پیپلزپارٹی نے کبھی کسی مجرم کی پشت پناہی نہیں کی شرجیل میمن

وزیرستان سمیت کہیں بھی میری کوشش سے امن ہو سکتا ہے تو حاضر ہوں، ایاز لطیف پلیجو

آج بھی پیپلزپارٹي کا ایم این اے جیل میں پڑا ہے لیکن ہم نے کسی پلیٹ فارم پر اس کی بات نہیں کی, شرجیل میمن کی ’’ ٹو دی پوائنٹ‘‘ میں شاہ زیب خانزادہ سے گفتگو فوٹو: فائل

پیپلز پارٹی کے رہنما شرجیل میمن نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی نے کبھی کسی مجرم کی پشت پناہی نہیں کی اور نہ ہی کسی مجرم کو سپورٹ کرتی ہے۔


آج بھی پیپلزپارٹي کا ایم این اے جیل میں پڑا ہے لیکن ہم نے کسی پلیٹ فارم پر اس کی بات نہیں کی۔ ایکسپریس نیوزکے پروگرام ''ٹودی پوائنٹ'' میں میزبان شاہ زیب خانزادہ سے گفتگو میں انھوں نے کہاکہ لیاری میں قیام امن کے لیے ایاز لطیف پلیجو نے ایک شہری کی حیثیت سے کردار ادا کیا ہے، ایاز لطیف حکومت میں نہیں ہیں اور ثانیہ نازاس فیصلے میں ذاتی حیثیت سے گئی ہیں وہ پیپلزپارٹی کی عہدیدار کی حیثیت سے نہیں گئیں۔ ثانیہ ناز کی اس فیصلے میں شرکت پر تادیبی کارروائی کا فیصلہ پارٹی کے اجلاس میں کیا جائیگا۔ لیاری پہلے بھی پیپلز پارٹی کا گڑھ تھا اور آج بھی ہے۔ ایازلطیف نے لیاری میں امن کے کیلیے جو بہتر سمجھا وہ کیا لیکن حکومت جرم کرنے والوں سے ویسے ہی نمٹے گی جیسا قانون کہتا ہے۔

اگر سنگین جرائم میں ملوث لوگ پاکستان سے چلے گئے ہیں تو پھر اس کی ذمے داری وفاق اور دیگر اداروں پر عائد ہوتی ہے۔ سارے کراچی میں آپریشن اپنی جگہ پر ہے وہ ہونا چاہیے میں نے کبھی آپریشن روکنے کا مطالبہ نہیں کیا لیکن پولیس مقابلوں میں پکڑے جانیوالے لوگوں کو عدالتوں میں پیش کرنا چاہیے۔ عزیر بلوچ اور بابا لاڈلہ کی مجھ سے میرے فون پر بات نہیں ہوئی تھی ان کے وفود میں آنے والے لوگوں کے موبائل پر میری بات ہوئی تھی جو وائبر پر کرائی گئی تھی۔ کراچی ہی نہیں ملک بھر میں کہیں بھی اگر میری کسی کوشش سے امن ہوسکتا ہے تو میں اس کے لیے تیار ہوں، تجزیہ کار مظہر عباس نے کہا کہ لیاری میں سب سے زیادہ پرابلم پیپلز پارٹی کو ہے، پیپلزپارٹی لیاری میں اندرونی سیاست کی نذر ہو گئی ہے۔ لیاری کے وارگینگ پہلے بھی تھے پہلے بھی لڑائی ہوتی تھی لیکن سیاسی قیادت اس کو روکتی تھی لیکن اب سیاسی قیادت وہاں سے ہٹ گئی ہے اس لیے اب یہ لڑائی نہیں رک رہی۔ لیاری میں پیپلزپارٹی یرغمال ہے۔
Load Next Story