خاتون کے قتل کی تفتیش اتحاد ٹاؤن تھانے سے منتقل کردی گئی

مقتولہ منیزہ حاملہ تھی، شوہر وقار تنولی کی پہلی بیوی اورخاتون دوست گرفتار نہ ہوسکیں

منیزہ کی یادگار تصویر

اتحاد ٹاؤن میں18روزقبل قتل کی جانیوالی خاتون کے مقدمے کی تفتیش صحیح نہ ہونے پر تھانہ اتحاد ٹائون کی تفتیش پر اہل خانہ کے سوالات اٹھانے پر خاتون کے قتل کی تفتیش بوٹ بیسن تھانے منتقل کردی گئی۔


تفصیلات کے مطابق 26 جنوری کو اتحاد ٹائون میں30 سالہ خاتون منیزہ زوجہ وقار تنولی کو فائرنگ کرکے ہلاک کردیا گیا تھا اور واقعے کو خودکشی قرار دیا جارہا تھا تاہم پوسٹ مارٹم رپورٹ میں لیڈی ایم ایل او نے واقعے کو دوہرا قتل قرار دیا کیوں کہ مقتولہ خاتون حاملہ تھی جس پر مقتولہ کے رشتے داروں نے مقتولہ کے شوہر وقار تنولی اس کی پہلی اہلیہ فوزیہ کو مقدمے میں نامزد کرایا تھا جبکہ وقار تنولی کی خاتون دوست پر شک کا اظہار کیا تھا جس پر اتحاد ٹائون انویسٹی گیشن پولیس نے وقار تنولی کو گرفتار کر لیا تھا تاہم شوہر وقار تنولی نے تفتیش کے دوران اپنی اہلیہ کو قتل کرنے سے انکار کیا جس پر وقار تنولی کو جیل منتقل کردیا گیا تھا قتل کے کئی روزگزر جانے کے باوجود اتحاد پولیس وقار تنولی کی پہلی بیوی اور خاتون دوست کو گرفتار نہ کر سکی جس پر مقتولہ کے اہلخانہ نے تھانہ اتحاد ٹاؤن کی تفتیش میں ملزم کو رعایت دینے اور مخالفین سے رشوت لینے سمیت کئی سوالات اٹھاکر تفتیش منتقل کرنے کیلیے پولیس افسران کو درخواست دی جس پر قتل کے مقدمے کی تفتیش بوٹ بیسن تھانے منتقل کرکے انسپکٹر محمد نعیم کے سپرد کردی گئی ہے۔

انسپکٹر نعیم نے بتایا ہے کہ مذکورہ مقدمہ پیچیدہ ہے مقتولہ کی والدہ نے بتایا کہ مقتولہ منیزہ کی 2 سال قبل وقار تنولی سے شادی ہوئی تھی انھوں نے بتایا کہ مقتولہ اور اس کا شوہر دونوں پہلے سے شادی شدہ تھے جبکہ منیزہ نے اپنے پہلے شوہر سے طلاق لے لی تھی جوکہ اس کا کزن تھا اوراس کے بعد وقار سے شادی کی تھی جبکہ وقار تنولی کے گھر میں اس کی پہلی بیوی فوزیہ بھی رہائش پذیر تھی انھوں نے بتایا کہ مقتولہ منیزہ حاملہ تھی اور رواں ماہ 10مارچ کو اس کا آپریشن بھی تھا تاہم ظالموں نے اس سے قبل ہی اسے قتل کردیا اور بعد میں اسے خودکشی کا رنگ دینے کی کوشش کی۔
Load Next Story