اصل مسئلہ غلط کار انتظامیہ کا ہے
تھر کی انتظامیہ حد سے زیادہ نااہل بلکہ حد سے زیادہ بے رحم ہے جس کے سامنے بچے موت کے منہ میں جا رہے ہیں
Abdulqhasan@hotmail.com
پرانے زمانے میں ایک بار کسی بادشاہ کا اقتدار خطرے میں پڑ گیا تو اس نے اپنے وزیر کو غلہ منڈی بھیجا کہ وہاں جاکر وہ اناج کی صورت حال کا جائزہ لے۔ وزیر نے بتایا کہ حضور منڈی میں اناج کے بھرے ہوئے چھکڑے چلے آرہے ہیں اور غذائی اجناس کی کوئی قلت نہیں ہے۔یہ اطلاع پا کر بادشاہ نے کہا کہ جس ملک میں کھانے کو اناج وافر ہو اس میں حکمران کے اقتدار کو عوام سے خطرہ نہیں ہو سکتا لیکن یہ اس زمانے کی بات ہے جب سرکاری کارندے سست اور نااہل نہیں ہوا کرتے تھے اور اناج گوداموں میں پڑا سڑتا سسکتا نہیں رہتا تھا۔ آج ہماری منڈیاں اناج سے بھری ہوئی ہیں اور ملک پر اللہ تعالیٰ کا فضل ہے لیکن اللہ کی نعمتوں اور اس کے بندوں کے درمیان سرکار کے نااہل کام چور اور رشوت خور کارندے حائل ہیں جس کی وجہ سے ملک کے بعض حصوں میں قحط پڑا ہوا ہے۔
ہمارے وزیر اعظم نے اس صورت حال کو بڑی خوبصورت اور یک گونہ طنز میں بیان کیا ہے کہ یہ کیا بات ہے کہ ملک میں ایک ایسے ہی دوسرے صحرا چولستان میں قحط نہیں ہے اور کوئی بھوک سے نہیں مر رہا پھر یہاں تھر میں موت نے بچوں کو کیوں نگلنا شروع کر دیا ہے۔ وزیر اعظم کی اس بات کا صاف مطلب یہ تھا کہ تھر کی انتظامیہ حد سے زیادہ نااہل بلکہ حد سے زیادہ بے رحم ہے جس کے سامنے بچے موت کے منہ میں جا رہے ہیں اور اسے ان کی پروا نہیں ہے، ان کے سامنے ایک قومی المیہ جنم لے رہا ہے اور وہ پر تکلف لنچ اڑا رہے ہیں۔ سچ پوچھئے تو یوں لگتا ہے کہ اگر جائز ہوتا تو سرکار کے یہ سنگ دل عمائدین ان بچوں کا گوشت روسٹ کر کے پکا رہے ہوتے اور شکوہ یہ کر رہے ہوتے کہ گوشت کسی پلے ہوئے بچے کا نہیں ہے۔ پلپلا اور بے کیف سا ہے۔ مدت ہوئی کہ ایک سی ایس پی افسر ریاض الدین احمد صاحب نے استعفیٰ دے دیا تھا جو ایک بہت بڑی خبر تھی۔ یہ افسر مولانا صلاح الدین احمد کے فرزند اور کئی دوسرے سی ایس پی حضرات کے بھائی تھے۔ ان کی بیگم بھی ایک افسانہ نگار تھیں نام غالباً اختر ریاض تھا بہرکیف ریاض صاحب نے ہم رپورٹروں کی بات مان لی اور پریس کانفرنس بلا لی۔ اس میں انھوں نے استعفے کی وجوہات کے علاوہ ہمیں بتایا کہ وہ انتظامی صلاحیتیں رکھنے والے لوگوں کی متوقع زبردست قلت سے پریشان ہیں اور پاکستان کو کسی مرحلے پر اچھے اور فرض شناس اعلیٰ افسروں سے محروم ہونا پڑے گا۔ افسر تو ہوں گے مگر کام کے افسر بہت کم ہوں گے اور آپ جانتے ہیں کہ ملک کی انتظامیہ سیاستدان نہیں یہ افسر چلاتے ہیں۔ ایک ڈپٹی کمشنر پورا ضلع چلاتا ہے جس کے دفتر میں کوئی بھی شہری کسی درخواست کے ساتھ جا سکتا ہے اور وہ اس پر کوئی حکم صادر کرتا ہے۔
ہم آج ریاض صاحب کی اس پیش گوئی کو اپنے سامنے سچ ہوتا دیکھ رہے ہیں وجہ سیاستدان ہوں یا کوئی اور ہمارے ہاں فرض شناس انتظامی افسروں کی شدید قلت ہے اور ملک نہیں چل رہا۔ اس کی ایک پریشان کن بلکہ ہولناک مثال تھر کا قحط اور سیکڑوں بچوں کی ہلاکت ہے۔ بھوک اور بیماری سے پاکستان اپنے کتنے ہی بچوں سے محروم ہو گیا اور ہم کسی بے حد پسماندہ ملک کی طرح دنیا کی نظروں میں رسوا ہو گئے۔ ہم بھی افریقہ کا کوئی پسماندہ ترین ملک بن گئے جب کہ ہمارے پاس انسانوں کی زندگی باقی رکھنے کے لیے بہت کچھ ہے اور تھر کے ان قحط زدگان کی ہر طرح کی امداد بھی ہم دیکھ رہے ہیں۔ اگر یہ امداد مستحق لوگوں تک ہم پہنچا سکے تو ان کی ضرورت سے بہت زیادہ ہو گی۔ علاوہ ان سنگدل پاکستانیوں کے جن کے گھر مال و دولت سے بھرے ہوئے ہیں اور جن کی دولت کے دنیا بھر کے بینکوں میں بھی چرچے ہیں یہاں کے متوسط درجے کے پاکستانی کشادہ دلی کی نعمت سے مالا مال ہیں اور ان لوگوں کے لیے سامان کے ڈھیر لگا رہے ہیں، صرف ایک کاروباری شخص ملک ریاض ہی یہ قحط ختم کرنے کا بہت سامان کر رہا ہے اور اس ملک کے عام کاروباری لوگ بھی گھروں میں یہ سامان جمع کر کے سامان کو تھر لے جانے والے اداروں کی تلاش میں ہیں۔ اس سے قبل ہم نے ہر قومی مصیبت کے وقت دیکھا کہ خلق پاکستان کسی قومی مصیبت پر قہر بن کر ٹوٹ پڑی۔ زلزلہ آیا تھا تو ایبٹ آباد کے علاقے میں ٹرکوں کو راستہ نہیں ملتا تھا۔ گاڑی سے گاڑی جڑی ہوئی تھی۔ یہ ساری امداد پاکستانی تھی اور قوم کے درد مند لوگوں نے فراہم کی تھی۔ پاکستان دنیا کے ان چند ملکوں میں سے ہے جہاں خیرات بہت زیادہ تقسیم کی جاتی ہے مثلاً یہاں اعلیٰ درجے کے اسپتال پاکستانی امداد کے ساتھ قائم ہیں اور چل بھی رہے ہیں۔ یہ سلسلہ ایک مستقل سلسلہ ہے اور یہ جذبہ قدرت کی طرف سے قوم کو بطور انعام ودیعت کیا گیا ہے۔ ہم مسلمان ہیں گنہ گار سہی لیکن اسلام کی انسانی تعلیمات سے روگردانی نہیں کرتے اور ایسی نیکی کا اجر انسانوں سے نہیں حکومتوں سے نہیں بلکہ اپنے خدا سے مانگتے ہیں جو کسی نیکی کو نامراد نہیں کرتا۔
وقت لگے گا لیکن تھر کے باقی ماندہ مصیبت زدہ پاکستانی انشاء اللہ اس مصیبت سے بچ نکلیں گے اور وہ سب ایک نئی صحت مند زندگی بسر کرنے کے قابل ہوں گے لیکن سوال یہ ہے کہ جن سرکاری لوگوں نے اپنی بددیانتی یا نااہلی سے یہ ظلم ڈھایا ہے، ان سے صحیح باز پُرس کون کرے گا۔ صرف ان کا تبادلہ تو کوئی سزا نہیں اور نہ ہی جرمانہ وغیرہ۔ ان کی وجہ سے پاکستانی بچوں پر جو مصیبت نازل ہوئی ہے اس کے برابر ان کی سزا بھی ملنی چاہیے۔ ایک تو یہ فوری طور پر جیلوں میں ڈال دیے جائیں اور ان کی وڈیرہ سرپرستی کی پروانہ کی جائے مگر یہ سب کیسے ہو۔ ہونا یہی چاہیے مگر یہ کون کرے گا۔ جمہوریت میں وزیر اعظم جس حد تک جا سکتے تھے وہ گئے ہیں اور شاید اس سے آگے جانے پر بھی تیار ہوں لیکن جو لوگ سندھ کے براہ راست حکمران ہیں انھیں بھی کچھ رحم سے کام لینا ہو گا کیونکہ پہلی ذمے داری ان کی ہے اور وہی اس ذمے داری کو خوبی کے ساتھ ادا کر سکتے ہیں۔ یہ قومی سانحے کسی ایک حکومت یا جماعت کے نہیں پوری قوم کے ہیں اور قوم تیار ہے بشرطیکہ اسے صحیح قیادت نصیب ہو۔
ہمارے وزیر اعظم نے اس صورت حال کو بڑی خوبصورت اور یک گونہ طنز میں بیان کیا ہے کہ یہ کیا بات ہے کہ ملک میں ایک ایسے ہی دوسرے صحرا چولستان میں قحط نہیں ہے اور کوئی بھوک سے نہیں مر رہا پھر یہاں تھر میں موت نے بچوں کو کیوں نگلنا شروع کر دیا ہے۔ وزیر اعظم کی اس بات کا صاف مطلب یہ تھا کہ تھر کی انتظامیہ حد سے زیادہ نااہل بلکہ حد سے زیادہ بے رحم ہے جس کے سامنے بچے موت کے منہ میں جا رہے ہیں اور اسے ان کی پروا نہیں ہے، ان کے سامنے ایک قومی المیہ جنم لے رہا ہے اور وہ پر تکلف لنچ اڑا رہے ہیں۔ سچ پوچھئے تو یوں لگتا ہے کہ اگر جائز ہوتا تو سرکار کے یہ سنگ دل عمائدین ان بچوں کا گوشت روسٹ کر کے پکا رہے ہوتے اور شکوہ یہ کر رہے ہوتے کہ گوشت کسی پلے ہوئے بچے کا نہیں ہے۔ پلپلا اور بے کیف سا ہے۔ مدت ہوئی کہ ایک سی ایس پی افسر ریاض الدین احمد صاحب نے استعفیٰ دے دیا تھا جو ایک بہت بڑی خبر تھی۔ یہ افسر مولانا صلاح الدین احمد کے فرزند اور کئی دوسرے سی ایس پی حضرات کے بھائی تھے۔ ان کی بیگم بھی ایک افسانہ نگار تھیں نام غالباً اختر ریاض تھا بہرکیف ریاض صاحب نے ہم رپورٹروں کی بات مان لی اور پریس کانفرنس بلا لی۔ اس میں انھوں نے استعفے کی وجوہات کے علاوہ ہمیں بتایا کہ وہ انتظامی صلاحیتیں رکھنے والے لوگوں کی متوقع زبردست قلت سے پریشان ہیں اور پاکستان کو کسی مرحلے پر اچھے اور فرض شناس اعلیٰ افسروں سے محروم ہونا پڑے گا۔ افسر تو ہوں گے مگر کام کے افسر بہت کم ہوں گے اور آپ جانتے ہیں کہ ملک کی انتظامیہ سیاستدان نہیں یہ افسر چلاتے ہیں۔ ایک ڈپٹی کمشنر پورا ضلع چلاتا ہے جس کے دفتر میں کوئی بھی شہری کسی درخواست کے ساتھ جا سکتا ہے اور وہ اس پر کوئی حکم صادر کرتا ہے۔
ہم آج ریاض صاحب کی اس پیش گوئی کو اپنے سامنے سچ ہوتا دیکھ رہے ہیں وجہ سیاستدان ہوں یا کوئی اور ہمارے ہاں فرض شناس انتظامی افسروں کی شدید قلت ہے اور ملک نہیں چل رہا۔ اس کی ایک پریشان کن بلکہ ہولناک مثال تھر کا قحط اور سیکڑوں بچوں کی ہلاکت ہے۔ بھوک اور بیماری سے پاکستان اپنے کتنے ہی بچوں سے محروم ہو گیا اور ہم کسی بے حد پسماندہ ملک کی طرح دنیا کی نظروں میں رسوا ہو گئے۔ ہم بھی افریقہ کا کوئی پسماندہ ترین ملک بن گئے جب کہ ہمارے پاس انسانوں کی زندگی باقی رکھنے کے لیے بہت کچھ ہے اور تھر کے ان قحط زدگان کی ہر طرح کی امداد بھی ہم دیکھ رہے ہیں۔ اگر یہ امداد مستحق لوگوں تک ہم پہنچا سکے تو ان کی ضرورت سے بہت زیادہ ہو گی۔ علاوہ ان سنگدل پاکستانیوں کے جن کے گھر مال و دولت سے بھرے ہوئے ہیں اور جن کی دولت کے دنیا بھر کے بینکوں میں بھی چرچے ہیں یہاں کے متوسط درجے کے پاکستانی کشادہ دلی کی نعمت سے مالا مال ہیں اور ان لوگوں کے لیے سامان کے ڈھیر لگا رہے ہیں، صرف ایک کاروباری شخص ملک ریاض ہی یہ قحط ختم کرنے کا بہت سامان کر رہا ہے اور اس ملک کے عام کاروباری لوگ بھی گھروں میں یہ سامان جمع کر کے سامان کو تھر لے جانے والے اداروں کی تلاش میں ہیں۔ اس سے قبل ہم نے ہر قومی مصیبت کے وقت دیکھا کہ خلق پاکستان کسی قومی مصیبت پر قہر بن کر ٹوٹ پڑی۔ زلزلہ آیا تھا تو ایبٹ آباد کے علاقے میں ٹرکوں کو راستہ نہیں ملتا تھا۔ گاڑی سے گاڑی جڑی ہوئی تھی۔ یہ ساری امداد پاکستانی تھی اور قوم کے درد مند لوگوں نے فراہم کی تھی۔ پاکستان دنیا کے ان چند ملکوں میں سے ہے جہاں خیرات بہت زیادہ تقسیم کی جاتی ہے مثلاً یہاں اعلیٰ درجے کے اسپتال پاکستانی امداد کے ساتھ قائم ہیں اور چل بھی رہے ہیں۔ یہ سلسلہ ایک مستقل سلسلہ ہے اور یہ جذبہ قدرت کی طرف سے قوم کو بطور انعام ودیعت کیا گیا ہے۔ ہم مسلمان ہیں گنہ گار سہی لیکن اسلام کی انسانی تعلیمات سے روگردانی نہیں کرتے اور ایسی نیکی کا اجر انسانوں سے نہیں حکومتوں سے نہیں بلکہ اپنے خدا سے مانگتے ہیں جو کسی نیکی کو نامراد نہیں کرتا۔
وقت لگے گا لیکن تھر کے باقی ماندہ مصیبت زدہ پاکستانی انشاء اللہ اس مصیبت سے بچ نکلیں گے اور وہ سب ایک نئی صحت مند زندگی بسر کرنے کے قابل ہوں گے لیکن سوال یہ ہے کہ جن سرکاری لوگوں نے اپنی بددیانتی یا نااہلی سے یہ ظلم ڈھایا ہے، ان سے صحیح باز پُرس کون کرے گا۔ صرف ان کا تبادلہ تو کوئی سزا نہیں اور نہ ہی جرمانہ وغیرہ۔ ان کی وجہ سے پاکستانی بچوں پر جو مصیبت نازل ہوئی ہے اس کے برابر ان کی سزا بھی ملنی چاہیے۔ ایک تو یہ فوری طور پر جیلوں میں ڈال دیے جائیں اور ان کی وڈیرہ سرپرستی کی پروانہ کی جائے مگر یہ سب کیسے ہو۔ ہونا یہی چاہیے مگر یہ کون کرے گا۔ جمہوریت میں وزیر اعظم جس حد تک جا سکتے تھے وہ گئے ہیں اور شاید اس سے آگے جانے پر بھی تیار ہوں لیکن جو لوگ سندھ کے براہ راست حکمران ہیں انھیں بھی کچھ رحم سے کام لینا ہو گا کیونکہ پہلی ذمے داری ان کی ہے اور وہی اس ذمے داری کو خوبی کے ساتھ ادا کر سکتے ہیں۔ یہ قومی سانحے کسی ایک حکومت یا جماعت کے نہیں پوری قوم کے ہیں اور قوم تیار ہے بشرطیکہ اسے صحیح قیادت نصیب ہو۔