مذاکرات کرنے والوں نے دہشت گردوں سے لاتعلقی ظاہر کردی اب نمٹنے میں آسانی ہوگی پرویز رشید
دہشت گرد ریاست کے اندر ریاست بنانے کی خواہش رکھتے ہیں، ایسا کسی صورت نہیں ہونے دیں گے، وزیراطلاعات
دہشت گرد ریاست کے اندر ریاست بنانے کی خواہش رکھتے ہیں، ایسا کسی صورت نہیں ہونے دیں گے، وزیراطلاعات۔ فوٹو: آن لائن/فائل
وفاقی وزیر اطلاعات پرویزرشید نے کہاہے کہ مذاکرات کے معاملے پرکوئی سپرکمیٹی نہیں بنائی گئی۔ وزیراعظم مذاکراتی عمل کی نگرانی کرتے ہیں۔
چوہدری نثارفوکل پرسن ہیں۔ دہشت گرد ریاست کے اندرریاست بنانے کی خواہش رکھتے ہیںاور قوم پراپنی مرضی مسلط کرناچاہتے ہیں جو کسی صورت نہیں ہونے دیںگے۔ ہم دہشت گردوں کو بندوق کے ذریعے عوام کوکنٹرول کرنے کی اجازت نہیں دے سکتے۔ ایوان اقبال لاہورمیں سینئرصحافیوں، کالم نگاروں، ایڈیٹروں، دانشوروںاور اینکرپرسنز سے ملاقات میں وزیراطلاعات نے کہاکہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے سب کومل کرکوششیں کرنا ہوںگی۔ قیام امن کے لیے وفاق کے ساتھ صوبائی حکومتوںکی ذمے داریاںبڑھ گئی ہیں۔ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے صحافیوںکو بھی کردارادا کرنا ہوگا۔ حکومت نے7ماہ میں جوکام کیے ان کا برسوں میں تصور نہیں کیا جاسکتا تھا۔ ڈالرکی قیمت میں کمی سے عام آدمی کوفائدہ ہوا۔ حکو مت میڈیاپر پابندیوںکے زمانے کودوبارہ نہیں دیکھناچاہتی۔ پیمرارولز کے تحت وہ ٹی وی چینلز جن کی بنیاد پاکستان میں ہے وہ نشر یات کا 10فیصد غیرملکی پروگرام بھی دکھا سکتے ہیں اور جن کے ہیڈآفس ملک سے باہرہیں وہ 100فیصد غیرملکی موادنشر کرسکتے ہیں۔
دنیا میں ہرشخص کو اپنے عقیدے کے مطابق زندگی گزارنے کاحق ہے اور ہم بھی چاہتے ہیں کہ پا کستان میں ہرکوئی اپنی مر ضی اورعقیدے کے مطابق زندگی گزارے۔ امن مذاکرات کرنے والوںنے بھی دہشت گردوں سے لاتعلقی ظاہرکی ہے۔ جوگروہ مذاکرات کونہیں مانتے یا پرامن رویہ اختیار نہیں کرتے ان سے نمٹنے کے لیے اب آسانی پیدا ہوگئی ہے۔ طالبان سے مذاکرات مکمل ہونے میںاب زیادہ وقت نہیں لگے گا۔ ا مریکی ڈالر 98روپے کی سطح پر آ گیا ہے اور اب یہ نیچے ہی رہے گا۔ پاکستانی ٹی وی چینلوںمیں غیرملکی مواد کو روکنے کے لیے قانون سازی کی جائے گی۔ بعض اشتہاری کمپنیاں اپنی پراڈکٹس میں غیر ملکی لوگوں کو شامل کر رہی ہیں۔ تخلیقی صلاحیتوں کو پروان نہ چڑھانے سے معاشی مسائل جنم لے رہے ہیں۔ اخبارات و چینلز میں صحافتی کارکنان کو 4ماہ سے تنخواہیں نہ ملنا افسوسناک عمل ہے اور اس سلسلے میں عدالتیں آئی ٹی این ای، کمیشن ودیگر مناسب پلیٹ فارم موجودہیں جہاں کارکن صحافی دادرسی کے لیے رجوع کرسکتے ہیں۔ پاکستانی چینل بھی بھارت میں دکھائے جانے چاہئیں۔
چوہدری نثارفوکل پرسن ہیں۔ دہشت گرد ریاست کے اندرریاست بنانے کی خواہش رکھتے ہیںاور قوم پراپنی مرضی مسلط کرناچاہتے ہیں جو کسی صورت نہیں ہونے دیںگے۔ ہم دہشت گردوں کو بندوق کے ذریعے عوام کوکنٹرول کرنے کی اجازت نہیں دے سکتے۔ ایوان اقبال لاہورمیں سینئرصحافیوں، کالم نگاروں، ایڈیٹروں، دانشوروںاور اینکرپرسنز سے ملاقات میں وزیراطلاعات نے کہاکہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے سب کومل کرکوششیں کرنا ہوںگی۔ قیام امن کے لیے وفاق کے ساتھ صوبائی حکومتوںکی ذمے داریاںبڑھ گئی ہیں۔ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے صحافیوںکو بھی کردارادا کرنا ہوگا۔ حکومت نے7ماہ میں جوکام کیے ان کا برسوں میں تصور نہیں کیا جاسکتا تھا۔ ڈالرکی قیمت میں کمی سے عام آدمی کوفائدہ ہوا۔ حکو مت میڈیاپر پابندیوںکے زمانے کودوبارہ نہیں دیکھناچاہتی۔ پیمرارولز کے تحت وہ ٹی وی چینلز جن کی بنیاد پاکستان میں ہے وہ نشر یات کا 10فیصد غیرملکی پروگرام بھی دکھا سکتے ہیں اور جن کے ہیڈآفس ملک سے باہرہیں وہ 100فیصد غیرملکی موادنشر کرسکتے ہیں۔
دنیا میں ہرشخص کو اپنے عقیدے کے مطابق زندگی گزارنے کاحق ہے اور ہم بھی چاہتے ہیں کہ پا کستان میں ہرکوئی اپنی مر ضی اورعقیدے کے مطابق زندگی گزارے۔ امن مذاکرات کرنے والوںنے بھی دہشت گردوں سے لاتعلقی ظاہرکی ہے۔ جوگروہ مذاکرات کونہیں مانتے یا پرامن رویہ اختیار نہیں کرتے ان سے نمٹنے کے لیے اب آسانی پیدا ہوگئی ہے۔ طالبان سے مذاکرات مکمل ہونے میںاب زیادہ وقت نہیں لگے گا۔ ا مریکی ڈالر 98روپے کی سطح پر آ گیا ہے اور اب یہ نیچے ہی رہے گا۔ پاکستانی ٹی وی چینلوںمیں غیرملکی مواد کو روکنے کے لیے قانون سازی کی جائے گی۔ بعض اشتہاری کمپنیاں اپنی پراڈکٹس میں غیر ملکی لوگوں کو شامل کر رہی ہیں۔ تخلیقی صلاحیتوں کو پروان نہ چڑھانے سے معاشی مسائل جنم لے رہے ہیں۔ اخبارات و چینلز میں صحافتی کارکنان کو 4ماہ سے تنخواہیں نہ ملنا افسوسناک عمل ہے اور اس سلسلے میں عدالتیں آئی ٹی این ای، کمیشن ودیگر مناسب پلیٹ فارم موجودہیں جہاں کارکن صحافی دادرسی کے لیے رجوع کرسکتے ہیں۔ پاکستانی چینل بھی بھارت میں دکھائے جانے چاہئیں۔