ملک ریاض کا پشاور کے3 نابینا بچوں کا علاج کرانے کا اعلان
جوگن شاہ کے رہائشی محب علی کے6میں سے3بچے سمیر،الشبہ اور طلحہ بینائی سے محروم
پشاور : بینائی سے محروم بچے ایکسپریس نیوز سے گفتگو کر رہے ہیں ۔ فوٹو : ایکسپریس
بحریہ ٹاؤن کے چیئرمین ملک ریاض نے پشاور کے3 غریب نابینا بچوں کے علاج کی ذمے داری لے لی ہے۔
ایکسپریس نیوز نے ان بچوں کی خبر نشر کی تھی ۔ پشاورکے علاقے جوگن شاہ کے رہائشی محب علی کے6میں سے3بچے آنکھوں کے نورسے محروم ہیں، غریب اور لاچار والدین نے اپنے تینوں بیٹوں سمیرعلی، الشبہ اور ننھے طلحہ کا پشاور، اسلام آباد اورکراچی کے مختلف اسپتالوں سے علاج کرایا مگرہمیشہ غربت آڑے آئی اور بچوں کوآنکھوں کی روشنی نصیب نہ ہوئی۔ محب علی نے ایکسپریس نیوز کو بتایا کہ اس نے بچوں کا علاج مشن اسپتال، الشفا اسپتال اسلام آباد اور کراچی سے بھی کرایا، وہ بچوں کے علاج پر ایک لاکھ سے زائد روپے خرچ کرچکا ہے مگر ان کا کچھ نہ بن سکا۔ محب کا بڑا بیٹا سمیر علی جس کی آنکھوں کی روشنی تو نہیں مگر بلند عزم اور حوصلے سے اس نے پرائمری تک تعلیم ضرورمکمل کرلی ہے۔ اس نے بتایا کہ میں پڑھ لکھ کر بڑاآدمی بننا چاہتا ہوں اور اپنے والدین اور بہن بھائیوں کیلیے کچھ کرنا چاہتا ہوں مگر بینائی میرے رستے میں رکاوٹ ہے۔
محنت کش محب علی پیشے کے اعتبار سے ٹیکنیشن ہے مگرگھر اور بچوں کی حالت کے باعث اس کیلیے اب دو وقت کی روٹی کمانا بھی مشکل ہوگیا ہے۔ اس کے بچوں کا علاج لاہور میں ممکن ہے مگراس کے پاس کرائے تک کے پیسے نہیں۔ محب علی کی چھوٹی بیٹی الشبہ نے کہا کہ وہ اپنے والدین کو آنکھوں سے نہیں بلکہ دل سے دیکھتی ہے، عام بچوں کی طرح محب علی کے یہ تینوں بچے گھر سے باہر نکل کر کھیلنا کودنا چاہتے ہیں مگر آنکھوں کی روشنی نہ ہونے کے باعث انھیں اپنے والدین یا بڑی بہن عشا کا سہارا لینا پڑتا ہے،محب علی نے بتایا کہ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ لاہور میں علاج ہوسکتا ہے مگر میں بیروزگار اور نادار ہوں، حکومت سے مطالبہ ہے کہ وہ بچوں کے علاج میں میری مدد کرے۔ محب علی کی اپیل پر بحریہ ٹاؤن کے چیئرمین ملک ریاض نے تینوں بچوں کے علاج کی ذمے داری لے لی ہے۔
ایکسپریس نیوز نے ان بچوں کی خبر نشر کی تھی ۔ پشاورکے علاقے جوگن شاہ کے رہائشی محب علی کے6میں سے3بچے آنکھوں کے نورسے محروم ہیں، غریب اور لاچار والدین نے اپنے تینوں بیٹوں سمیرعلی، الشبہ اور ننھے طلحہ کا پشاور، اسلام آباد اورکراچی کے مختلف اسپتالوں سے علاج کرایا مگرہمیشہ غربت آڑے آئی اور بچوں کوآنکھوں کی روشنی نصیب نہ ہوئی۔ محب علی نے ایکسپریس نیوز کو بتایا کہ اس نے بچوں کا علاج مشن اسپتال، الشفا اسپتال اسلام آباد اور کراچی سے بھی کرایا، وہ بچوں کے علاج پر ایک لاکھ سے زائد روپے خرچ کرچکا ہے مگر ان کا کچھ نہ بن سکا۔ محب کا بڑا بیٹا سمیر علی جس کی آنکھوں کی روشنی تو نہیں مگر بلند عزم اور حوصلے سے اس نے پرائمری تک تعلیم ضرورمکمل کرلی ہے۔ اس نے بتایا کہ میں پڑھ لکھ کر بڑاآدمی بننا چاہتا ہوں اور اپنے والدین اور بہن بھائیوں کیلیے کچھ کرنا چاہتا ہوں مگر بینائی میرے رستے میں رکاوٹ ہے۔
محنت کش محب علی پیشے کے اعتبار سے ٹیکنیشن ہے مگرگھر اور بچوں کی حالت کے باعث اس کیلیے اب دو وقت کی روٹی کمانا بھی مشکل ہوگیا ہے۔ اس کے بچوں کا علاج لاہور میں ممکن ہے مگراس کے پاس کرائے تک کے پیسے نہیں۔ محب علی کی چھوٹی بیٹی الشبہ نے کہا کہ وہ اپنے والدین کو آنکھوں سے نہیں بلکہ دل سے دیکھتی ہے، عام بچوں کی طرح محب علی کے یہ تینوں بچے گھر سے باہر نکل کر کھیلنا کودنا چاہتے ہیں مگر آنکھوں کی روشنی نہ ہونے کے باعث انھیں اپنے والدین یا بڑی بہن عشا کا سہارا لینا پڑتا ہے،محب علی نے بتایا کہ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ لاہور میں علاج ہوسکتا ہے مگر میں بیروزگار اور نادار ہوں، حکومت سے مطالبہ ہے کہ وہ بچوں کے علاج میں میری مدد کرے۔ محب علی کی اپیل پر بحریہ ٹاؤن کے چیئرمین ملک ریاض نے تینوں بچوں کے علاج کی ذمے داری لے لی ہے۔