ہمارے جذبات احساسات ایک سے ہیں اوم پوری دیویادتہ
تاریخی مقامات کی سیر،اہم شخصیات سےملاقات اورشاپنگ نے مختصردورےکویادگاربنا دیا: بھارتی فنکاروں کا ’’ایکسپریس‘‘کوانٹرویو
اوم پوری اور دیویا دتہ پریس کانفرنس سے خطاب کر تے ہوئے
زندہ دل لوگوں کا شہرلاہورفنون لطیفہ کی سرگرمیوں کے حوالے سے ہمیشہ نمایاں رہا ہے۔
ویسے تو غیرملکی فنکارلاہورکے علاوہ کراچی اوراسلام آباد میں بھی آتے رہتے ہیں لیکن جس طرح سے غیر ملکی مہمانوں کولاہورمیں خوش آمدید کہا جاتا ہے اوران کی میزبانی کی جاتی ہے اس کی کوئی دوسری مثال نہیں ملتی۔ اداکارنصیرالدین شاہ ہوں یا شتروگھن سنہا یا پھر ہنس راج اوردلیر مہدی سمیت دیگرفنکاراورگلوکار، لاہورکے لوگ ان معروف فنکاروں کی میزبانی کرنے کیلئے پیش پیش رہتے ہیں۔
گزشتہ ہفتے بالی وڈ کے ورسٹائل اداکاراوم پوری ساتھی اداکارہ دیویا دتہ کے ہمراہ پاکستان آئے تھے۔ دیویا دتہ تواتوار کے روز مصروفیت کے باعث اپنے چھوٹے بھائی ڈاکٹرراہول کے ہمراہ واہگہ بارڈرکے راستے واپس ہندوستان جاچکی ہیں لیکن اوم پوری اپنی اہلیہ سیما کپوراور منیجر سنیل گور کے ہمراہ لاہور میں ہی ہیں اور ممکنا طور پر آج بھارت روانہ ہو جائیں گی۔
اوم پوری اوردیویادتہ نے چارروزتک لاہورمیں سٹیج ڈرامہ '' تیری امریتا '' پیش کیا جس کودیکھنے فنون لطیفہ کے علاوہ مختلف شعبہ ہائے زندگی کی اہم شخصیات بھی الحمراء ہال میں آتی رہیں۔ انگریزی زبان کے مقبول ڈرامہ '' لولیٹرز'' کوپنجابی زبان میں معروف رائٹرجاویدصدیقی نے منفرد انداز سے لکھا ہے اوراس کو'' تیری امریتا '' کے نام سے پہلے اداکارہ شبانہ اعظمی اورفاروق شیخ مرحوم ہندی زبان میں پیش کیا کرتے تھے لیکن اوم پوری اوردیویادتہ نے ڈرامے کوپنجابی زبان میں پیش کیا۔
ایک گھنٹہ چالیس منٹ دورانیہ کے اس کھیل میں جس طرح سے اوم پوری اور دیو یادتہ نے اپنی فنکارانہ صلاحیتوں کے ذریعے لوگوں کے چہروں پرمسکراہٹیں بکھیریں تووہیں بہت سے حاضرین کی آنکھیں نم بھی دکھائی دیں۔ دونوں فنکاروں کی شاندارپرفارمنس پرلاہوریوں نے انہیں بھرپوراندازسے داد دی۔ لاہورمیں قیام کے دوران اوم پوری اوردیویادتہ نے بہت سی اہم شخصیات سے ملاقات کی ۔ ایک طرف پاکستان مسلم لیگ (ن )کے رہنما حمزہ شہباز، مسلم لیگ (ق )کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین اور چوہدری پرویزالہٰی سے غیررسمی ملاقاتیں ہوئیں تودوسری جانب فیض احمد فیض کی صاحبزادیوں سلیمہ ہاشمی اورمنیزہ ہاشمی کی دعوت پر فیض گھربھی گئے۔ ڈریس ڈیزائنر بی جی نے بھی بھارتی مہمانوں کوسیراورشاپنگ کروانے میں اہم کردارادا کیا۔ ایک طرف تو خریداری ہوتی رہی اوردوسری جانب لاہوریوں نے معروف فنکاروں پرتحائف کی بارش بھی کردی۔ اوم پوری اوردیویادتہ نے لاہور میں حضرت داتاگنج بخش کے مزارپرحاضری دی اوردونوں ملکوں کے تعلقات کی بہتری کیلئے خصوصی دعابھی کی۔
لاہورمیں قیام کے دوران ''نمائندہ ایکسپریس''کوخصوصی انٹرویودیتے ہوئے ورسٹائل اداکاراوم پوری نے کہاکہ پاکستان اوربھارت میں بسنے والوں کی رنگ ونسل ، زبان، ملبوسات اوررسمیں ایک سی ہیں۔ ہم الگ نہیں ایک ہی ہیں۔ میری لاہوردیکھنے کی بڑی تمنا تھی اوراب صحیح معنوں میں لاہور آکرمیرا دوسرا'جنم' ہو گیا۔ لاہوریوں کی مہمان نوازی کے بارے میں بہت سن رکھا تھا لیکن یہاں آکریوں محسوس کیا ہے کہ جو کچھ سنا تھا وہ کم تھا ۔ یہاں توہرکوئی میزبانی کرنے کوتیار رہتا ہے۔ گزشتہ 25برس سے لاہورکے بارے میں بہت کچھ سن رکھا تھا۔ اکثربیرون ممالک شوتنگ کیلئے جاتے توبہت سے پاکستانیوں سے ملاقات رہتی اورہرکوئی لاہورکی تعریف کرتا دکھائی دیتا تھا۔ جس کی وجہ سے یہ میری دیرینہ خواہش تھی جس کوبرفی تھیٹرپروڈکشنز کے روح رواں بدرخان نے پورا کرنے میں اہم کردارادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہاں آکرمیںنے دیکھا کہ محبت کی آگ دونوں طرف لگی ہوئی ہے۔
ہمارے جذبات، احساسات ایک سے ہیں۔ دونوں ملکوں کے لوگ ایک دوسرے سے ملنا چاہتے ہیں، لیکن ویزے کی دیوارآڑے آجاتی ہے۔ نالائق لوگ دنیا کے ہرکونے میں موجود ہیں جومسائل کھڑے کرتے ہیں، میڈیا اگردس فیصد لوگوں کی خبروں کی بجائے اچھی چیزیں سامنے لائے تواس کے مثبت نتائج سامنے آئیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے ڈرامے بھارت میں بہت مشہور ہیں اور ہم لوگ انہیں بڑی چاہت سے دیکھتے ہیں۔ پاکستان کی فلموں کو بھی بھارت میں دیکھا جاتا ہے۔ حال ہی میں دوفلموں کونمائش کیلئے پیش کیاگیاتوان کو بہت سراہا گیا تھا۔ پاکستانی فلم میں کام کرنے کی آفرہوگی تواس اچھی کہانی اورکرداروالی فلم میں ضرور کام کرونگا۔ پاکستان میں بھارتی فلموں کی نمائش کے حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں اوم پوری نے کہا کہ یہ بڑی اچھی بات ہے کہ پاکستان میں بھارتی فلمیںنمائش کیلئے پیش کی جاتی ہیں لیکن یہ کہنا کہ انڈیا میں پاکستانی فلم ریلیزنہیں ہوتی، مناسب نہیں ہے۔
البتہ بھارت میں پاکستانی چینلز ٹیلی کاسٹ نہ کئے جانے کا افسوس ہے۔ میں اس حوالے سے میڈیا کے ذریعے حکومت تک یہ بات ضرورپہنچاؤں گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان مخالف فلم '' غدر''میں کام کرنے کے بعد افسوس ہوا کہ مجھے ایسا نہیں کرنا چاہئے تھا۔ اس لئے میں یہ اعلان کرتا ہوں کہ آئندہ کسی پاکستان مخالف فلم میں کام نہیں کرونگا۔ میں جوکچھ یہاں کہہ رہا ہوں ، یہی بات بھارت میں بھی جاکرکہوں گا،کیونکہ میرا کسی سیاسی جماعت سے تعلق نہیں۔ مگرایک بات توطے ہوچکی ہے کہ لاہور والے بہت مہمان نواز ہیں۔
اپنے مصروف شیڈول میں سے وقت نکال کرلاہورکودیکھا ، مگردل ابھی تک بھرا نہیں۔ میں اپنے سیالکوٹ بھی جانا چاہتا تھا کیونکہ میرے والد برٹش آرمی میں تھے اوران کی پوسٹنگ سیالکوٹ میں تھی مگروقت کی کمی کے باعث ایسا نہ ہو سکا، آئندہ وہاں ضرور جاؤں گا۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا پاکستان آنے کا مقصد پورا ہوگیا ہے۔ حضرت داتا گنج بخش کے مزار پرحاضری دینا بہت بڑی سعادت ہے۔ لاہوربہت خوبصورت شہرہے۔ جس طرح کراچی ، ممبئی جیسا ہے ، ویسے لاہور بالکل دہلی جیسا لگتاہے۔ اس موقع پراوم پوری نے اس بات کی تصحیح کی کہ آنجہانی امریش پوری ان کے بھائی تھے۔ اکثرلوگ سمجھتے ہیں کہ امریش پوری ان کے بھائی تھے۔
اداکارہ دیویا دتہ نے کہا کہ لاہورکوفن وثقافت کا گہوارا کہا جاتاہے۔ یہ بات بالکل درست ہے فن اورثقافت میں واقعی لاہور اپنی مثال آپ ہے۔ میں نے مختصرقیام کے دوران کوئی بھی لمحہ ضائع نہیں کیا۔ شاپنگ کے ساتھ مختلف مقامات کی سیرکی۔ تاریخی عمارات دیکھ کردل خوش ہوگیا۔ الحمراء تھیٹرمیں جب ریہرسل کیلئے ہم لوگ پہنچے تواس قدرخوبصورت عمارت دیکھ کردنگ رہ گئی۔ ایسے مقامات دنیا میں بہت کم ہیں۔ جہاں تک بات لاہورمیں سٹیج ڈرامے میں پرفارم کرنے کی ہے توبہت اچھالگا۔ میں پہلی بار لاہورمیں پرفارم کررہی تھی اورپھر اوم پوری جیسے مہان فنکارکے ساتھ پرفارم کرنا آسان بات نہیں تھی۔ لیکن یہاں بہت اچھا رسپانس ملا۔ لوگوں نے میرے کام کوبہت سراہا اورمیری حوصلہ افزائی کی گئی۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ سرحد پار کر کے بہت خوبصورت احساس ہوا۔ ہمارے بڑوں کی جڑیں یہیں پرہیں۔ میرے والد کا تعلق ڈیرہ اسماعیل خان جبکہ میری والدہ کراچی کی ہیں۔ چند برس قبل اپنی والدہ کولے کرکراچی آئی تووہ جذباتی ہوگئی تھیں۔ پہلی بارلاہورآئی ہوں۔ لاہور کے لوگوں کے بارے میں بہت سنا ہے کہ وہ بڑے مہمان نوازہیں۔ پاکستان آکر یہ محسوس نہیں ہواکہ ہم کسی دوسرے ملک میں آئے ہیں۔ حضرت داتا گنج بخش کے مزارپرحاضری دینے کی تمنا بہت پرانی تھی جویہاں آکرپوری ہوئی۔ مزار پر حاضری دے کردلی سکون ملا اوراس موقع پرمیں نے بہت سی دعائیں بھی مانگی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں نے متعدد بالی وڈ فلموں میں ایسے کردارنبھائے ہیں جو پاکستان کی عکاسی کرتے ہیں۔ ''ویرزارا'' میں ، میںنے ایک ایسی نوکرانی کاکردار ادا کیا تھا جوپوٹہواری زبان بولتی تھی۔ یہ تجربہ بہت اچھا تھا ، جہاں تک بات میری پنجابی کی ہے تومیری پیدائش بھارتی پنجاب کے شہر امرتسرمیںہوئی اوراپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد میں نے بالی وڈ فلموں کا رخ کیا۔ شاپنگ کرنے کے حوالے سے دیویادتہ نے کہا کہ پاکستان میں ملبوسات کی بڑی ورائٹی دستیاب ہے اوریہ دیکھ کرمجھے بے حد خوشی ہوئی کہ بھارتی ملبوسات کوبھی یہاں بہت پسند کیا جاتا ہے۔ دیویادتہ نے بتایاکہ لاہور میں سیرکرنے اورشاپنگ کروانے میں ڈریس ڈیزائنر بی جی نے بہت مدد کی۔
وہ ایک باکمال ڈیزائنر اورایک اچھی انسان بھی ہیں۔ انہوں نے جہاں لاہورمیں شاپنگ کروائی وہیں چٹ پٹے کھانوں سے بھی تواضع کی۔ میں نے لاہور میں مشہورفروٹ چارٹ، پیٹھی والے لڈو، گول گپے اورلسی بھی پی۔ انارکلی بازار، لبرٹی مارکیٹ سمیت دیگرمقامات پر جا کر بہت اچھا لگا۔ شاپنگ مالز میں ہر طرح کی ورائٹی موجود تھی ۔ دوسری جانب مارکیٹوں میں شاپنگ کے دوران بہت سے پرستاروں سے بھی ملاقات ہوئی جنہوںنے تصاویربنوائیں اورآٹوگراف لئے جبکہ بہت سے دکانداروں نے تحائف دیئے جومجھے لاہور کی یاد دلاتے رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ڈریس ڈیزائنربی جی کے علاوہ ان کی بیوٹیشن صاحبزادی عینی نے مجھے اپنی شخصیت کوپرکشش بنانے کیلئے بہت سی ٹپس دیں جن پرابھی سے عمل شروع کردیا ہے۔
ایک سوال کے جواب میں دیویادتہ نے کہا کہ وہ جانتی ہیں کہ ایک فنکارکتنی پابندیوں میں جکڑا ہوتا ہے اورپاکستان آکر وہ پابندی میں نہیں بلکہ آزادانہ گھومنا چاہتی تھیں۔ اسی لئے میرے یہاں گزارے لمحات ہمیشہ کیلئے خوبصورت یادیں بن کرمیرے ساتھ رہیں گے۔ دورہ پاکستان میں میرابھائی ڈاکٹر راہول دتہ بھی میرے ساتھ تھا جس نے یہاں پرچند روز کے دوران اتنی یادیں سمیٹ لی ہیں کہ یہاں سے جانے کا سوچتے ہوئے ہماری آنکھیں نم ہوجاتی ہیں۔ مگر کیاکریں کہ اپنی فنی مصروفیت کی وجہ سے واپس توجانا ہی ہے لیکن ایک وعدہ ہے کہ اب پاکستان اورخصوصاً لاہورآنے کا سلسلہ جاری رہے گا۔ لاہورمیں بہت سے اچھے اورخوبصورت لوگوںسے ملاقات ہوئی جوچند دنوں کے دوران ہی اتنے مضبوط رشتوں میں بدل چکی ہے کہ ان کاکوئی نام نہیں ہے لیکن یہ رشتے اٹوٹ ہیں۔
اس موقع پر برفی تھیٹرپروڈکشنزکے روح رواں بدرخان نے کہا کہ فن وثقافت کے ذریعے ہم دونوں ممالک کے رشتوںکومزیدمضبوط بنانے کیلئے اس سفرکوجاری رکھیں گے۔
ویسے تو غیرملکی فنکارلاہورکے علاوہ کراچی اوراسلام آباد میں بھی آتے رہتے ہیں لیکن جس طرح سے غیر ملکی مہمانوں کولاہورمیں خوش آمدید کہا جاتا ہے اوران کی میزبانی کی جاتی ہے اس کی کوئی دوسری مثال نہیں ملتی۔ اداکارنصیرالدین شاہ ہوں یا شتروگھن سنہا یا پھر ہنس راج اوردلیر مہدی سمیت دیگرفنکاراورگلوکار، لاہورکے لوگ ان معروف فنکاروں کی میزبانی کرنے کیلئے پیش پیش رہتے ہیں۔
گزشتہ ہفتے بالی وڈ کے ورسٹائل اداکاراوم پوری ساتھی اداکارہ دیویا دتہ کے ہمراہ پاکستان آئے تھے۔ دیویا دتہ تواتوار کے روز مصروفیت کے باعث اپنے چھوٹے بھائی ڈاکٹرراہول کے ہمراہ واہگہ بارڈرکے راستے واپس ہندوستان جاچکی ہیں لیکن اوم پوری اپنی اہلیہ سیما کپوراور منیجر سنیل گور کے ہمراہ لاہور میں ہی ہیں اور ممکنا طور پر آج بھارت روانہ ہو جائیں گی۔
اوم پوری اوردیویادتہ نے چارروزتک لاہورمیں سٹیج ڈرامہ '' تیری امریتا '' پیش کیا جس کودیکھنے فنون لطیفہ کے علاوہ مختلف شعبہ ہائے زندگی کی اہم شخصیات بھی الحمراء ہال میں آتی رہیں۔ انگریزی زبان کے مقبول ڈرامہ '' لولیٹرز'' کوپنجابی زبان میں معروف رائٹرجاویدصدیقی نے منفرد انداز سے لکھا ہے اوراس کو'' تیری امریتا '' کے نام سے پہلے اداکارہ شبانہ اعظمی اورفاروق شیخ مرحوم ہندی زبان میں پیش کیا کرتے تھے لیکن اوم پوری اوردیویادتہ نے ڈرامے کوپنجابی زبان میں پیش کیا۔
ایک گھنٹہ چالیس منٹ دورانیہ کے اس کھیل میں جس طرح سے اوم پوری اور دیو یادتہ نے اپنی فنکارانہ صلاحیتوں کے ذریعے لوگوں کے چہروں پرمسکراہٹیں بکھیریں تووہیں بہت سے حاضرین کی آنکھیں نم بھی دکھائی دیں۔ دونوں فنکاروں کی شاندارپرفارمنس پرلاہوریوں نے انہیں بھرپوراندازسے داد دی۔ لاہورمیں قیام کے دوران اوم پوری اوردیویادتہ نے بہت سی اہم شخصیات سے ملاقات کی ۔ ایک طرف پاکستان مسلم لیگ (ن )کے رہنما حمزہ شہباز، مسلم لیگ (ق )کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین اور چوہدری پرویزالہٰی سے غیررسمی ملاقاتیں ہوئیں تودوسری جانب فیض احمد فیض کی صاحبزادیوں سلیمہ ہاشمی اورمنیزہ ہاشمی کی دعوت پر فیض گھربھی گئے۔ ڈریس ڈیزائنر بی جی نے بھی بھارتی مہمانوں کوسیراورشاپنگ کروانے میں اہم کردارادا کیا۔ ایک طرف تو خریداری ہوتی رہی اوردوسری جانب لاہوریوں نے معروف فنکاروں پرتحائف کی بارش بھی کردی۔ اوم پوری اوردیویادتہ نے لاہور میں حضرت داتاگنج بخش کے مزارپرحاضری دی اوردونوں ملکوں کے تعلقات کی بہتری کیلئے خصوصی دعابھی کی۔
لاہورمیں قیام کے دوران ''نمائندہ ایکسپریس''کوخصوصی انٹرویودیتے ہوئے ورسٹائل اداکاراوم پوری نے کہاکہ پاکستان اوربھارت میں بسنے والوں کی رنگ ونسل ، زبان، ملبوسات اوررسمیں ایک سی ہیں۔ ہم الگ نہیں ایک ہی ہیں۔ میری لاہوردیکھنے کی بڑی تمنا تھی اوراب صحیح معنوں میں لاہور آکرمیرا دوسرا'جنم' ہو گیا۔ لاہوریوں کی مہمان نوازی کے بارے میں بہت سن رکھا تھا لیکن یہاں آکریوں محسوس کیا ہے کہ جو کچھ سنا تھا وہ کم تھا ۔ یہاں توہرکوئی میزبانی کرنے کوتیار رہتا ہے۔ گزشتہ 25برس سے لاہورکے بارے میں بہت کچھ سن رکھا تھا۔ اکثربیرون ممالک شوتنگ کیلئے جاتے توبہت سے پاکستانیوں سے ملاقات رہتی اورہرکوئی لاہورکی تعریف کرتا دکھائی دیتا تھا۔ جس کی وجہ سے یہ میری دیرینہ خواہش تھی جس کوبرفی تھیٹرپروڈکشنز کے روح رواں بدرخان نے پورا کرنے میں اہم کردارادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہاں آکرمیںنے دیکھا کہ محبت کی آگ دونوں طرف لگی ہوئی ہے۔
ہمارے جذبات، احساسات ایک سے ہیں۔ دونوں ملکوں کے لوگ ایک دوسرے سے ملنا چاہتے ہیں، لیکن ویزے کی دیوارآڑے آجاتی ہے۔ نالائق لوگ دنیا کے ہرکونے میں موجود ہیں جومسائل کھڑے کرتے ہیں، میڈیا اگردس فیصد لوگوں کی خبروں کی بجائے اچھی چیزیں سامنے لائے تواس کے مثبت نتائج سامنے آئیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے ڈرامے بھارت میں بہت مشہور ہیں اور ہم لوگ انہیں بڑی چاہت سے دیکھتے ہیں۔ پاکستان کی فلموں کو بھی بھارت میں دیکھا جاتا ہے۔ حال ہی میں دوفلموں کونمائش کیلئے پیش کیاگیاتوان کو بہت سراہا گیا تھا۔ پاکستانی فلم میں کام کرنے کی آفرہوگی تواس اچھی کہانی اورکرداروالی فلم میں ضرور کام کرونگا۔ پاکستان میں بھارتی فلموں کی نمائش کے حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں اوم پوری نے کہا کہ یہ بڑی اچھی بات ہے کہ پاکستان میں بھارتی فلمیںنمائش کیلئے پیش کی جاتی ہیں لیکن یہ کہنا کہ انڈیا میں پاکستانی فلم ریلیزنہیں ہوتی، مناسب نہیں ہے۔
البتہ بھارت میں پاکستانی چینلز ٹیلی کاسٹ نہ کئے جانے کا افسوس ہے۔ میں اس حوالے سے میڈیا کے ذریعے حکومت تک یہ بات ضرورپہنچاؤں گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان مخالف فلم '' غدر''میں کام کرنے کے بعد افسوس ہوا کہ مجھے ایسا نہیں کرنا چاہئے تھا۔ اس لئے میں یہ اعلان کرتا ہوں کہ آئندہ کسی پاکستان مخالف فلم میں کام نہیں کرونگا۔ میں جوکچھ یہاں کہہ رہا ہوں ، یہی بات بھارت میں بھی جاکرکہوں گا،کیونکہ میرا کسی سیاسی جماعت سے تعلق نہیں۔ مگرایک بات توطے ہوچکی ہے کہ لاہور والے بہت مہمان نواز ہیں۔
اپنے مصروف شیڈول میں سے وقت نکال کرلاہورکودیکھا ، مگردل ابھی تک بھرا نہیں۔ میں اپنے سیالکوٹ بھی جانا چاہتا تھا کیونکہ میرے والد برٹش آرمی میں تھے اوران کی پوسٹنگ سیالکوٹ میں تھی مگروقت کی کمی کے باعث ایسا نہ ہو سکا، آئندہ وہاں ضرور جاؤں گا۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا پاکستان آنے کا مقصد پورا ہوگیا ہے۔ حضرت داتا گنج بخش کے مزار پرحاضری دینا بہت بڑی سعادت ہے۔ لاہوربہت خوبصورت شہرہے۔ جس طرح کراچی ، ممبئی جیسا ہے ، ویسے لاہور بالکل دہلی جیسا لگتاہے۔ اس موقع پراوم پوری نے اس بات کی تصحیح کی کہ آنجہانی امریش پوری ان کے بھائی تھے۔ اکثرلوگ سمجھتے ہیں کہ امریش پوری ان کے بھائی تھے۔
اداکارہ دیویا دتہ نے کہا کہ لاہورکوفن وثقافت کا گہوارا کہا جاتاہے۔ یہ بات بالکل درست ہے فن اورثقافت میں واقعی لاہور اپنی مثال آپ ہے۔ میں نے مختصرقیام کے دوران کوئی بھی لمحہ ضائع نہیں کیا۔ شاپنگ کے ساتھ مختلف مقامات کی سیرکی۔ تاریخی عمارات دیکھ کردل خوش ہوگیا۔ الحمراء تھیٹرمیں جب ریہرسل کیلئے ہم لوگ پہنچے تواس قدرخوبصورت عمارت دیکھ کردنگ رہ گئی۔ ایسے مقامات دنیا میں بہت کم ہیں۔ جہاں تک بات لاہورمیں سٹیج ڈرامے میں پرفارم کرنے کی ہے توبہت اچھالگا۔ میں پہلی بار لاہورمیں پرفارم کررہی تھی اورپھر اوم پوری جیسے مہان فنکارکے ساتھ پرفارم کرنا آسان بات نہیں تھی۔ لیکن یہاں بہت اچھا رسپانس ملا۔ لوگوں نے میرے کام کوبہت سراہا اورمیری حوصلہ افزائی کی گئی۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ سرحد پار کر کے بہت خوبصورت احساس ہوا۔ ہمارے بڑوں کی جڑیں یہیں پرہیں۔ میرے والد کا تعلق ڈیرہ اسماعیل خان جبکہ میری والدہ کراچی کی ہیں۔ چند برس قبل اپنی والدہ کولے کرکراچی آئی تووہ جذباتی ہوگئی تھیں۔ پہلی بارلاہورآئی ہوں۔ لاہور کے لوگوں کے بارے میں بہت سنا ہے کہ وہ بڑے مہمان نوازہیں۔ پاکستان آکر یہ محسوس نہیں ہواکہ ہم کسی دوسرے ملک میں آئے ہیں۔ حضرت داتا گنج بخش کے مزارپرحاضری دینے کی تمنا بہت پرانی تھی جویہاں آکرپوری ہوئی۔ مزار پر حاضری دے کردلی سکون ملا اوراس موقع پرمیں نے بہت سی دعائیں بھی مانگی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں نے متعدد بالی وڈ فلموں میں ایسے کردارنبھائے ہیں جو پاکستان کی عکاسی کرتے ہیں۔ ''ویرزارا'' میں ، میںنے ایک ایسی نوکرانی کاکردار ادا کیا تھا جوپوٹہواری زبان بولتی تھی۔ یہ تجربہ بہت اچھا تھا ، جہاں تک بات میری پنجابی کی ہے تومیری پیدائش بھارتی پنجاب کے شہر امرتسرمیںہوئی اوراپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد میں نے بالی وڈ فلموں کا رخ کیا۔ شاپنگ کرنے کے حوالے سے دیویادتہ نے کہا کہ پاکستان میں ملبوسات کی بڑی ورائٹی دستیاب ہے اوریہ دیکھ کرمجھے بے حد خوشی ہوئی کہ بھارتی ملبوسات کوبھی یہاں بہت پسند کیا جاتا ہے۔ دیویادتہ نے بتایاکہ لاہور میں سیرکرنے اورشاپنگ کروانے میں ڈریس ڈیزائنر بی جی نے بہت مدد کی۔
وہ ایک باکمال ڈیزائنر اورایک اچھی انسان بھی ہیں۔ انہوں نے جہاں لاہورمیں شاپنگ کروائی وہیں چٹ پٹے کھانوں سے بھی تواضع کی۔ میں نے لاہور میں مشہورفروٹ چارٹ، پیٹھی والے لڈو، گول گپے اورلسی بھی پی۔ انارکلی بازار، لبرٹی مارکیٹ سمیت دیگرمقامات پر جا کر بہت اچھا لگا۔ شاپنگ مالز میں ہر طرح کی ورائٹی موجود تھی ۔ دوسری جانب مارکیٹوں میں شاپنگ کے دوران بہت سے پرستاروں سے بھی ملاقات ہوئی جنہوںنے تصاویربنوائیں اورآٹوگراف لئے جبکہ بہت سے دکانداروں نے تحائف دیئے جومجھے لاہور کی یاد دلاتے رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ڈریس ڈیزائنربی جی کے علاوہ ان کی بیوٹیشن صاحبزادی عینی نے مجھے اپنی شخصیت کوپرکشش بنانے کیلئے بہت سی ٹپس دیں جن پرابھی سے عمل شروع کردیا ہے۔
ایک سوال کے جواب میں دیویادتہ نے کہا کہ وہ جانتی ہیں کہ ایک فنکارکتنی پابندیوں میں جکڑا ہوتا ہے اورپاکستان آکر وہ پابندی میں نہیں بلکہ آزادانہ گھومنا چاہتی تھیں۔ اسی لئے میرے یہاں گزارے لمحات ہمیشہ کیلئے خوبصورت یادیں بن کرمیرے ساتھ رہیں گے۔ دورہ پاکستان میں میرابھائی ڈاکٹر راہول دتہ بھی میرے ساتھ تھا جس نے یہاں پرچند روز کے دوران اتنی یادیں سمیٹ لی ہیں کہ یہاں سے جانے کا سوچتے ہوئے ہماری آنکھیں نم ہوجاتی ہیں۔ مگر کیاکریں کہ اپنی فنی مصروفیت کی وجہ سے واپس توجانا ہی ہے لیکن ایک وعدہ ہے کہ اب پاکستان اورخصوصاً لاہورآنے کا سلسلہ جاری رہے گا۔ لاہورمیں بہت سے اچھے اورخوبصورت لوگوںسے ملاقات ہوئی جوچند دنوں کے دوران ہی اتنے مضبوط رشتوں میں بدل چکی ہے کہ ان کاکوئی نام نہیں ہے لیکن یہ رشتے اٹوٹ ہیں۔
اس موقع پر برفی تھیٹرپروڈکشنزکے روح رواں بدرخان نے کہا کہ فن وثقافت کے ذریعے ہم دونوں ممالک کے رشتوںکومزیدمضبوط بنانے کیلئے اس سفرکوجاری رکھیں گے۔