وزارت اطلاعات کا فنڈ سیاسی اشتہاری مہم پر خرچ ہوا سپریم کورٹ میں پٹیشنز کا موقف
صرف2صحافیوںکی مددہوئی،30 کروڑاے پی این ایس،ڈھائی کروڑپریس کونسل کودیے, درخواست گزار
صرف2صحافیوں کی مددہوئی،30 کروڑاے پی این ایس،ڈھائی کروڑپریس کونسل کودیے،سرکاری فنڈزسے اے پی این ایس کا دفتر تعمیر کیا جارہا ہے،درخواست گزار. فوٹو فائل
سپریم کورٹ نے صحافیوںمیںرقوم کی تقسیم کی انکوائری کیلیے میڈیا کمیشن کے قیام کی درخواست کی سماعت پیرتک ملتوی کردی ہے ۔
وزارت اطلاعات سے گزشتہ چار سال کے بجٹ اوراخراجات کاآڈٹ ریکارڈ طلب کرلیاہے۔عدالت نے سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان اورفیڈرل بورڈآف ریونیو سے اشتہاری ایجنسی میڈاس پرائیویٹ لمیٹڈ کا ٹیکس ریکارڈ اور آڈٹ رپورٹ بھی طلب کر لی ہے۔دوران سماعت جسٹس خلجی عارف حسین نے ریمارکس دیے کہ کراچی میں289افراد جل کر مر گئے اور ان کوبچا نے کیلیے مطلوبہ آلات موجودنہیں تھے۔
درخواست گزاروں نے کہا کہ وزارت اطلاعات کے چار سیکشنز کابجٹ پانچ ارب ستاون کروڑ روپے ہے جبکہ پانچویںسیکشن کا بجٹ چار ارب اٹھارہ کروڑروپے ہے۔ انھوں نے بتایا کہ وزارت کا خفیہ فنڈ سیاسی اشتہاری مہم ،کشمیر اورریڈیوپاکستان کیلیے استعمال کیا گیاجبکہ مرنے والے صرف دو صحافیوں کے ورثاکی مالی مددکی گئی ہے۔جسٹس خلجی عارف حسین نے سوال اٹھایا کہ جب بجٹ منظورکیا جا تا ہے تو بزرگ سیاستدان آوازکیوں نہیں اٹھاتے ۔
فاضل جج کا اشارہ عدالت میں موجود مسلم لیگ (ن) کے خواجہ آصف کی طرف تھا۔جسٹس خلجی عارف حسین نے کہا سیکرٹ فنڈکیلیے اربوں روپے رکھ دیے جاتے ہیں لیکن قیمتی جانوںکو بچانے کیلیے آلات خریدنے کی رقم نہیں ہوتی، عدالت نے 2009سے 2012تک وزارت اطلاعات کے بجٹ کا تمام ریکارڈ طلب کرلیا ہے۔ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق درخواست گزارابصارعالم نے سرکاری رقوم کے ناجائز استعمال کے حوالے سے عدالت میںپیش کیے گئے اعدادوشمار سے متعلق بتایاکہ 12کروڑ38لاکھ روپے خصوصی بجٹ پبلسٹی مہم ،30کروڑروپے آل پاکستان نیوزپیپرزسوسائٹی (اے پی این ایس) ،44کروڑروپے حکومتی پروپیگنڈاکی مختلف تشہیری مہموں،ایک کروڑ28لاکھ خفیہ اخراجات،50کروڑاشتہاری ایجنسیوںاورٹی وی چینلز،39کروڑآزادکشمیرٹی وی،90 کروڑپی ٹی وی ملتان،ڈھائی کروڑ پریس کونسل آف پاکستان اور30کروڑریڈیوپاکستان کودیے گئے۔
حامدمیرنے کہاکہ وزارت اطلاعات کے فنڈزسے کراچی میںاے پی این ایس کامرکزی دفتربھی تعمیرکیاجارہاہے۔آئی این پی کے مطابق عدالت نے ایس ای سی پی کی جانب سے میڈاس پرائیویٹ لمیٹڈکے اثاثوں کی تفصیلات پیش نہ کرنے پربرہمی کااظہار کرتے ہوئے چیئرمین ایس ای سی پی کوذاتی طورپرپیش ہوکرتفصیلات اورمکمل ریکارڈ پیش کرنے کی ہدایت کی جبکہ ایف بی آرکواس اشتہاری ایجنسی کاٹیکس ریکارڈجمع کرانے کیلئے 24گھنٹے کی مہلت دیدی گئی ہے،وزارت اطلاعات ونشریات سے پچھلے تین برسوں کے بجٹ (سیکرٹ فنڈز اورضمنی گرانٹس )کی تفصیلات،آڈیٹرجنرل پاکستان سے تین سال کی آڈٹ رپورٹس مانگی گئی ہیں۔
عدالت کو بتایاگیاکہ وفاق نے عابدساقی کووکالت سے الگ کردیاہے اوراب وہ صرف پیمراکے وکیل کے طورپر پیش ہو ںگے جبکہ ان کی جگہ ذوالفقارخالدملوکاایڈووکیٹ پیش ہوںگے۔فاضل جج صاحبان نے وکیل کی تبدیلی کوسراہتے ہوئے قراردیاکہ وہ خود چاہتے تھے کہ پیمرااور وفاق کی جانب سے الگ الگ وکیل پیش ہوں تاکہ ان کے درمیان اختیارات کے بارے میںکوئی تنازع پیدانہ ہو۔عدالت کو بتایاگیاکہ میڈاس پرائیویٹ لمیٹڈکی جانب سے جواب داخل نہیںکرایاگیا، ایف بی آراور ایس ای سی پی نے بھی ریکارڈ پیش نہیںکیا جس پر عدالت نے برہمی کااظہارکیا۔ایف بی آرکی جانب سے ایم شمیم ایڈووکیٹ نے بتایاکہ چونکہ انہیں ایک روزقبل ہی بتایاگیاہے اس لیے انھیں میڈاس پرائیویٹ لمیٹڈکا ٹیکس ریکارڈ جمع کرانے کیلیے 24گھنٹے کی مہلت دی جائے جسے عدالت نے منظورکرلیا اور ہدایت کی کہ وہ ہرصورت میں ریکارڈ جمع کرائیں۔
وزارت اطلاعات سے گزشتہ چار سال کے بجٹ اوراخراجات کاآڈٹ ریکارڈ طلب کرلیاہے۔عدالت نے سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان اورفیڈرل بورڈآف ریونیو سے اشتہاری ایجنسی میڈاس پرائیویٹ لمیٹڈ کا ٹیکس ریکارڈ اور آڈٹ رپورٹ بھی طلب کر لی ہے۔دوران سماعت جسٹس خلجی عارف حسین نے ریمارکس دیے کہ کراچی میں289افراد جل کر مر گئے اور ان کوبچا نے کیلیے مطلوبہ آلات موجودنہیں تھے۔
درخواست گزاروں نے کہا کہ وزارت اطلاعات کے چار سیکشنز کابجٹ پانچ ارب ستاون کروڑ روپے ہے جبکہ پانچویںسیکشن کا بجٹ چار ارب اٹھارہ کروڑروپے ہے۔ انھوں نے بتایا کہ وزارت کا خفیہ فنڈ سیاسی اشتہاری مہم ،کشمیر اورریڈیوپاکستان کیلیے استعمال کیا گیاجبکہ مرنے والے صرف دو صحافیوں کے ورثاکی مالی مددکی گئی ہے۔جسٹس خلجی عارف حسین نے سوال اٹھایا کہ جب بجٹ منظورکیا جا تا ہے تو بزرگ سیاستدان آوازکیوں نہیں اٹھاتے ۔
فاضل جج کا اشارہ عدالت میں موجود مسلم لیگ (ن) کے خواجہ آصف کی طرف تھا۔جسٹس خلجی عارف حسین نے کہا سیکرٹ فنڈکیلیے اربوں روپے رکھ دیے جاتے ہیں لیکن قیمتی جانوںکو بچانے کیلیے آلات خریدنے کی رقم نہیں ہوتی، عدالت نے 2009سے 2012تک وزارت اطلاعات کے بجٹ کا تمام ریکارڈ طلب کرلیا ہے۔ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق درخواست گزارابصارعالم نے سرکاری رقوم کے ناجائز استعمال کے حوالے سے عدالت میںپیش کیے گئے اعدادوشمار سے متعلق بتایاکہ 12کروڑ38لاکھ روپے خصوصی بجٹ پبلسٹی مہم ،30کروڑروپے آل پاکستان نیوزپیپرزسوسائٹی (اے پی این ایس) ،44کروڑروپے حکومتی پروپیگنڈاکی مختلف تشہیری مہموں،ایک کروڑ28لاکھ خفیہ اخراجات،50کروڑاشتہاری ایجنسیوںاورٹی وی چینلز،39کروڑآزادکشمیرٹی وی،90 کروڑپی ٹی وی ملتان،ڈھائی کروڑ پریس کونسل آف پاکستان اور30کروڑریڈیوپاکستان کودیے گئے۔
حامدمیرنے کہاکہ وزارت اطلاعات کے فنڈزسے کراچی میںاے پی این ایس کامرکزی دفتربھی تعمیرکیاجارہاہے۔آئی این پی کے مطابق عدالت نے ایس ای سی پی کی جانب سے میڈاس پرائیویٹ لمیٹڈکے اثاثوں کی تفصیلات پیش نہ کرنے پربرہمی کااظہار کرتے ہوئے چیئرمین ایس ای سی پی کوذاتی طورپرپیش ہوکرتفصیلات اورمکمل ریکارڈ پیش کرنے کی ہدایت کی جبکہ ایف بی آرکواس اشتہاری ایجنسی کاٹیکس ریکارڈجمع کرانے کیلئے 24گھنٹے کی مہلت دیدی گئی ہے،وزارت اطلاعات ونشریات سے پچھلے تین برسوں کے بجٹ (سیکرٹ فنڈز اورضمنی گرانٹس )کی تفصیلات،آڈیٹرجنرل پاکستان سے تین سال کی آڈٹ رپورٹس مانگی گئی ہیں۔
عدالت کو بتایاگیاکہ وفاق نے عابدساقی کووکالت سے الگ کردیاہے اوراب وہ صرف پیمراکے وکیل کے طورپر پیش ہو ںگے جبکہ ان کی جگہ ذوالفقارخالدملوکاایڈووکیٹ پیش ہوںگے۔فاضل جج صاحبان نے وکیل کی تبدیلی کوسراہتے ہوئے قراردیاکہ وہ خود چاہتے تھے کہ پیمرااور وفاق کی جانب سے الگ الگ وکیل پیش ہوں تاکہ ان کے درمیان اختیارات کے بارے میںکوئی تنازع پیدانہ ہو۔عدالت کو بتایاگیاکہ میڈاس پرائیویٹ لمیٹڈکی جانب سے جواب داخل نہیںکرایاگیا، ایف بی آراور ایس ای سی پی نے بھی ریکارڈ پیش نہیںکیا جس پر عدالت نے برہمی کااظہارکیا۔ایف بی آرکی جانب سے ایم شمیم ایڈووکیٹ نے بتایاکہ چونکہ انہیں ایک روزقبل ہی بتایاگیاہے اس لیے انھیں میڈاس پرائیویٹ لمیٹڈکا ٹیکس ریکارڈ جمع کرانے کیلیے 24گھنٹے کی مہلت دی جائے جسے عدالت نے منظورکرلیا اور ہدایت کی کہ وہ ہرصورت میں ریکارڈ جمع کرائیں۔