ایشیا کپ ہائی وولٹیج پاک بھارت معرکے کیلیے میدان سج گیا
دبئی کرکٹ اسٹیڈیم میں آج گرین شرٹس ایک بار پھر دھاک بٹھانے، بلوشرٹس گذشتہ شکست کا بدلہ چکانے کیلیے کوشاں
(فوٹو: ٹوئٹر)
ایشیا کپ میں ہائی وولٹیج پاک بھارت معرکے کیلیے میدان سج گیا جب کہ دبئی کرکٹ اسٹیڈیم میں آج گرین شرٹس ایک بار پھر دھاک بٹھانے اور بلوشرٹس گزشتہ شکست کا بدلہ چکانے کیلیے کوشاں ہوں گے۔
ایشیاکپ میں اتوار کو روایتی حریفوں پاکستان اور بھارت کی ٹیمیں دبئی کرکٹ اسٹیڈیم میں مقابل ہورہی ہیں، گذشتہ سال اسی وینیو پر گرین شرٹس نے ورلڈکپ میں بھارتی ٹیم سے ہارنے کی روایت ختم کرتے ہوئے 10وکٹ سے فتح حاصل کی تھی،اس بار بھی پاکستان کو نفسیاتی برتری حاصل ہوگی مگر ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں کسی بھی بیٹر یا بولر کی غیر معمولی کارکردگی میچ کا پانسہ پلٹ دیتی ہے۔
مزید پڑھیں:ایشیا کپ 2022 میں افغانستان کا فاتحانہ آغاز
اعصاب شکن جنگ میں دباؤ برداشت کرنے والی ٹیم ہی سرخرو ہوگی، دونوں ٹیموں کو اپنے اہم ترین پیسرز کی خدمات حاصل نہیں، دورہ سری لنکا میں انجرڈ ہونے والے شاہین شاہ آفریدی 5ہفتوں کیلیے دستیاب نہیں،وسیم جونیئر بھی کمر کی تکلیف کا شکار ہوگئے، حسن علی کو بطور متبادل طلب کر لیا مگر صبح دبئی آمد کے بعد وہ میچ نہیں کھیل سکیں گے، ان کی فارم بھی اچھی نہیں۔
ادھر فٹنس مسائل کی وجہ سے بھارتی ٹیم کو جسپریت بمرا کا ساتھ میسر نہیں،پاکستانی ٹاپ آرڈر میں بابر اعظم، محمد رضوان اور فخرزمان تو اچھی فارم میں ہیں، بہتر آغاز میں کوئی کمی رہ گئی تو مڈل آرڈر کے دباؤ کا شکار ہونے کا خدشہ موجود ہے، خوشدل شاہ ، آصف علی اور افتخار احمد کو توقعات کا بوجھ اٹھانا پڑے گا،ضرورت پڑنے پرآل راؤنڈرز شاداب خان اور محمد نواز کو بھی رنز بنانا پڑیں گے۔
مزید پڑھیں: چاہتا ہوں کوہلی بڑی اننگز کھیلیں مگر پاکستان کیخلاف نہیں، شاداب
شاہین شاہ آفریدی کی عدم موجودگی میں حارث رؤف کوسینئر پیسر کا کردار ادا کرنا ہوگا، ان کا ساتھ دینے کیلیے نسیم شاہ اور محمد حسنین کو منتخب کیے جانے کا امکان ہے۔
دوسری جانب بھارتی ٹیم بیٹنگ میں کپتان روہت شرما، لوکیش راہول، سوریا کمار یادو اور ریشابھ پنت پر انحصار کرے گی، ویراٹ کوہلی کو کم بیک پر پہلے ہی میچ میں سخت دباؤ میں پرفارم کرنا ہوگا،سابق کپتان ماضی میں پاکستان کے مقابل بہتر کارکردگی دہرانے کی کوشش کریں گے، انھیں انٹرنیشنل کرکٹ میں کوئی سنچری بنائے ایک ہزار سے زائد دن ہو چکے ہیں۔
دیپک ہودا غیر روایتی اسٹروکس سے حریف بولرز کو پریشان کرسکتے ہیں، رویندرا جڈیجا آل راؤنڈ کارکردگی دکھاسکتے ہیں،یوزویندرا چاہل یواے ای کی سازگار کنڈیشنز میں اسپن کا جادو جگائیں گے، تیسرے اسپنر کو شامل کرنے کا فیصلہ کیا گیا تو روی چندرن ایشون اور روی بشنوئی میں مقابلہ ہوگا۔
مزید پڑھیں: انجری کے باعث شاہین آفریدی ایشیاکپ اور انگلینڈ کیخلاف سیریز سے باہر
ہردیک پانڈیا پیس بولنگ کے ساتھ چھکے چھڑانے کی بھی اہلیت رکھتے ہیں،ٹیم کو تجربہ کار پیسر بھونیشور کمار کے ساتھ باصلاحیت آویش خان اور ارشدیپ سنگھ کی خدمات بھی میسر ہیں۔دبئی کرکٹ اسٹیڈیم کی پچ بیٹنگ کیلیے سازگار سمجھی جاتی ہے مگر یہاں اچھی لائن و لینتھ اور ویری ایشن سے گیند کرنے والے پیسرز کو بھی کامیابی مل سکتی ہے، شاہین شاہ آفریدی کا تباہ کن اسپیل اس کا ثبوت ہے۔
دوسری جانب اسپنرز بھی مہارت سے مشکلات پیدا کرسکتے ہیں۔یاد رہے کہ پاکستان اور بھارت کے باہمی ٹی ٹوئنٹی میچز میں بھارت نے 6 اورپاکستان نے 2 فتوحات حاصل کی ہیں،ایشیا کپ میں دونوں فارمیٹ کے مجموعی طور پر 14مقابلوں میں بلو شرٹس نے 8 اور گرین شرٹس نے 5جیتے، ایک میچ بارش کی نذر ہوگیا تھا۔
مزید پڑھیں: ایشیاکپ: پاک بھارت میچ میں حسن علی پلینگ الیون کا حصہ نہیں ہوں گے
دریں اثنا سنسنی خیز میچ کیلیے دبئی اور دونوں پڑوسی ملکوں میں کرکٹ کا بخار عروج پر ہے، دنیا بھر کے شائقین بھی بے تاب نظر آرہے ہیں، گھروں، ہوٹلز اور سینماؤں میں فیملیز اور دوستوں کے ہمراہ بیٹھ کر مقابلہ دیکھنے کی تیاریاں کی جارہی ہیں،پاکستان کے کئی شہروں میں بڑی اسکرینز پر میچ دیکھنے کا اہتمام کیا گیا ہے۔
ایک،ایک گیند پر شائقین کے دلوں کی دھڑکنیں تیز ہوں گی،کہیں تالیوں کی گونج تو کہیں مایوسی کی لہر ہوگی، دبئی اسٹیڈیم کے اطراف میں سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں،میچ کے تمام ٹکٹ کافی پہلے ہی فروخت ہو چکے تھے۔
ایشیاکپ میں اتوار کو روایتی حریفوں پاکستان اور بھارت کی ٹیمیں دبئی کرکٹ اسٹیڈیم میں مقابل ہورہی ہیں، گذشتہ سال اسی وینیو پر گرین شرٹس نے ورلڈکپ میں بھارتی ٹیم سے ہارنے کی روایت ختم کرتے ہوئے 10وکٹ سے فتح حاصل کی تھی،اس بار بھی پاکستان کو نفسیاتی برتری حاصل ہوگی مگر ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں کسی بھی بیٹر یا بولر کی غیر معمولی کارکردگی میچ کا پانسہ پلٹ دیتی ہے۔
مزید پڑھیں:ایشیا کپ 2022 میں افغانستان کا فاتحانہ آغاز
اعصاب شکن جنگ میں دباؤ برداشت کرنے والی ٹیم ہی سرخرو ہوگی، دونوں ٹیموں کو اپنے اہم ترین پیسرز کی خدمات حاصل نہیں، دورہ سری لنکا میں انجرڈ ہونے والے شاہین شاہ آفریدی 5ہفتوں کیلیے دستیاب نہیں،وسیم جونیئر بھی کمر کی تکلیف کا شکار ہوگئے، حسن علی کو بطور متبادل طلب کر لیا مگر صبح دبئی آمد کے بعد وہ میچ نہیں کھیل سکیں گے، ان کی فارم بھی اچھی نہیں۔
ادھر فٹنس مسائل کی وجہ سے بھارتی ٹیم کو جسپریت بمرا کا ساتھ میسر نہیں،پاکستانی ٹاپ آرڈر میں بابر اعظم، محمد رضوان اور فخرزمان تو اچھی فارم میں ہیں، بہتر آغاز میں کوئی کمی رہ گئی تو مڈل آرڈر کے دباؤ کا شکار ہونے کا خدشہ موجود ہے، خوشدل شاہ ، آصف علی اور افتخار احمد کو توقعات کا بوجھ اٹھانا پڑے گا،ضرورت پڑنے پرآل راؤنڈرز شاداب خان اور محمد نواز کو بھی رنز بنانا پڑیں گے۔
مزید پڑھیں: چاہتا ہوں کوہلی بڑی اننگز کھیلیں مگر پاکستان کیخلاف نہیں، شاداب
شاہین شاہ آفریدی کی عدم موجودگی میں حارث رؤف کوسینئر پیسر کا کردار ادا کرنا ہوگا، ان کا ساتھ دینے کیلیے نسیم شاہ اور محمد حسنین کو منتخب کیے جانے کا امکان ہے۔
دوسری جانب بھارتی ٹیم بیٹنگ میں کپتان روہت شرما، لوکیش راہول، سوریا کمار یادو اور ریشابھ پنت پر انحصار کرے گی، ویراٹ کوہلی کو کم بیک پر پہلے ہی میچ میں سخت دباؤ میں پرفارم کرنا ہوگا،سابق کپتان ماضی میں پاکستان کے مقابل بہتر کارکردگی دہرانے کی کوشش کریں گے، انھیں انٹرنیشنل کرکٹ میں کوئی سنچری بنائے ایک ہزار سے زائد دن ہو چکے ہیں۔
دیپک ہودا غیر روایتی اسٹروکس سے حریف بولرز کو پریشان کرسکتے ہیں، رویندرا جڈیجا آل راؤنڈ کارکردگی دکھاسکتے ہیں،یوزویندرا چاہل یواے ای کی سازگار کنڈیشنز میں اسپن کا جادو جگائیں گے، تیسرے اسپنر کو شامل کرنے کا فیصلہ کیا گیا تو روی چندرن ایشون اور روی بشنوئی میں مقابلہ ہوگا۔
مزید پڑھیں: انجری کے باعث شاہین آفریدی ایشیاکپ اور انگلینڈ کیخلاف سیریز سے باہر
ہردیک پانڈیا پیس بولنگ کے ساتھ چھکے چھڑانے کی بھی اہلیت رکھتے ہیں،ٹیم کو تجربہ کار پیسر بھونیشور کمار کے ساتھ باصلاحیت آویش خان اور ارشدیپ سنگھ کی خدمات بھی میسر ہیں۔دبئی کرکٹ اسٹیڈیم کی پچ بیٹنگ کیلیے سازگار سمجھی جاتی ہے مگر یہاں اچھی لائن و لینتھ اور ویری ایشن سے گیند کرنے والے پیسرز کو بھی کامیابی مل سکتی ہے، شاہین شاہ آفریدی کا تباہ کن اسپیل اس کا ثبوت ہے۔
دوسری جانب اسپنرز بھی مہارت سے مشکلات پیدا کرسکتے ہیں۔یاد رہے کہ پاکستان اور بھارت کے باہمی ٹی ٹوئنٹی میچز میں بھارت نے 6 اورپاکستان نے 2 فتوحات حاصل کی ہیں،ایشیا کپ میں دونوں فارمیٹ کے مجموعی طور پر 14مقابلوں میں بلو شرٹس نے 8 اور گرین شرٹس نے 5جیتے، ایک میچ بارش کی نذر ہوگیا تھا۔
مزید پڑھیں: ایشیاکپ: پاک بھارت میچ میں حسن علی پلینگ الیون کا حصہ نہیں ہوں گے
دریں اثنا سنسنی خیز میچ کیلیے دبئی اور دونوں پڑوسی ملکوں میں کرکٹ کا بخار عروج پر ہے، دنیا بھر کے شائقین بھی بے تاب نظر آرہے ہیں، گھروں، ہوٹلز اور سینماؤں میں فیملیز اور دوستوں کے ہمراہ بیٹھ کر مقابلہ دیکھنے کی تیاریاں کی جارہی ہیں،پاکستان کے کئی شہروں میں بڑی اسکرینز پر میچ دیکھنے کا اہتمام کیا گیا ہے۔
ایک،ایک گیند پر شائقین کے دلوں کی دھڑکنیں تیز ہوں گی،کہیں تالیوں کی گونج تو کہیں مایوسی کی لہر ہوگی، دبئی اسٹیڈیم کے اطراف میں سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں،میچ کے تمام ٹکٹ کافی پہلے ہی فروخت ہو چکے تھے۔