیسا خوش خصال شہر جو ہم وطنوں کا اجتماعی معاشی آشیانہ اور رزق خداد داد کا کشادہ وسیلہ رہا ہے کس تیزی سے ابتری کی جانب مائل ہوا۔ کیا صورتحال ابتدا ہی میں سرجیکل اسٹرائیک کی متقاضی نہیں تھی۔ اب بھی وقت ہے کہ ارباب اختیار آنکھیں کھولیں اور ریاست کے خلاف متوازی قوت بن جانے والوں کا بلا امتیاز قلع قمع کریں، بعد کا پچھتاوا کسی کام نہیں آئے گا۔