آئی سی سی ورلڈ ٹی 20 پاکستان حریفوں پر دھاک بٹھانے کیلیے بے چین
پوری ٹیم کو ہر شعبے میں غیر معمولی کھیل کا مظاہرہ کرنا ہوگا، پیسرز سے بہتر کھیل کی امید ہے، معین خان
ڈھاکا: ورلڈ ٹی 20 کی تقریب میں آتش بازی کا منظر
ورلڈ ٹوئنٹی20میں پاکستان حریفوں پر دھاک بٹھانے کیلیے بے چین ہے، ہیڈ کوچ معین خان کے مطابق فتح کیلیے پوری ٹیم کو ہر شعبے میں غیر معمولی کھیل کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔
کپتان محمد حفیظ کی طرح وہ بھی پیسرز کی فارم سے پریشان نظر آئے، انھوں نے کہا کہ ایشیا کپ میں فاسٹ بولنگ کا شعبہ توقعات پر پورا نہیں اترسکا، ایک بھی پیسر مین آف دی میچ نہیں رہا، ریورس سوئنگ اور یارکرزبھی نظر نہیں آئے، اب بہتر کھیل کی امید ہے، ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں،بیٹنگ کنسلٹنٹ ظہیر عباس کے مطابق انجریز آڑے نہ آئیں تو گرین شرٹس اچھے نتائج دیںگے۔ فیلڈنگ کوچ شعیب محمد نے کہا کہ وارم اپ میچز اور پریکٹس سیشنز میں خامیوں پر قابو پانے کی پوری کوشش کرینگے۔ تفصیلات کے مطابق ڈھاکا روانگی سے قبل لاہور اور کراچی ایئر پورٹ پر گفتگو میں قومی کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ معین خان نے کہا کہ ورلڈ ٹوئنٹی 20کا اعزاز دوبارہ حاصل کرنے کیلیے پاکستان کو بڑے چیلنجز کا سامنا ہے،ایشیا کپ میں مجموعی کارکردگی اچھی رہی، البتہ فائنل میں کھیل کے معیار سے میں خود بھی مطمئن نہیں،ایونٹ میں فاسٹ بولنگ کا شعبہ توقعات پر پورا نہیں اترسکا، ایک بھی پیسر مین آف دی میچ نہیں رہا، عمر گل عمدہ بولنگ کرنے میں ناکام رہے، ریورس سوئنگ اور یارکرزبھی نظر نہیں آئے۔
ایک سوال پر انھوں نے کہا کہ عمر گل کو فٹنس کا کوئی مسئلہ نہیں، وہ فائنل میں ردھم میں نظر نہیں آئے،امید ہے کہ میگا ایونٹ سے قبل پریکٹس میچز کے دوران پیسرز فارم میں آجائیں گے۔ سابق کپتان نے کہا کہ سپر رائونڈ میں بھارت، آسٹریلیا اور ویسٹ انڈیزکو ہرانے کیلیے پوری ٹیم کو ہر شعبے میں غیر معمولی کھیل کا مظاہرہ کرنا ہوگا، انھوں نے کہا کہ سپر10 مرحلے میں ہر اسکواڈ حریفوں کو زیر کرنے کی بھرپور صلاحیت کے ساتھ میدان میں اترے گا، مختصر فارمیٹ کے سبب پیشگوئی کرنا مشکل ہے لیکن جو ٹیم میچ میں بدلتی صورتحال سے فائدہ اٹھانے میں کامیاب رہی فتح اسی کے قدم چومے گی۔ انھوں نے کہاکہ پاکستان کے پاس بہترین بیٹسمین اور بولرز موجود ہیں،ہم کسی بھی ٹیم کو شکست دینے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں لیکن صلاحیتوں کا بھرپور اظہار کیے بغیر منزل تک پہنچنا ممکن نہیں ہوگا۔معین خان نے کہا کہ وکٹ کیپنگ میں غلطیاں ہورہی ہیں، اس کیلیے کوئی عذر بھی نہیں پیش کیا جاسکتا تاہم مسلسل پریکٹس سے ہی مسائل بتدریج کم ہونگے۔
چیف کوچ نے کہا کہ کامران اکمل کی واپسی سے اس شعبے میں فرق پڑے گا، ضرورت محسوس ہوئی تو ان کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھائیں گے، بیٹنگ پوزیشن کے سوال پر انھوں نے کہا کہ وکٹ کیپر ماضی میں ٹاپ اور مڈل آرڈر میں کھیل چکے،اسی افادیت کی وجہ سے ان کا انتخاب کیا گیا، شاہد آفریدی اپنے نمبر پر بیٹنگ کرینگے تاہم کسی حریف نے بڑا سکور کردیا تو ضرورت کے مطابق ان کا بیٹنگ آرڈر تبدیل بھی کیا جاسکتا ہے۔ بیٹنگ کنسلٹنٹ ظہیر عباس نے کہا کہ خامیاں ایک دن میں دور نہیں ہوسکتیں، برسوں پرانے امراض کو ٹھیک ہونے میں وقت لگتا ہے لیکن کچھ بہتری آنا شروع ہوگئی،گرین شرٹس ہدف کا تعاقب کرتے ہوئے گھبراہٹ کا شکار ہوجاتے تھے۔
ایشیا کپ میں ہم نے اس حوالے سے کافی بہتر کار کردگی دکھائی، بلند عزائم اور اچھی توقعات کے ساتھ ایونٹ میں شرکت کیلیے جا رہے ہیں، تینوں شعبوں میں اچھا پرفارم کرنا ہوگا، سب سے اہم بات یہ ہے کہ ایشائی مقابلوں میں انجریز نے خاصا پریشان کیا،اس بار امید ایسے مسائل سامنے نہیں آئے تو امید ہے کہ ٹیم اچھے نتائج دیگی۔ شعیب محمد نے کہا کہ فیلڈنگ بہتر بنانے کیلیے کم وقت میں زیادہ کوشش کی،اچھا فیلڈر بننے کیلیے جسم میں ضروری لچک اور کھلاڑی کی انفرادی سوچ کا بھی بڑا عمل دخل ہوتا ہے، وارم اپ میچز اور پریکٹس سیشن میںخامیوں پر قابو پانے کی پوری کوشش کرینگے،انھوں نے کہا کہ ایک کیچ ڈراپ ہونے سے میچ ہاتھ سے نکل جاتا ہے، کھلاڑیوں کو یہ احساس دلارہے ہیں، آہستہ آہستہ رویوں اور کارکردگی میں بہتری آتی جائے گی۔ واضح رہے کہ ورلڈ ٹی ٹوئنٹی16 مارچ سے بنگلہ دیش میں شروع ہو گا، پاکستان کا پہلا میچ 21 تاریخ کو روایتی حریف بھارت سے ہونا ہے۔
کپتان محمد حفیظ کی طرح وہ بھی پیسرز کی فارم سے پریشان نظر آئے، انھوں نے کہا کہ ایشیا کپ میں فاسٹ بولنگ کا شعبہ توقعات پر پورا نہیں اترسکا، ایک بھی پیسر مین آف دی میچ نہیں رہا، ریورس سوئنگ اور یارکرزبھی نظر نہیں آئے، اب بہتر کھیل کی امید ہے، ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں،بیٹنگ کنسلٹنٹ ظہیر عباس کے مطابق انجریز آڑے نہ آئیں تو گرین شرٹس اچھے نتائج دیںگے۔ فیلڈنگ کوچ شعیب محمد نے کہا کہ وارم اپ میچز اور پریکٹس سیشنز میں خامیوں پر قابو پانے کی پوری کوشش کرینگے۔ تفصیلات کے مطابق ڈھاکا روانگی سے قبل لاہور اور کراچی ایئر پورٹ پر گفتگو میں قومی کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ معین خان نے کہا کہ ورلڈ ٹوئنٹی 20کا اعزاز دوبارہ حاصل کرنے کیلیے پاکستان کو بڑے چیلنجز کا سامنا ہے،ایشیا کپ میں مجموعی کارکردگی اچھی رہی، البتہ فائنل میں کھیل کے معیار سے میں خود بھی مطمئن نہیں،ایونٹ میں فاسٹ بولنگ کا شعبہ توقعات پر پورا نہیں اترسکا، ایک بھی پیسر مین آف دی میچ نہیں رہا، عمر گل عمدہ بولنگ کرنے میں ناکام رہے، ریورس سوئنگ اور یارکرزبھی نظر نہیں آئے۔
ایک سوال پر انھوں نے کہا کہ عمر گل کو فٹنس کا کوئی مسئلہ نہیں، وہ فائنل میں ردھم میں نظر نہیں آئے،امید ہے کہ میگا ایونٹ سے قبل پریکٹس میچز کے دوران پیسرز فارم میں آجائیں گے۔ سابق کپتان نے کہا کہ سپر رائونڈ میں بھارت، آسٹریلیا اور ویسٹ انڈیزکو ہرانے کیلیے پوری ٹیم کو ہر شعبے میں غیر معمولی کھیل کا مظاہرہ کرنا ہوگا، انھوں نے کہا کہ سپر10 مرحلے میں ہر اسکواڈ حریفوں کو زیر کرنے کی بھرپور صلاحیت کے ساتھ میدان میں اترے گا، مختصر فارمیٹ کے سبب پیشگوئی کرنا مشکل ہے لیکن جو ٹیم میچ میں بدلتی صورتحال سے فائدہ اٹھانے میں کامیاب رہی فتح اسی کے قدم چومے گی۔ انھوں نے کہاکہ پاکستان کے پاس بہترین بیٹسمین اور بولرز موجود ہیں،ہم کسی بھی ٹیم کو شکست دینے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں لیکن صلاحیتوں کا بھرپور اظہار کیے بغیر منزل تک پہنچنا ممکن نہیں ہوگا۔معین خان نے کہا کہ وکٹ کیپنگ میں غلطیاں ہورہی ہیں، اس کیلیے کوئی عذر بھی نہیں پیش کیا جاسکتا تاہم مسلسل پریکٹس سے ہی مسائل بتدریج کم ہونگے۔
چیف کوچ نے کہا کہ کامران اکمل کی واپسی سے اس شعبے میں فرق پڑے گا، ضرورت محسوس ہوئی تو ان کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھائیں گے، بیٹنگ پوزیشن کے سوال پر انھوں نے کہا کہ وکٹ کیپر ماضی میں ٹاپ اور مڈل آرڈر میں کھیل چکے،اسی افادیت کی وجہ سے ان کا انتخاب کیا گیا، شاہد آفریدی اپنے نمبر پر بیٹنگ کرینگے تاہم کسی حریف نے بڑا سکور کردیا تو ضرورت کے مطابق ان کا بیٹنگ آرڈر تبدیل بھی کیا جاسکتا ہے۔ بیٹنگ کنسلٹنٹ ظہیر عباس نے کہا کہ خامیاں ایک دن میں دور نہیں ہوسکتیں، برسوں پرانے امراض کو ٹھیک ہونے میں وقت لگتا ہے لیکن کچھ بہتری آنا شروع ہوگئی،گرین شرٹس ہدف کا تعاقب کرتے ہوئے گھبراہٹ کا شکار ہوجاتے تھے۔
ایشیا کپ میں ہم نے اس حوالے سے کافی بہتر کار کردگی دکھائی، بلند عزائم اور اچھی توقعات کے ساتھ ایونٹ میں شرکت کیلیے جا رہے ہیں، تینوں شعبوں میں اچھا پرفارم کرنا ہوگا، سب سے اہم بات یہ ہے کہ ایشائی مقابلوں میں انجریز نے خاصا پریشان کیا،اس بار امید ایسے مسائل سامنے نہیں آئے تو امید ہے کہ ٹیم اچھے نتائج دیگی۔ شعیب محمد نے کہا کہ فیلڈنگ بہتر بنانے کیلیے کم وقت میں زیادہ کوشش کی،اچھا فیلڈر بننے کیلیے جسم میں ضروری لچک اور کھلاڑی کی انفرادی سوچ کا بھی بڑا عمل دخل ہوتا ہے، وارم اپ میچز اور پریکٹس سیشن میںخامیوں پر قابو پانے کی پوری کوشش کرینگے،انھوں نے کہا کہ ایک کیچ ڈراپ ہونے سے میچ ہاتھ سے نکل جاتا ہے، کھلاڑیوں کو یہ احساس دلارہے ہیں، آہستہ آہستہ رویوں اور کارکردگی میں بہتری آتی جائے گی۔ واضح رہے کہ ورلڈ ٹی ٹوئنٹی16 مارچ سے بنگلہ دیش میں شروع ہو گا، پاکستان کا پہلا میچ 21 تاریخ کو روایتی حریف بھارت سے ہونا ہے۔