اسٹیٹ بینک کے خوش کن اعداد و شمار
مرکزی بینک کے پاس 6 جنوری 2014 میں زرمبادلہ کے ذخائر 3.2 ارب ڈالر تھے جو 7 مارچ 2014 کو بڑھ کر 4.6 ارب ڈالرتک پہنچ گئے
سب سے زیادہ براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری تیل و گیس کی تلاش کے شعبے میں کی گئی جس کی مالیت 29 کروڑ 62 لاکھ ڈالر رہی۔ فوٹو: فائل
لاہور:
اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے ملکی معاشی صورت حال کے بارے میں خوش کن مانیٹری پالیسی کا اعلان کیا اور حکومتی اقدامات پر اظہار اطمینان کرتے ہوئے کہا ہے کہ پچھلے چند ماہ کے دوران تمام معاشی اظہاریوں میں مطلوبہ سمت میں مثبت تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں۔ اسٹیٹ بینک نے آیندہ دو ماہ کے لیے مانیٹری پالیسی کا اعلامیہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ گزشتہ چند ماہ کے دوران مہنگائی میں کمی ہوئی ہے، بڑے پیمانے پر اشیا سازی کی نمو مضبوط رہی ہے، اسی طرح مالی سال کی پہلی ششماہی میں مالیاتی خسارہ قابو میں رہا جب کہ نجی شعبے کے قرضے میں اضافہ ہوا۔
امریکی ڈالر کی نسبت روپے کی قدر میں اضافہ ہونے کے باوجود اسٹیٹ بینک نے شرح سود دس فیصد برقرار رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ خوش آیند امر یہ ہے کہ زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہوا ہے۔ مرکزی بینک کے پاس 6 جنوری 2014 میں زرمبادلہ کے ذخائر 3.2 ارب ڈالر تھے جو 7 مارچ 2014 کو بڑھ کر 4.6 ارب ڈالر تک پہنچ گئے۔ اسی طرح روپے کی قدر مستحکم ہونے اور مالیاتی خسارہ کم ہونے سے ملکی معیشت پر مجموعی طور پر خوش آیند اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ اسٹیٹ بینک کے اس خوش نما اعلامیہ میں مہنگائی میں کمی کی نوید سنائی گئی ہے لیکن تجارتی مارکیٹ کا جائزہ لیا جائے تو روزمرہ اشیا کی قیمتوں میں کمی کے آثار کہیں دکھائی نہیں پڑتے۔ انڈے جو سخت سردیوں میں سو روپے اور اس سے کم نرخوں پر فروخت ہوتے رہے اب جب سردیاں اختتام پذیر اور گرمیوں کی آمد کا نقارہ بج رہا ہے، انڈوں کی قیمت سو روپے سے تجاوز کر گئی ہے۔ اسی طرح مرغی کا گوشت بھی گزشتہ ایک ماہ کے دوران مہنگا ہوا ہے۔
سبزیوں اور دالوں کی قیمتوں میں بھی کوئی کمی نہیں آئی۔دوسری جانب حکومت نے بجلی کے نرخوں میں اضافہ کر دیا ہے۔ اس کا جو اضافی بوجھ عام صارفین پر پڑے گا اس کا اظہار بجلی کے بڑھتے ہوئے بلوں کو دیکھ کر عوامی ناپسندیدگی کی صورت میں ہو جائے گا۔ مہنگائی کہاں کم ہوئی، روزمرہ کی کون سی اشیا ستی ہوئیں وہ وضاحت طلب ہے۔ مجموعی طور پر عام آدمی کی زندگی میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔ ادویات ابھی تک ویسی کی ویسی مہنگی ہیں، تعلیمی اخراجات بھی روز افزوں ہیں۔ اب جو زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہوا ہے وہ حکومتی معاشی ''ترقی'' کا ثمر نہیں بلکہ وہ غیرملکی امداد ہے جس سے زرمبادلہ کے ذخائر کو تقویت ملی ہے۔ جس کے بارے میں وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ دوست ممالک کی جانب سے پاکستان ڈویلپمنٹ فنڈ کے تحت ڈیڑھ ارب ڈالر کی رقم ملی ہے۔ ہاں! اگر کمی ہوئی ہے تو وہ پٹرول کی قیمت میں چند روپے کی ہے۔ معاشی منظرنامے میں جہاں مہنگائی میں کمی نظر نہیں آتی وہاں حکومت کو یہ کریڈٹ بھی جاتا ہے کہ وہ بگڑے ہوئے معاشی نظام کو بہتر بنانے کے لیے انتھک کوششیں کر رہی ہے۔
اسی کوشش کا ماحصل ہے کہ اگر مہنگائی کم نہیں ہوئی تو وہ بڑھی بھی نہیں اور عوام پر کوئی اضافی بوجھ نہیں پڑا۔ توانائی کا بحران پوری شدت سے جاری ہے اور لوڈشیڈنگ میں بتدریج اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ اگرچہ حکومت توانائی بحران پر قابو پانے کے لیے مناسب منصوبہ بندی کر رہی ہے، چین کے تعاون سے توانائی کے منصوبے شروع ہو چکے ہیں۔ چونکہ توانائی کے منصوبوں کے لیے بھاری سرمایہ کاری کی ضرورت اور ان کی تکمیل کے لیے ایک عرصہ درکار ہوتا ہے، اس لیے توانائی بحران پر قابو پانے میں ابھی چند سال لگیں گے۔ اسٹیٹ بینک کے اعداد و شمار کے مطابق رواں مالی سال کے پہلے آٹھ ماہ کے دوران براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری میں 18 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ جولائی تا فروری کے دوران براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری 9 کروڑ 21لاکھ ڈالر کے اضافے سے 60 کروڑ 63 لاکھ ڈالر رہی۔
سب سے زیادہ براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری تیل و گیس کی تلاش کے شعبے میں کی گئی جس کی مالیت 29 کروڑ 62 لاکھ ڈالر رہی۔ اس وقت بجلی اور گیس کا بحران گھریلو زندگی کے علاوہ صنعتی اور تجارتی سرگرمیوں کو شدید متاثر کر رہا ہے۔ حکومت کو بھی اس امر کا بخوبی ادراک ہے کہ جب تک توانائی کا بحران حل نہیں ہوتا ملکی ترقی ممکن نہیں۔ یہی سبب ہے کہ حکومت تیل و گیس کی تلاش پر بہت توجہ دے رہی اور غیرملکی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کر رہی ہے۔ توانائی کی ملکی ضروریات پوری کرنے کے لیے حکومت کو تیل کی درآمد پر خطیر رقم خرچ کرنا پڑ رہی ہے جس سے ملکی معیشت پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ اس لیے چھوٹے اور بڑے ڈیم بنانے کی اشد ضرورت ہے کیونکہ اس سے جہاں درآمد شدہ تیل کا حصہ کم کر کے تجارتی خسارہ گھٹانے میں مدد ملے گی وہاں سستی بجلی پیدا اور آبی ذخائر کی صورت حال بہتر ہونے سے صنعتی، تجارتی اور زرعی شعبے کو مہمیز ملے گی اور وہ ترقی کی جانب رواں دواں ہوں گے۔
اسٹیٹ بینک کے اعلامیہ کے مطابق حکومت کی بہتر معاشی پالیسیوں کے سبب صنعتی اور تجارتی حلقے کا اس پر اعتماد بڑھا ہے اور وہ مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں جس کے باعث بڑے پیمانے پر اشیا سازی کی نمو روزبروز مضبوط ہو رہی ہے۔ ہفتے کو وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے اقتصادی کونسل کی ایگزیکٹو کمیٹی (ایکنک) اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ٹیکس وصولی میں 17.7 فیصد اضافہ ہوا ہے جب کہ شرح نمو میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ ٹیکس کا نظام بہتر بنانے سے اس کی وصولی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے جس سے حکومت کو ترقیاتی منصوبے شروع کرنے میں آسانی ہو گی۔ زیادہ سے زیادہ ٹیکنیکل ادارے قائم کرنے پر توجہ دی جانی چاہیے کیونکہ اندرون اور بیرون ملک ہنرمند افراد ملکی ترقی میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اسٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسی میں دکھائے گئے معاشی اظہاریئے حکومتی اقدامات پر اعتماد کا واضح اظہار ہیں۔ امید ہے موجودہ حکومت جلد ملکی معاشی مسائل حل کرنے میں کامیاب ہو جائے گی۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے ملکی معاشی صورت حال کے بارے میں خوش کن مانیٹری پالیسی کا اعلان کیا اور حکومتی اقدامات پر اظہار اطمینان کرتے ہوئے کہا ہے کہ پچھلے چند ماہ کے دوران تمام معاشی اظہاریوں میں مطلوبہ سمت میں مثبت تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں۔ اسٹیٹ بینک نے آیندہ دو ماہ کے لیے مانیٹری پالیسی کا اعلامیہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ گزشتہ چند ماہ کے دوران مہنگائی میں کمی ہوئی ہے، بڑے پیمانے پر اشیا سازی کی نمو مضبوط رہی ہے، اسی طرح مالی سال کی پہلی ششماہی میں مالیاتی خسارہ قابو میں رہا جب کہ نجی شعبے کے قرضے میں اضافہ ہوا۔
امریکی ڈالر کی نسبت روپے کی قدر میں اضافہ ہونے کے باوجود اسٹیٹ بینک نے شرح سود دس فیصد برقرار رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ خوش آیند امر یہ ہے کہ زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہوا ہے۔ مرکزی بینک کے پاس 6 جنوری 2014 میں زرمبادلہ کے ذخائر 3.2 ارب ڈالر تھے جو 7 مارچ 2014 کو بڑھ کر 4.6 ارب ڈالر تک پہنچ گئے۔ اسی طرح روپے کی قدر مستحکم ہونے اور مالیاتی خسارہ کم ہونے سے ملکی معیشت پر مجموعی طور پر خوش آیند اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ اسٹیٹ بینک کے اس خوش نما اعلامیہ میں مہنگائی میں کمی کی نوید سنائی گئی ہے لیکن تجارتی مارکیٹ کا جائزہ لیا جائے تو روزمرہ اشیا کی قیمتوں میں کمی کے آثار کہیں دکھائی نہیں پڑتے۔ انڈے جو سخت سردیوں میں سو روپے اور اس سے کم نرخوں پر فروخت ہوتے رہے اب جب سردیاں اختتام پذیر اور گرمیوں کی آمد کا نقارہ بج رہا ہے، انڈوں کی قیمت سو روپے سے تجاوز کر گئی ہے۔ اسی طرح مرغی کا گوشت بھی گزشتہ ایک ماہ کے دوران مہنگا ہوا ہے۔
سبزیوں اور دالوں کی قیمتوں میں بھی کوئی کمی نہیں آئی۔دوسری جانب حکومت نے بجلی کے نرخوں میں اضافہ کر دیا ہے۔ اس کا جو اضافی بوجھ عام صارفین پر پڑے گا اس کا اظہار بجلی کے بڑھتے ہوئے بلوں کو دیکھ کر عوامی ناپسندیدگی کی صورت میں ہو جائے گا۔ مہنگائی کہاں کم ہوئی، روزمرہ کی کون سی اشیا ستی ہوئیں وہ وضاحت طلب ہے۔ مجموعی طور پر عام آدمی کی زندگی میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔ ادویات ابھی تک ویسی کی ویسی مہنگی ہیں، تعلیمی اخراجات بھی روز افزوں ہیں۔ اب جو زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہوا ہے وہ حکومتی معاشی ''ترقی'' کا ثمر نہیں بلکہ وہ غیرملکی امداد ہے جس سے زرمبادلہ کے ذخائر کو تقویت ملی ہے۔ جس کے بارے میں وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ دوست ممالک کی جانب سے پاکستان ڈویلپمنٹ فنڈ کے تحت ڈیڑھ ارب ڈالر کی رقم ملی ہے۔ ہاں! اگر کمی ہوئی ہے تو وہ پٹرول کی قیمت میں چند روپے کی ہے۔ معاشی منظرنامے میں جہاں مہنگائی میں کمی نظر نہیں آتی وہاں حکومت کو یہ کریڈٹ بھی جاتا ہے کہ وہ بگڑے ہوئے معاشی نظام کو بہتر بنانے کے لیے انتھک کوششیں کر رہی ہے۔
اسی کوشش کا ماحصل ہے کہ اگر مہنگائی کم نہیں ہوئی تو وہ بڑھی بھی نہیں اور عوام پر کوئی اضافی بوجھ نہیں پڑا۔ توانائی کا بحران پوری شدت سے جاری ہے اور لوڈشیڈنگ میں بتدریج اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ اگرچہ حکومت توانائی بحران پر قابو پانے کے لیے مناسب منصوبہ بندی کر رہی ہے، چین کے تعاون سے توانائی کے منصوبے شروع ہو چکے ہیں۔ چونکہ توانائی کے منصوبوں کے لیے بھاری سرمایہ کاری کی ضرورت اور ان کی تکمیل کے لیے ایک عرصہ درکار ہوتا ہے، اس لیے توانائی بحران پر قابو پانے میں ابھی چند سال لگیں گے۔ اسٹیٹ بینک کے اعداد و شمار کے مطابق رواں مالی سال کے پہلے آٹھ ماہ کے دوران براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری میں 18 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ جولائی تا فروری کے دوران براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری 9 کروڑ 21لاکھ ڈالر کے اضافے سے 60 کروڑ 63 لاکھ ڈالر رہی۔
سب سے زیادہ براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری تیل و گیس کی تلاش کے شعبے میں کی گئی جس کی مالیت 29 کروڑ 62 لاکھ ڈالر رہی۔ اس وقت بجلی اور گیس کا بحران گھریلو زندگی کے علاوہ صنعتی اور تجارتی سرگرمیوں کو شدید متاثر کر رہا ہے۔ حکومت کو بھی اس امر کا بخوبی ادراک ہے کہ جب تک توانائی کا بحران حل نہیں ہوتا ملکی ترقی ممکن نہیں۔ یہی سبب ہے کہ حکومت تیل و گیس کی تلاش پر بہت توجہ دے رہی اور غیرملکی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کر رہی ہے۔ توانائی کی ملکی ضروریات پوری کرنے کے لیے حکومت کو تیل کی درآمد پر خطیر رقم خرچ کرنا پڑ رہی ہے جس سے ملکی معیشت پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ اس لیے چھوٹے اور بڑے ڈیم بنانے کی اشد ضرورت ہے کیونکہ اس سے جہاں درآمد شدہ تیل کا حصہ کم کر کے تجارتی خسارہ گھٹانے میں مدد ملے گی وہاں سستی بجلی پیدا اور آبی ذخائر کی صورت حال بہتر ہونے سے صنعتی، تجارتی اور زرعی شعبے کو مہمیز ملے گی اور وہ ترقی کی جانب رواں دواں ہوں گے۔
اسٹیٹ بینک کے اعلامیہ کے مطابق حکومت کی بہتر معاشی پالیسیوں کے سبب صنعتی اور تجارتی حلقے کا اس پر اعتماد بڑھا ہے اور وہ مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں جس کے باعث بڑے پیمانے پر اشیا سازی کی نمو روزبروز مضبوط ہو رہی ہے۔ ہفتے کو وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے اقتصادی کونسل کی ایگزیکٹو کمیٹی (ایکنک) اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ٹیکس وصولی میں 17.7 فیصد اضافہ ہوا ہے جب کہ شرح نمو میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ ٹیکس کا نظام بہتر بنانے سے اس کی وصولی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے جس سے حکومت کو ترقیاتی منصوبے شروع کرنے میں آسانی ہو گی۔ زیادہ سے زیادہ ٹیکنیکل ادارے قائم کرنے پر توجہ دی جانی چاہیے کیونکہ اندرون اور بیرون ملک ہنرمند افراد ملکی ترقی میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اسٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسی میں دکھائے گئے معاشی اظہاریئے حکومتی اقدامات پر اعتماد کا واضح اظہار ہیں۔ امید ہے موجودہ حکومت جلد ملکی معاشی مسائل حل کرنے میں کامیاب ہو جائے گی۔