بھاشا ڈیم تنازع پختونخوا اور گلگت میں تصفیے کے لئے کمیشن بنانے کا فیصلہ
ڈیم کے رقبے پردونوں حکومتوں کے درمیان تنازع مشرف دور سے چلا آرہا ہے، وزیراعظم نے بائونڈری کمیشن کی منظوری دیدی
تنازع کی وجہ سے معاوضوں کی ادائیگی میں بھی رکاوٹ،وزارت قانون و انصاف نے3 ریٹائرڈ ججوں کے نام تجویز کیے ہیں۔ فوٹو: فائل
ISLAMABAD:
وزیراعظم نواز شریف نے دیا مر بھاشا ڈیم کی حدود پر خیبرپختونخوا اور گلگت بلتستان حکومت کے درمیان پیدا ہونے والے سرحدی تنازعے کے حل کیلیے3 ریٹائرڈ ججوں پر مشتمل بائونڈری کمیشن کی تشکیل کیلیے سمری منظورکرلی۔
آئندہ ہفتے کمیشن کی تشکیل کا باضابطہ نوٹیفیکیشن جاری کردیا جائے گا۔ مجوزہ کمیشن دونوں حکومتوں کے دعوے کا جائزہ لے کر خیبرپختونخوا اور گلگت بلتستان کے درمیان سرحدی پٹی کا ازسرنو تعین کرے گا۔ دیامر بھاشا ڈیم کی اراضی اور ڈیم کے ایک پاور ہائوس کی تعمیر کی جگہ پر دونوں حکومتوں کے درمیان تنازع مشرف دور سے چلا آرہا ہے، تنازع کی وجہ سے معاوضوں کی ادائیگی میں بھی رکاوٹ پیش آرہی ہے، اس صورتحال کے پیش نظر وزارت امور کشمیر نے وزیراعظم نواز شریف کوتنازع حل کرنے کیلیے کہا تھا۔ وزیراعظم نے وزیر امور کشمیر، وزیر اطلاعات اور وزیر پانی و بجلی پر مشتمل3 رکنی کمیٹی قائم کی تھی جس نے تجویزکیاکہ اس معاملے کو بائونڈری کمیشن تشکیل کرکے حل کیا جاسکتا ہے۔ بائونڈری کمیشن کی تشکیل کے حوالے سے وزارت قانون و انصاف کی رائے لی گئی جس نے 3 ریٹائرڈ ججوں کے نام تجویز کیے ہیں۔
وزیراعظم نواز شریف نے دیا مر بھاشا ڈیم کی حدود پر خیبرپختونخوا اور گلگت بلتستان حکومت کے درمیان پیدا ہونے والے سرحدی تنازعے کے حل کیلیے3 ریٹائرڈ ججوں پر مشتمل بائونڈری کمیشن کی تشکیل کیلیے سمری منظورکرلی۔
آئندہ ہفتے کمیشن کی تشکیل کا باضابطہ نوٹیفیکیشن جاری کردیا جائے گا۔ مجوزہ کمیشن دونوں حکومتوں کے دعوے کا جائزہ لے کر خیبرپختونخوا اور گلگت بلتستان کے درمیان سرحدی پٹی کا ازسرنو تعین کرے گا۔ دیامر بھاشا ڈیم کی اراضی اور ڈیم کے ایک پاور ہائوس کی تعمیر کی جگہ پر دونوں حکومتوں کے درمیان تنازع مشرف دور سے چلا آرہا ہے، تنازع کی وجہ سے معاوضوں کی ادائیگی میں بھی رکاوٹ پیش آرہی ہے، اس صورتحال کے پیش نظر وزارت امور کشمیر نے وزیراعظم نواز شریف کوتنازع حل کرنے کیلیے کہا تھا۔ وزیراعظم نے وزیر امور کشمیر، وزیر اطلاعات اور وزیر پانی و بجلی پر مشتمل3 رکنی کمیٹی قائم کی تھی جس نے تجویزکیاکہ اس معاملے کو بائونڈری کمیشن تشکیل کرکے حل کیا جاسکتا ہے۔ بائونڈری کمیشن کی تشکیل کے حوالے سے وزارت قانون و انصاف کی رائے لی گئی جس نے 3 ریٹائرڈ ججوں کے نام تجویز کیے ہیں۔