بدترین سانحے پربھی اتنظامیہ کی روایتی بے حسی برقرار
لواحقین اسپتالوںکے چکرلگانے پرمجبور،پیاروںکی لاشوںکاحصول بھی مشکل مرحلہ بن گیا
لواحقین اسپتالوںکے چکرلگانے پرمجبور،پیاروںکی لاشوںکاحصول بھی مشکل مرحلہ بن گیا، فوٹو : فائل
KARACHI:
سانحہ کراچی میں جاں بحق ہونے والوںکے لواحقین کیلیے اپنے پیاروں کی لاشوں کا حصول بھی ایک مشکل ترین مرحلہ بن گیا۔
لواحقین مختلف اسپتالوں کے چکرلگانے پرمجبوراوربیشتراپنے پیاروںکی یادمیں اسپتالوںکے باہرہی رات گزارنے پرمجبورہیں،اس موقع پرانتظامیہ کی روایتی بے حسی برقرار ہے ، لواحقین کا کہنا ہے کہ حکومتی سطح پرانھیں کسی قسم کی کوئی معلومات فراہم نہیںکی جارہی ہیں ۔
لواحقین کاکہناہے کہ اس دردناک گھڑی میں جب انتظامیہ کوان کے شانہ بشانہ کھڑے ہوناچاہیے تووہ اس وقت بھی اپنی روایتی بے حسی کامظاہرہ کررہی ہے،لواحقین سے ایک اسپتال سے دوسرے اسپتال کے چکر لگوائے جارہے ہیں،بیشترلواحقین اپنے پیاروں کی یاد میں گھروں پر جانے سے بھی گریزکررہے ہیں اور اسپتالوں کے باہر ہی راتیں گزار رہے ہیں کہ ایسا نہ ہو وہ گھروں کوجائیں اور ان کے پیارے کی میت یہاں آجائے، معلوماتی کائونٹر توہر اسپتال میں بنادیے گئے ہیں لیکن ان سے کوئی معلومات حاصل نہیں ہورہی ہے۔
سانحہ کراچی میں جاں بحق ہونے والوںکے لواحقین کیلیے اپنے پیاروں کی لاشوں کا حصول بھی ایک مشکل ترین مرحلہ بن گیا۔
لواحقین مختلف اسپتالوں کے چکرلگانے پرمجبوراوربیشتراپنے پیاروںکی یادمیں اسپتالوںکے باہرہی رات گزارنے پرمجبورہیں،اس موقع پرانتظامیہ کی روایتی بے حسی برقرار ہے ، لواحقین کا کہنا ہے کہ حکومتی سطح پرانھیں کسی قسم کی کوئی معلومات فراہم نہیںکی جارہی ہیں ۔
لواحقین کاکہناہے کہ اس دردناک گھڑی میں جب انتظامیہ کوان کے شانہ بشانہ کھڑے ہوناچاہیے تووہ اس وقت بھی اپنی روایتی بے حسی کامظاہرہ کررہی ہے،لواحقین سے ایک اسپتال سے دوسرے اسپتال کے چکر لگوائے جارہے ہیں،بیشترلواحقین اپنے پیاروں کی یاد میں گھروں پر جانے سے بھی گریزکررہے ہیں اور اسپتالوں کے باہر ہی راتیں گزار رہے ہیں کہ ایسا نہ ہو وہ گھروں کوجائیں اور ان کے پیارے کی میت یہاں آجائے، معلوماتی کائونٹر توہر اسپتال میں بنادیے گئے ہیں لیکن ان سے کوئی معلومات حاصل نہیں ہورہی ہے۔