لیڈی ہیلتھ ورکرزکو مستقل کرنے کیلیے کمیٹی قائم کردی گئی
نیشنل پروگرام کی لیڈی ہیلتھ ورکروں سمیت دیگر عملے کو یکم جولائی2012 سے مستقل کیا جائے گا، ڈاکٹر روشن بھٹی
نیشنل پروگرام کی لیڈی ہیلتھ ورکروں سمیت دیگر عملے کو یکم جولائی2012 سے مستقل کیا جائے گا، ڈاکٹر روشن بھٹی۔ فوٹو : فائل
صوبائی محکمہ صحت نے کراچی سمیت صوبے میں کام کرنے والے نیشنل پروگرام برائے خاندانی منصوبہ بندی کے تحت کام کرنے والی لیڈی ہیلتھ ورکرز اور دیگر عملے کو مستقل کرنے کے لیے9 رکنی کمیٹی قائم کردی ۔
جس کے سربراہ ایڈیشنل سیکریٹری صحت ہوں گے، نیشنل پروگرام کے کوآرڈینٹرڈاکٹر روشن بھٹی نے بتایا کہ نیشنل پروگرام کی لیڈی ہیلتھ ورکروں سمیت دیگر عملے کو یکم جولائی2012 سے مستقل کیا جائے گا، یہ احکام سپریم کورٹ نے جاری کیے تھے ، انھوں نے بتایا کہ سیکریٹری صحت اقبال درانی نے سپریم کورٹ کے احکام کی روشنی میں نیشنل پروگرام کی 22ہزار576 لیڈی ہیلتھ ورکروں، 770لیڈی ہیلتھ سپروائزروں،688 ڈرائیوروں اور34 دیگر عملے کو مقتل کرنے کے لیے ان کی فزیکل ویری فیکیشن کا کام شروع کردیا گیا ، عملے کی تعلیمی اسناد سمیت دیگر کوائف اکٹھے بھی کیے جارہے ہیں ،لیڈی ہیلتھ ورکروں کو گریڈ 5جبکہ سپروائزروں کو گریڈ7 میں مستقل کیاجائے گا ، ڈرائیوروں کوگریڈ 4 ملے گا جس کے بعد مجموعی طور پر23ہزار کا عملہ محکمہ صحت کا ملازم ہوجائے گا ،انھوں نے کہا کہ نیشنل پروگرام کے تحت کام کرنے والے 23 ہزار کا عملہ 19سال سے عارضی بنیادوں پرکام کررہا ہے۔
سپریم کورٹ نے یکم جولائی2012 کو عملے کو مستقل کرنے کے احکام جاری کیے تھے جس پر سیکریٹری صحت نے کمیٹی قائم کردی، عملے کی ویری فیکیشن کا کام شروع کردیا ہے جو 2 ماہ میں مکمل کرلیاجائے گا ،ان کا کہنا تھا کہ کراچی میں ان لیڈی ہیلتھ ورکروں کی تعداد3 ہزار97 ہے، ویری فیکیشن کا عمل مکمل ہونے کے بعد صوبائی محکمہ صحت کی جانب سے ملازمت کا لیٹرجاری کیاجائے گا ، ایک سوال کے جواب میں انھوں نے بتایا کہ مستقل کیے جانے والے عملے پر سرکاری پینشن کا اطلاق ملازمت کے 10سال مکمل کرنے کے بعد ہوگا ،دریں اثنا نیشنل پروگرام کے کوآرڈی نیٹر ڈاکٹر روشن بھٹی نے گزشتہ روز ای ڈی اوہیلتھ کراچی ڈاکٹر ظفر اعجاز سے بھی ملاقات کی جس میں ای ڈی او ہیلتھ ڈاکٹر ظفر اعجاز نے یقین دہانی کرائی کہ لیڈی ہیلتھ ورکروں کی تنخواہوں اور سپروائزروں کے پیٹرول سمیت دیگر مسائل جلدحل کرلیے جائیں گے ، انھوں نے کہا کہ جن لیڈی ہیلتھ ورکروں کی تنخواہیں کسی وجہ سے رکی ہوئی ہیں ان کی تنخواہیں ایک ہفتے کے اندر ان کے اکاؤئنٹ میں منتقل کردی جائیں گی ۔
جس کے سربراہ ایڈیشنل سیکریٹری صحت ہوں گے، نیشنل پروگرام کے کوآرڈینٹرڈاکٹر روشن بھٹی نے بتایا کہ نیشنل پروگرام کی لیڈی ہیلتھ ورکروں سمیت دیگر عملے کو یکم جولائی2012 سے مستقل کیا جائے گا، یہ احکام سپریم کورٹ نے جاری کیے تھے ، انھوں نے بتایا کہ سیکریٹری صحت اقبال درانی نے سپریم کورٹ کے احکام کی روشنی میں نیشنل پروگرام کی 22ہزار576 لیڈی ہیلتھ ورکروں، 770لیڈی ہیلتھ سپروائزروں،688 ڈرائیوروں اور34 دیگر عملے کو مقتل کرنے کے لیے ان کی فزیکل ویری فیکیشن کا کام شروع کردیا گیا ، عملے کی تعلیمی اسناد سمیت دیگر کوائف اکٹھے بھی کیے جارہے ہیں ،لیڈی ہیلتھ ورکروں کو گریڈ 5جبکہ سپروائزروں کو گریڈ7 میں مستقل کیاجائے گا ، ڈرائیوروں کوگریڈ 4 ملے گا جس کے بعد مجموعی طور پر23ہزار کا عملہ محکمہ صحت کا ملازم ہوجائے گا ،انھوں نے کہا کہ نیشنل پروگرام کے تحت کام کرنے والے 23 ہزار کا عملہ 19سال سے عارضی بنیادوں پرکام کررہا ہے۔
سپریم کورٹ نے یکم جولائی2012 کو عملے کو مستقل کرنے کے احکام جاری کیے تھے جس پر سیکریٹری صحت نے کمیٹی قائم کردی، عملے کی ویری فیکیشن کا کام شروع کردیا ہے جو 2 ماہ میں مکمل کرلیاجائے گا ،ان کا کہنا تھا کہ کراچی میں ان لیڈی ہیلتھ ورکروں کی تعداد3 ہزار97 ہے، ویری فیکیشن کا عمل مکمل ہونے کے بعد صوبائی محکمہ صحت کی جانب سے ملازمت کا لیٹرجاری کیاجائے گا ، ایک سوال کے جواب میں انھوں نے بتایا کہ مستقل کیے جانے والے عملے پر سرکاری پینشن کا اطلاق ملازمت کے 10سال مکمل کرنے کے بعد ہوگا ،دریں اثنا نیشنل پروگرام کے کوآرڈی نیٹر ڈاکٹر روشن بھٹی نے گزشتہ روز ای ڈی اوہیلتھ کراچی ڈاکٹر ظفر اعجاز سے بھی ملاقات کی جس میں ای ڈی او ہیلتھ ڈاکٹر ظفر اعجاز نے یقین دہانی کرائی کہ لیڈی ہیلتھ ورکروں کی تنخواہوں اور سپروائزروں کے پیٹرول سمیت دیگر مسائل جلدحل کرلیے جائیں گے ، انھوں نے کہا کہ جن لیڈی ہیلتھ ورکروں کی تنخواہیں کسی وجہ سے رکی ہوئی ہیں ان کی تنخواہیں ایک ہفتے کے اندر ان کے اکاؤئنٹ میں منتقل کردی جائیں گی ۔