میوزیکل کنسرٹ بنگلہ دیشی کرکٹ بورڈ اور دیگر فیڈریشنز میں ٹھن گئی
سیکیورٹی کے نام پر دیگر اسپورٹس آفیشلز پر اپنے ہی دفاتر کے دروازے بند کردیے گئے
آئی سی سی کا کوئی تعلق نہیں یہ بی سی بی کا اپنا موسیقی کا میلہ تھا، فٹبال آفیشل۔ فوٹو: فائل
بنگہ بندھو اسٹیڈیم میں میوزیکل کنسرٹ پر بنگلہ دیشی کرکٹ بورڈ اور دیگر فیڈریشنز میں ٹھن گئی، سیکیورٹی کے نام پر بی سی بی نے دیگر اسپورٹس آفیشلز پر ان کے اپنے ہی دفاتر کے دروازے بند کردیے۔
ہر فیڈریشن کو دی گئی پروگرام کی صرف ایک ٹکٹ نے جلتی پر تیل کا کام کیا۔ تفصیلات کے مطابق ورلڈ ٹوئنٹی 20 کے حوالے سے بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ نے گذشتہ روز بنگہ بندھو اسٹیڈیم میں ایک میوزیکل کنسرٹ کا اہتمام کیا، اس دوران سیکیورٹی کے نام پر بی سی بی نے اس اسٹیڈیم سے ان فیڈریشنز کو ہی بیدخل کردیا جن کے یہاں پر دفاتر تھے، فیصلے پر خصوصاً فٹبال فیڈریشن نے سخت برہمی کا اظہار کیا جس کا یہ اپنا گرائونڈ ہے۔ بی ایف ایف کے نائب صدر بادل رائے نے کہاکہ بی سی بی اور وزات کھیل نے ہمیں بتایا کہ وہ بنگہ بندھو نیشنل اسٹیڈیم پر ورلڈ ٹوئنٹی 20 کی افتتاحی تقریب منعقد کرنا چاہتے ہیں، یہ تو ہمیں بعد میں علم ہوا کہ آئی سی سی کا اس سے کوئی تعلق نہیں۔
یہ بورڈ کا اپنا موسیقی کا میلہ اور ہماری فٹبال کو تباہ کرنے کی سازش ہے، اس سے پلیئنگ ایریا کو شدید نقصان پہنچے گا، اس پروگرام سے صرف کرکٹ کے بڑے آرگنائزرز کو رقم بنانے کا موقع میسر آئے گا، جب بھی بی سی بی نے ہم سے یہ اسٹیڈیم مانگا ہم نے انھیں مثبت جواب دیا، ورلڈ کپ 2011 سے 8 ماہ پہلے ہی ہم نے اسٹیڈیم انھیں دے دیا تھا،پھر جب ارجنٹائن کی ٹیم یہاں پر آئی اور ہم نے پریکٹس سیشن کیلیے شیر بنگلہ اسٹیڈیم دینے کی درخواست کی تو بورڈ نے صاف انکار کردیا تھا۔ اسی اسٹیڈیم میں ہاکی فیڈریشن کا بھی دفتر ہے، صبح جب آفیشلز یہاں پہنچے تو ان کو بھی روک دیا گیا، یہی سلوک ہینڈ بال فیڈریشن کے ساتھ بھی کیا گیا، جس کے سیکریٹری اسد الزمان کا کہنا ہے کہ ایک تو ہمیں اپنے ہی آفس میں جانے سے روک دیا گیا ساتھ ہی ہر فیڈریشن کو گیلری کی صرف ایک ٹکٹ دی گئی جو ہماری توہین ہے، اس سے قبل کبھی ایسا نہیں ہوا کہ فیڈریشن آفیشلز نے اس قسم کا کوئی پروگرام گیلری میں بیٹھ کر دیکھا ہو۔
ہر فیڈریشن کو دی گئی پروگرام کی صرف ایک ٹکٹ نے جلتی پر تیل کا کام کیا۔ تفصیلات کے مطابق ورلڈ ٹوئنٹی 20 کے حوالے سے بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ نے گذشتہ روز بنگہ بندھو اسٹیڈیم میں ایک میوزیکل کنسرٹ کا اہتمام کیا، اس دوران سیکیورٹی کے نام پر بی سی بی نے اس اسٹیڈیم سے ان فیڈریشنز کو ہی بیدخل کردیا جن کے یہاں پر دفاتر تھے، فیصلے پر خصوصاً فٹبال فیڈریشن نے سخت برہمی کا اظہار کیا جس کا یہ اپنا گرائونڈ ہے۔ بی ایف ایف کے نائب صدر بادل رائے نے کہاکہ بی سی بی اور وزات کھیل نے ہمیں بتایا کہ وہ بنگہ بندھو نیشنل اسٹیڈیم پر ورلڈ ٹوئنٹی 20 کی افتتاحی تقریب منعقد کرنا چاہتے ہیں، یہ تو ہمیں بعد میں علم ہوا کہ آئی سی سی کا اس سے کوئی تعلق نہیں۔
یہ بورڈ کا اپنا موسیقی کا میلہ اور ہماری فٹبال کو تباہ کرنے کی سازش ہے، اس سے پلیئنگ ایریا کو شدید نقصان پہنچے گا، اس پروگرام سے صرف کرکٹ کے بڑے آرگنائزرز کو رقم بنانے کا موقع میسر آئے گا، جب بھی بی سی بی نے ہم سے یہ اسٹیڈیم مانگا ہم نے انھیں مثبت جواب دیا، ورلڈ کپ 2011 سے 8 ماہ پہلے ہی ہم نے اسٹیڈیم انھیں دے دیا تھا،پھر جب ارجنٹائن کی ٹیم یہاں پر آئی اور ہم نے پریکٹس سیشن کیلیے شیر بنگلہ اسٹیڈیم دینے کی درخواست کی تو بورڈ نے صاف انکار کردیا تھا۔ اسی اسٹیڈیم میں ہاکی فیڈریشن کا بھی دفتر ہے، صبح جب آفیشلز یہاں پہنچے تو ان کو بھی روک دیا گیا، یہی سلوک ہینڈ بال فیڈریشن کے ساتھ بھی کیا گیا، جس کے سیکریٹری اسد الزمان کا کہنا ہے کہ ایک تو ہمیں اپنے ہی آفس میں جانے سے روک دیا گیا ساتھ ہی ہر فیڈریشن کو گیلری کی صرف ایک ٹکٹ دی گئی جو ہماری توہین ہے، اس سے قبل کبھی ایسا نہیں ہوا کہ فیڈریشن آفیشلز نے اس قسم کا کوئی پروگرام گیلری میں بیٹھ کر دیکھا ہو۔