پولیس نمبر پلیٹ لگی گاڑیاں جرائم پیشہ افراد استعمال کرنے لگے
پولیس اور رینجرز پولیس مونوگرام اور نام لگی گاڑیاں و موٹر سائیکلیں نہیں روکتے،گاڑیوں کا پولیس سے کوئی تعلق نہیں
ناظم آباد سے گزرنے والی پرائیویٹ گاڑی پر رجسٹریشن نمبر موجود نہیں جبکہ نمبر پلیٹ کی جگہ سندھ پولیس لکھا ہے۔ فوٹو: ایکسپریس
شہر میں ٹارگٹ کلنگ ، بھتہ خوری، اغوا برائے تاوان اور دہشت گردی کی جاری وارداتوں کے دوران پراسرار طور پر پولیس کی نمبر پلیٹ لگی گاڑیاں کھلے عام سڑکوں پر گھوم رہی ہیں اسنیپ چیکنگ کرنے والے پولیس اہلکار ایسی گاڑیوں کو نہیں روکتے، شہر بھر میں صرف گاڑیاں ہی نہیں پولیس کے مونوگرام لگی موٹر سائیکلیں بھی آزادانہ گھوم رہی ہیں جن کا پولیس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
تفصیلات کے مطابق پولیس حکام کی جانب سے فینسی نمبر پلیٹ لگی گاڑیوں کے خلاف کئی بار مہم شروع کی گئی جس میں شہریوں کو ذرائع ابلاغ کے ذریعے پابند کیا جاتا رہا کہ وہ اپنی گاڑیوں پر لگی فینسی پلیٹ اتار کر ایکسائز پولیس کی جانب سے جاری کی گئی اصل نمبر پلیٹ لگائیں بصورت دیگر ان کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی اور اس مہم کے دوران پولیس افسران پر مشتمل ٹیمیں شہر کی مختلف شاہراہوں پر چیکنگ کے دوران ایسی گاڑیوں جن پر فنیسی نمبر پلیٹ لگی ہوتی انھیں روک کر نہ صرف ان کے ڈرائیوروں کے خلاف چالان کیے جاتے رہے بلکہ گاڑیاں بھی بند کی گئیں تاہم شہر میں ایسی سیکڑوں گاڑیاں شاہراہوں پر کھلے عام چل رہی ہیں جن پر رجسٹریشن نمبر پلیٹ کے بجائے سندھ پولیس کی نمبر پلیٹ آویزاں ہوتی ہے ایسی گاڑیوں کو اسنیپ چیکنگ کرنے والے پولیس اور رینجرز اہلکار نہیں روکتے جبکہ عام شہریوں سے اسنیپ چیکنگ کے دوران سوالات کی بوچھاڑ کردی جاتی ہے۔
پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ شہر میں ایسی گاڑیاں جو یلو کیب اسکیم کے تحت نادہندہ (ڈیفالٹر) ہوگئیں اور انھیں کوئی خریدنے والا نہیں ہوتا ایسی گاڑیاں زیادہ تر پولیس افسران اپنے یا اہلخانہ کیلیے کم قیمت پر خرید کر استعمال کرتے ہیں اور وہ عام شہریوں پر اپنی دھاک اور خوف بٹھانے کیلیے ایسی گاڑیوں پر سندھ پولیس کے مونوگرام اور سرخ و نیلے رنگ کی نمبر پلیٹیں استعمال کرتے ہیں، گزشتہ سال 28 ستمبر کو فینسی نمبر پلیٹ اور سیاہ شیشے والی گاڑیوں کے خلاف شروع کی جانے والی مہم کے آغاز سے قبل سی پی ایل سی میں منعقدہ پریس کانفرنس کے دوران کراچی پولیس کے سربراہ ایڈیشنل آئی جی شاہد حیات نے کہا تھا کے بڑے جرائم کو روکنے کے لیے ضروری ہے کہ چھوٹے جرائم ختم کیے جائیں، جرائم کے 3 بنیادی جز ہیں جس میں گاڑی ، اسلحہ اور موبائل سم '' مہم گزشتہ سال یکم اکتوبر سے شروع کی گئی لیکن بلند و بانگ دعوؤں کے باوجود نہ پولیس بڑے جرائم روک سکی اور نہ ہی چھوٹے جرائم پر قابو پایا جاسکا۔
شہر میں جہاں نجی گاڑیوں پر سندھ پولیس کی نمبر پلیٹیں لگی ہیں وہیں پولیس کے رنگ سرخ و نیلے مونوگرام والی نمبر پلیٹیں لگی ہوئی موٹرسائیکلیں آزادانہ شہر کی سڑکوں پر گھوم رہی ہیں ، پولیس کی نمبر پلیٹ لگی گاڑیوں اور موٹر سائیکل کا فائدہ جرائم پیشہ عناصر اٹھارہے ہیں ، کئی وارداتوں میں گرفتار ملزمان کے قبضے سے ملنے والی موٹرسائیکلوں پر سندھ پولیس کے مونوگرام لگی نمبر پلیٹ لگی تھیں،گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں پر سندھ پولیس کا مونوگرام اور نام استعمال کرنے والوں کا کہنا ہے کہ پولیس اور رینجرز عام شہریوں کو ہی روکتی ہے ، قانون نافذ کرنے والے ادارے ایسی گاڑیوں کے خلاف کارروائی نہیں کرتے اور اپنے پیٹی بند بھائیوں کا خیال کرتے ہوئے مصلحت سے کام لیا جاتا ہے تاہم تمام قانونی تقاضے شہریوں سے پورے کرائے جاتے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق پولیس حکام کی جانب سے فینسی نمبر پلیٹ لگی گاڑیوں کے خلاف کئی بار مہم شروع کی گئی جس میں شہریوں کو ذرائع ابلاغ کے ذریعے پابند کیا جاتا رہا کہ وہ اپنی گاڑیوں پر لگی فینسی پلیٹ اتار کر ایکسائز پولیس کی جانب سے جاری کی گئی اصل نمبر پلیٹ لگائیں بصورت دیگر ان کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی اور اس مہم کے دوران پولیس افسران پر مشتمل ٹیمیں شہر کی مختلف شاہراہوں پر چیکنگ کے دوران ایسی گاڑیوں جن پر فنیسی نمبر پلیٹ لگی ہوتی انھیں روک کر نہ صرف ان کے ڈرائیوروں کے خلاف چالان کیے جاتے رہے بلکہ گاڑیاں بھی بند کی گئیں تاہم شہر میں ایسی سیکڑوں گاڑیاں شاہراہوں پر کھلے عام چل رہی ہیں جن پر رجسٹریشن نمبر پلیٹ کے بجائے سندھ پولیس کی نمبر پلیٹ آویزاں ہوتی ہے ایسی گاڑیوں کو اسنیپ چیکنگ کرنے والے پولیس اور رینجرز اہلکار نہیں روکتے جبکہ عام شہریوں سے اسنیپ چیکنگ کے دوران سوالات کی بوچھاڑ کردی جاتی ہے۔
پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ شہر میں ایسی گاڑیاں جو یلو کیب اسکیم کے تحت نادہندہ (ڈیفالٹر) ہوگئیں اور انھیں کوئی خریدنے والا نہیں ہوتا ایسی گاڑیاں زیادہ تر پولیس افسران اپنے یا اہلخانہ کیلیے کم قیمت پر خرید کر استعمال کرتے ہیں اور وہ عام شہریوں پر اپنی دھاک اور خوف بٹھانے کیلیے ایسی گاڑیوں پر سندھ پولیس کے مونوگرام اور سرخ و نیلے رنگ کی نمبر پلیٹیں استعمال کرتے ہیں، گزشتہ سال 28 ستمبر کو فینسی نمبر پلیٹ اور سیاہ شیشے والی گاڑیوں کے خلاف شروع کی جانے والی مہم کے آغاز سے قبل سی پی ایل سی میں منعقدہ پریس کانفرنس کے دوران کراچی پولیس کے سربراہ ایڈیشنل آئی جی شاہد حیات نے کہا تھا کے بڑے جرائم کو روکنے کے لیے ضروری ہے کہ چھوٹے جرائم ختم کیے جائیں، جرائم کے 3 بنیادی جز ہیں جس میں گاڑی ، اسلحہ اور موبائل سم '' مہم گزشتہ سال یکم اکتوبر سے شروع کی گئی لیکن بلند و بانگ دعوؤں کے باوجود نہ پولیس بڑے جرائم روک سکی اور نہ ہی چھوٹے جرائم پر قابو پایا جاسکا۔
شہر میں جہاں نجی گاڑیوں پر سندھ پولیس کی نمبر پلیٹیں لگی ہیں وہیں پولیس کے رنگ سرخ و نیلے مونوگرام والی نمبر پلیٹیں لگی ہوئی موٹرسائیکلیں آزادانہ شہر کی سڑکوں پر گھوم رہی ہیں ، پولیس کی نمبر پلیٹ لگی گاڑیوں اور موٹر سائیکل کا فائدہ جرائم پیشہ عناصر اٹھارہے ہیں ، کئی وارداتوں میں گرفتار ملزمان کے قبضے سے ملنے والی موٹرسائیکلوں پر سندھ پولیس کے مونوگرام لگی نمبر پلیٹ لگی تھیں،گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں پر سندھ پولیس کا مونوگرام اور نام استعمال کرنے والوں کا کہنا ہے کہ پولیس اور رینجرز عام شہریوں کو ہی روکتی ہے ، قانون نافذ کرنے والے ادارے ایسی گاڑیوں کے خلاف کارروائی نہیں کرتے اور اپنے پیٹی بند بھائیوں کا خیال کرتے ہوئے مصلحت سے کام لیا جاتا ہے تاہم تمام قانونی تقاضے شہریوں سے پورے کرائے جاتے ہیں۔