صوبوں کو فنڈز منتقلی ٹیکس ڈیٹا مربوط بنانے کا وقت کم کیا جائیگا
ادائیگیوں میں تاخیرکی شکایت پرری کنسیلیشن پیریڈ 15 تا 20 دن کرنے کا فیصلہ
اعدادوشماردیگراداروں سے ہم آہنگ بنانے میںوقت لگنے سے تاخیرہوتی ہے، چیئرمین ایف بی آر فوٹو : فائل
وفاقی حکومت نے قابل تقسیم محاصل کی صوبوں میں تقسیم اور واجبات کی ادائیگی کیلیے اے جی پی آر اور اسٹیٹ بینک سمیت دیگر اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ ٹیکس وصولیوں کے اعدادوشمار کو ہم آہنگ کرنے کا دورانیہ 15 سے 20 دن تک لانے کا فیصلہ کیا ہے۔
''ایکسپریس'' کو دستیاب دستاویز کے مطابق سیکریٹریز کمیٹی کے حالیہ اجلاس میں بتایا گیا کہ این ایف سی ایوارڈ کے تحت رواں مالی سال کے پہلے 8 ماہ (جولائی تا فروری) کی مدت کے لیے تمام صوبوں کو کی جانیوالی مالی منتقلیاں تسلی بخش ہیں اور اس حوالے سے اعدادوشمار میں کوئی تضاد نہیں پایا گیا۔ دستاویز کے مطابق اجلاس میں سندھ کے سیکریٹری خزانہ سہیل راجپوت نے واجبات کی ادائیگیوں میں تاخیر کی طرف توجہ دلاتے ہوئے کہا کہ وفاق کی طرف سے این ایف سی کے واجبات کی بروقت ادائیگی نہیں کی جارہی ہے جس پر چیئرمین ایف بی آر طارق باجوہ نے بتایا کہ وزارت خزانہ کو 15 روزہ بنیادوں پر ریونیو کے عبوری اعدادوشمار بھجوائے جاتے ہیں۔
ٹیکس وصولیوں کے اعدادوشمار کو اسٹیٹ بینک آف پاکستان، اے جی پی آر اور نیشنل بینک آف پاکستان سمیت دیگر اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مربوط بنانے اورمشاورت میں کافی وقت لگ جاتا ہے جس کی وجہ سے تاخیر ہوتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ایف بی آر کوشش کر رہا ہے کہ ریونیو اعدادوشمار کی ری کنسیلیشن کے پیریڈ کو جتنا ممکن ہوسکے کم سے کم کیا جاسکے تاہم انہوں نے زور دیا کہ ریونیو اعدادوشمار کی متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ ری کنسیلیشن کی مدت 15 سے 20 دن تک رہنی چاہیے۔
''ایکسپریس'' کو دستیاب دستاویز کے مطابق سیکریٹریز کمیٹی کے حالیہ اجلاس میں بتایا گیا کہ این ایف سی ایوارڈ کے تحت رواں مالی سال کے پہلے 8 ماہ (جولائی تا فروری) کی مدت کے لیے تمام صوبوں کو کی جانیوالی مالی منتقلیاں تسلی بخش ہیں اور اس حوالے سے اعدادوشمار میں کوئی تضاد نہیں پایا گیا۔ دستاویز کے مطابق اجلاس میں سندھ کے سیکریٹری خزانہ سہیل راجپوت نے واجبات کی ادائیگیوں میں تاخیر کی طرف توجہ دلاتے ہوئے کہا کہ وفاق کی طرف سے این ایف سی کے واجبات کی بروقت ادائیگی نہیں کی جارہی ہے جس پر چیئرمین ایف بی آر طارق باجوہ نے بتایا کہ وزارت خزانہ کو 15 روزہ بنیادوں پر ریونیو کے عبوری اعدادوشمار بھجوائے جاتے ہیں۔
ٹیکس وصولیوں کے اعدادوشمار کو اسٹیٹ بینک آف پاکستان، اے جی پی آر اور نیشنل بینک آف پاکستان سمیت دیگر اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مربوط بنانے اورمشاورت میں کافی وقت لگ جاتا ہے جس کی وجہ سے تاخیر ہوتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ایف بی آر کوشش کر رہا ہے کہ ریونیو اعدادوشمار کی ری کنسیلیشن کے پیریڈ کو جتنا ممکن ہوسکے کم سے کم کیا جاسکے تاہم انہوں نے زور دیا کہ ریونیو اعدادوشمار کی متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ ری کنسیلیشن کی مدت 15 سے 20 دن تک رہنی چاہیے۔