افغان صدر کا امریکی افواج کی عدم احتیاج کا اعلان

صدر کرزئی افغانستان پر حکمرانی کے آخری ایام گزار رہے ہیں۔ اب چونکہ وہ اقتدار کے کھیل سے باہر ہو رہے ہیں

حامد کرزئی اس قسم کی باتیں کر کے افغانستان میں ہیرو بننے کی کوشش کر رہے ہیں اور پاکستان کے خلاف بیان بازی بھی اس سلسلے کی کڑی ہے۔ فوٹو: فائل

امریکی صدر بارک اوباما کے وعدے کے مطابق افغانستان سے امریکی فوجوں کے انخلاء کا وقت جو سال رواں کے آخر تک مقرر کیا گیا ہے بتدریج قریب سے قریب تر آ رہا ہے اور اگر واقعی امریکا کے اولین سیاہ فام صدر اپنے اس وعدے پر عمل کر پاتے ہیں تو پھر افغانستان میں طاقت کا ایک ایسا خلاء پیدا ہو جائے گا جسے پر کرنے کے لیے گرد و پیش کی تمام قوتیں گویا کسی مقناطیسی طاقت سے اس خلاء کی طرف کھنچی چلی آئیں گی لیکن اس وقت کے آنے سے قبل افغان صدر حامد کرزئی نے اعلان کر دیا ہے کہ افغانستان کو امریکی افواج کی ضرورت نہیں ہے جب کہ اسی افتتاحی جملے کے دوسرے نصف میں انھوں نے پاکستان پر طالبان لیڈروں کو تحفظ فراہم کرنے کا سنگ دشنام اچھال دیا ہے۔ افغان صدر کا یہ بیان اس بناء پر بھی اہمیت کا حامل ہے کہ انھوں نے یہ باتیں افغان پارلیمنٹ کے اختتامی اجلاس میں کہیں۔


ان کا کہنا تھا کہ اس سال کے آخر تک امریکی فوج کو واپس روانہ ہو جانا چاہیے کیونکہ اب افغانستان کی اپنی فوج سیکیورٹی کی ذمے داریاں سنبھالنے کے قابل ہو چکی ہے بلکہ اس نے ملک کے 93 فیصد علاقے کی سیکیورٹی پہلے ہی سنبھال لی ہے۔ صدر کرزئی نے مزید کہا کہ امریکی افواج کے مکمل انخلاء کے بعد افغانستان امریکا سے احتیاطاً کچھ محدود تعداد میں فوج افغانستان میں رکھنے کے ایک الگ معاہدے پر دستخط کرے گا۔ اس کے ساتھ ہی انھوں نے دیگر ممالک کو انتباہ کیا کہ وہ افغانستان کے معاملات میں مداخلت کی کوئی کوشش نہ کریں۔ انھوں نے کہا افغانستان کے لوگوں پر جنگ باہر سے مسلط کی گئی۔ صدر کرزئی نے امریکی انخلاء کے بعد افغانستان میں دہشت گردی کی کارروائیاں شروع ہونے کا خدشہ بھی ظاہر کیا اور اس ضمن میں ایک بار پھر ان کی نظر اپنے جنوب مشرقی ہمسائے پاکستان پر ہی اٹھ رہی تھی۔

صدر کرزئی افغانستان پر حکمرانی کے آخری ایام گزار رہے ہیں۔ اب چونکہ وہ اقتدار کے کھیل سے باہر ہو رہے ہیں، اس لیے امریکا کے خلاف بیان بازی بھی کر رہے ہیں۔ ایک جانب انھیں افغانستان میں امریکی افواج کی ضرورت بھی محسوس نہیں ہوتی تو دوسری طرف وہ وہاں محدود تعداد میں امریکی فوج کی موجودگی بھی چاہتے ہیں حالانکہ افغانستان سے امریکی فوج کے انخلاء کے پروگرام میں پہلے سے ہی یہ طے ہے کہ محدود تعداد میں امریکی فوج افغانستان میں موجود رہے گی۔ حامد کرزئی اس قسم کی باتیں کر کے افغانستان میں ہیرو بننے کی کوشش کر رہے ہیں اور پاکستان کے خلاف بیان بازی بھی اس سلسلے کی کڑی ہے۔
Load Next Story