بھاری ریونیو شارٹ فال ٹیکس ہدف 130 ارب روپے کم کیے جانے کا امکان
8 ماہ میں 80 ارب کاشارٹ فال ہے،ہدف پرنظرثانی، 2475 ارب سے گھٹا کر 2345 کردیا جائے گا، اصولی فیصلہ ہوگیا
چیئرمین ایف بی آر نے صوبائی سیکریٹریز خزانہ سے بقیہ ماہ کی ریونیو پلاننگ متوقع ہدف کے تحت کرنے کا کہہ دیا، دستاویز فوٹو: فائل
لاہور:
رواں مالی سال کے پہلے 8 ماہ (جولائی تا فروری) کے دوران 80 ارب روپے سے زائد کے ریونیو شارٹ فال کی وجہ سے ٹیکس وصولیوں کا ہدف 130 ارب روپے کی کمی سے 2345 ارب روپے مقررکرنے کا اصولی فیصلہ کیا ہے۔
''ایکسپریس'' کو دستیاب دستاویز کے مطابق چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے سیکریٹریز کمیٹی کے گزشتہ اجلاس میں صوبائی سیکریٹریز خزانہ کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ رواں مالی سال کیلیے مقررہ 2475 ارب روپے کی ٹیکس وصولیوں کا ہدف چونکہ گزشتہ مالی سال میں متوقع 2050 ارب روپے کی وصولیوں کی بنیاد پر مقرر کیا گیا تھا لیکن مالی سال 2012-13 کے دوران 2050 ارب روپے کے بجائے 1946ارب روپے کی ٹیکس وصولیاں ہوئییں جو مذکورہ مقررہ ہدف سے 104 ارب روپے کم ہیں اس لیے اس بات کو مد نظر رکھتے ہوئے رواں مالی سال کے ٹیکس ہدف پر نظر ثانی کی توقع ہے اور نیا ہدف 2345 ارب روپے مقرر کیے جانے کی توقع ہے۔
انہوں نے صوبائی سیکریٹریز خزانہ سے کہا کہ وہ بھی رواں مالی سال کے باقی ماندہ مہینوں کے لیے اپنی ریونیو و مالیاتی پلاننگ ایف بی آر کے متوقع نظرثانی شدہ ہدف کے تناظر میں کریں کیونکہ رواں مالی سال کے دوران قابل ڈیوٹی اشیا کی درآمد میں کمی واقع ہوئی ہے جس کی وجہ سے کسٹمز ڈیوٹی کی مد میں وصولیوں میں بھی کمی ہوئی ہے جبکہ صوبوں کی طرف سے ٹیلی کام سیکٹر پر جی ایس ٹی کے نفاذ اور وصولی کے باعث ایف بی آر نے ٹیلی کام سیکٹر سے وصولیاں بھی بند کردی ہیں جس کے باعث فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی مد میں بھی وصولیاں کم ہو رہی ہیں کیونکہ ٹیلی کام سیکٹر سے فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی (ایف ای ڈی) موڈ میں سیلز ٹیکس وصول کیا جاتا تھا جو صوبوں کی طرف سے وصول کرنے کے بعد ایف بی آر کی طرف سے وصولی روک دی گئی ہے۔
رواں مالی سال کے پہلے 8 ماہ (جولائی تا فروری) کے دوران 80 ارب روپے سے زائد کے ریونیو شارٹ فال کی وجہ سے ٹیکس وصولیوں کا ہدف 130 ارب روپے کی کمی سے 2345 ارب روپے مقررکرنے کا اصولی فیصلہ کیا ہے۔
''ایکسپریس'' کو دستیاب دستاویز کے مطابق چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے سیکریٹریز کمیٹی کے گزشتہ اجلاس میں صوبائی سیکریٹریز خزانہ کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ رواں مالی سال کیلیے مقررہ 2475 ارب روپے کی ٹیکس وصولیوں کا ہدف چونکہ گزشتہ مالی سال میں متوقع 2050 ارب روپے کی وصولیوں کی بنیاد پر مقرر کیا گیا تھا لیکن مالی سال 2012-13 کے دوران 2050 ارب روپے کے بجائے 1946ارب روپے کی ٹیکس وصولیاں ہوئییں جو مذکورہ مقررہ ہدف سے 104 ارب روپے کم ہیں اس لیے اس بات کو مد نظر رکھتے ہوئے رواں مالی سال کے ٹیکس ہدف پر نظر ثانی کی توقع ہے اور نیا ہدف 2345 ارب روپے مقرر کیے جانے کی توقع ہے۔
انہوں نے صوبائی سیکریٹریز خزانہ سے کہا کہ وہ بھی رواں مالی سال کے باقی ماندہ مہینوں کے لیے اپنی ریونیو و مالیاتی پلاننگ ایف بی آر کے متوقع نظرثانی شدہ ہدف کے تناظر میں کریں کیونکہ رواں مالی سال کے دوران قابل ڈیوٹی اشیا کی درآمد میں کمی واقع ہوئی ہے جس کی وجہ سے کسٹمز ڈیوٹی کی مد میں وصولیوں میں بھی کمی ہوئی ہے جبکہ صوبوں کی طرف سے ٹیلی کام سیکٹر پر جی ایس ٹی کے نفاذ اور وصولی کے باعث ایف بی آر نے ٹیلی کام سیکٹر سے وصولیاں بھی بند کردی ہیں جس کے باعث فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی مد میں بھی وصولیاں کم ہو رہی ہیں کیونکہ ٹیلی کام سیکٹر سے فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی (ایف ای ڈی) موڈ میں سیلز ٹیکس وصول کیا جاتا تھا جو صوبوں کی طرف سے وصول کرنے کے بعد ایف بی آر کی طرف سے وصولی روک دی گئی ہے۔