فٹبال ورلڈکپ 2022 قطر نے لیبر رپورٹ مسترد کردی
انٹرنیشنل ٹریڈ یونین کنفیڈریشن نے غلطیوں سے بھرپور دستاویز تیار کی ہے، منتظمین
انٹرنیشنل ٹریڈ یونین کنفیڈریشن نے غلطیوں سے بھرپور دستاویز تیار کی ہے، منتظمین۔ فوٹو: فائل
قطر نے آئی ٹی یو سی رپورٹ مسترد کردی، ورلڈ کپ آرگنائزنگ کمیٹی کا کہنا ہے کہ لیبر رپورٹ غلطیوں سے بھری پڑی ہے، رپورٹ میں 2022 ورلڈ کپ فٹبال وینیوز کی تعمیر میں حصہ لینے والے ورکرز کے ساتھ بدسلوکی کا الزام لگایا گیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق قطر نے گذشتہ روز انٹرنیشنل لیبر یونین کی رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ رپورٹ غلطیوں سے بھری پڑی ہے ، رپورٹ میں اس پر ورلڈ کپ فٹبال وینیوز کی تعمیر میں حصہ لینے والے ورکرز کے ساتھ بدسلوکی کا الزام لگایا گیا ہے۔دولتمند خلیجی ریاست پر تارکین وطن مزدوروں کیلیے کام اور رہائش کے بہتر انتظامات پر زور دیا جارہا ہے جو ٹورنامنٹ کیلیے اربوں ڈالر مالیت کی سہولیات تیار کررہے ہیں۔ قطر کی ورلڈ کپ آرگنائزنگ کمیٹی کا کہنا ہے کہ انٹرنیشنل ٹریڈ یونین کنفیڈریشن کی رپورٹ حقائق سے مبرا اور مثبت تعمیراتی کاموں کو غلط رخ دے رہی ہے۔ آئی ٹی یو کا کہنا ہے کہ اس کے جنرل سیکریٹری شاران بررو نے الواکرہ اسٹیڈیم کے دورے کے دوران بھارت، نیپال اور تھائی لینڈ کے 38 ورلڈ کپ ورکرز کو انتہائی شکستہ حالت میں رہتے ہوئے دیکھا ہے۔ بررو نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ قطر کی حکومت ورکرز کی کوئی ذمہ داری لینے کیلیے تیار نہیں اور عوامی تنقید پر اس کا ردعمل عوامی تعلقات پر مبنی ہے۔
قطر کمیٹی کا کہنا ہے کہ آئی ٹی یو سی رپورٹ کا تعلق ایسی رہائش سے ہے جو اسٹیڈیم پر کام کرنیوالے ورکرز کے زیر استعمال نہیں ہے، ہمارے 108 کنسٹرکشن ورکرز دوحا کے انڈسٹریل ایریا میں اسٹریٹ نمبر 23 پر ایک شاندار عمارت میں رہتے ہیں جس کا ٹی وی عملے نے دورہ کیا ہے۔ کمیٹی کے مطابق آئی ٹی سی یو نے نہ تو اس عمارت کا دورہ کیا نہ ہی ایسا کرنے کی کوئی درخواست کی ہے ۔ کمیٹی کا کہنا ہے کہ اگرچہ رپورٹ میں مرنیوالوں کی تعداد نہیں بتائی گئی لیکن ورلڈ کپ پروجیکٹس پر کوئی شخص بھی جاں بحق نہیں ہوا ہے۔گذشتہ ماہ دوحا میں بھارتی سفارتخانے نے کہا تھا کہ اس کے 450 افراد قطر میں دو برس کے دوران مر چکے ہیں۔ سفارتخانے نے اموات کی وجوہات کے بارے میں کوئی تفصیل نہیں دی ہے، لیکن آئی ٹی یو سی کا کہنا ہے کہ اموات کے اعداد وشمار غیر معمولی ہیں۔ قطر نے فروری میں رہنما اصول جاری کیے ہیں جن کا مقصد تعمیراتی پروجیکٹس پر ہزاروں تارک وطن مزدوروں کے حقوق کو محفوظ بنانا ہے۔
تفصیلات کے مطابق قطر نے گذشتہ روز انٹرنیشنل لیبر یونین کی رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ رپورٹ غلطیوں سے بھری پڑی ہے ، رپورٹ میں اس پر ورلڈ کپ فٹبال وینیوز کی تعمیر میں حصہ لینے والے ورکرز کے ساتھ بدسلوکی کا الزام لگایا گیا ہے۔دولتمند خلیجی ریاست پر تارکین وطن مزدوروں کیلیے کام اور رہائش کے بہتر انتظامات پر زور دیا جارہا ہے جو ٹورنامنٹ کیلیے اربوں ڈالر مالیت کی سہولیات تیار کررہے ہیں۔ قطر کی ورلڈ کپ آرگنائزنگ کمیٹی کا کہنا ہے کہ انٹرنیشنل ٹریڈ یونین کنفیڈریشن کی رپورٹ حقائق سے مبرا اور مثبت تعمیراتی کاموں کو غلط رخ دے رہی ہے۔ آئی ٹی یو کا کہنا ہے کہ اس کے جنرل سیکریٹری شاران بررو نے الواکرہ اسٹیڈیم کے دورے کے دوران بھارت، نیپال اور تھائی لینڈ کے 38 ورلڈ کپ ورکرز کو انتہائی شکستہ حالت میں رہتے ہوئے دیکھا ہے۔ بررو نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ قطر کی حکومت ورکرز کی کوئی ذمہ داری لینے کیلیے تیار نہیں اور عوامی تنقید پر اس کا ردعمل عوامی تعلقات پر مبنی ہے۔
قطر کمیٹی کا کہنا ہے کہ آئی ٹی یو سی رپورٹ کا تعلق ایسی رہائش سے ہے جو اسٹیڈیم پر کام کرنیوالے ورکرز کے زیر استعمال نہیں ہے، ہمارے 108 کنسٹرکشن ورکرز دوحا کے انڈسٹریل ایریا میں اسٹریٹ نمبر 23 پر ایک شاندار عمارت میں رہتے ہیں جس کا ٹی وی عملے نے دورہ کیا ہے۔ کمیٹی کے مطابق آئی ٹی سی یو نے نہ تو اس عمارت کا دورہ کیا نہ ہی ایسا کرنے کی کوئی درخواست کی ہے ۔ کمیٹی کا کہنا ہے کہ اگرچہ رپورٹ میں مرنیوالوں کی تعداد نہیں بتائی گئی لیکن ورلڈ کپ پروجیکٹس پر کوئی شخص بھی جاں بحق نہیں ہوا ہے۔گذشتہ ماہ دوحا میں بھارتی سفارتخانے نے کہا تھا کہ اس کے 450 افراد قطر میں دو برس کے دوران مر چکے ہیں۔ سفارتخانے نے اموات کی وجوہات کے بارے میں کوئی تفصیل نہیں دی ہے، لیکن آئی ٹی یو سی کا کہنا ہے کہ اموات کے اعداد وشمار غیر معمولی ہیں۔ قطر نے فروری میں رہنما اصول جاری کیے ہیں جن کا مقصد تعمیراتی پروجیکٹس پر ہزاروں تارک وطن مزدوروں کے حقوق کو محفوظ بنانا ہے۔