صورتحال شکست و ریخت کا نتیجہ ہے

تھرپارکر کی تلخ اور ناقابل فہم صورتحال کے حوالہ سے عدالت عظمیٰ کا استدلال چشم کشا ہے

حکومت سوتی رہی اور لوگ غذائی قلت سے مرتے رہے، واقعہ سول انتظامیہ کی سنگین غفلت ہے، کسی کو معاف نہیں کرسکتے ۔ فوٹو:این این آئی/فائل

سپریم کورٹ نے تھر کے متاثرین کو دی جانے والی امداد کے متعلق سیکریٹری صحت سے 2 روز میں رپورٹ طلب کر لی جب کہ چیف سیکریٹری سے وضاحت مانگی گئی کہ جب5 سال قبل اقوام متحدہ نے قحط کی رپورٹ دی تھی تو حکومت نے اسے کیوں نظر انداز کیا اور اس کا ذمے دار کون ہے۔ چیف جسٹس کی سربراہی میں 3رکنی بنچ نے ازخود نوٹس کیس کی سماعت کی، چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ حکومت سوتی رہی اور لوگ غذائی قلت سے مرتے رہے، واقعہ سول انتظامیہ کی سنگین غفلت ہے، کسی کو معاف نہیں کرسکتے ۔

تھرپارکر کی تلخ اور ناقابل فہم صورتحال کے حوالہ سے عدالت عظمیٰ کا استدلال چشم کشا ہے اور قحط سے متعلق انتظامی تغافل مجرمانہ کا سوال بھی فوری توجہ کا مستحق ہے، مگر مسئلہ کی تہہ تک جاتے ہوئے اندازہ ہوتا ہے کہ پوری معاشرت ، سول سوسائٹی کا اجتماعی کردار حکمرانوں کی گراس روٹ سیاست اور عوامی نبض سے ہاتھ کی دوری اور افسر شاہی کے عدم احتساب کا ہی سب کیا دھرا ہے ۔ قحط توزیب داستان کے طور پر میڈیا میں جگہ پا گیا لیکن پچھلی کون سی حکومت یا چار بلاشرکت غیرے غیر جمہوری عہد حکومت میں دور افتادہ یا شہری و دیہی علاقوں میں زندگی کی بنیادی سہولتوں کی فراہمی کو اپنی اولین ترجیح سمجھا گیا، کب فلاحی ریاست کے مقاصد کی طرف درست طریقے سے رجوع کیا گیا ۔ اہل اقتدارنے ایک بے حس ، وحشیانہ ، قانون بیزار اور جمود زدہ معاشرے کا تصور پروان چڑھایا ہے۔ اس کا خمیازہ بھی آج کی حکومت بھگت رہی ہے۔ اسی وجہ سے کہتے ہیں کہ کرے کوئی اور بھرے کوئی۔ ظاہر ہے گڈ گورننس اور مسائل کے فوری ادراک اور حل کا کوئی میکنزم وضع نہیں ہوگا تو مسائل رفتہ رفتہ بحران کی شکل اختیار کرتے جائیں گے۔ حکمراں بدستور بے نیازی کے ساتھ بربادی کے اسی راستے پر چلتے رہے، یہاں تک کہ''تن ہمہ داغ داغ شد پنبہ کجا کجا نہم ''والی مثال سامنے آئی ہے ۔ اب تو ابتر صورتحال کا اندازہ ہر پاکستانی کو ہوگیاہے۔


عدلیہ نے بظاہر انتظامی تساہل ، نااہلی اور افسرشاہانہ طرز حکمرانی کے نقائص کی نشاندہی کی تاہم اس کے ریمارکس کے تناظر میں دیکھا جائے تو یہ محض تھر کا ایک الگ تھلگ انوکھا واقعہ نہیں ہے، قحط ، خشک سالی ،غربت ، بیروزگاری ،جرائم ،ناانصافی ،امن و امان کی ابتری کوئی نئی بات نہیں، قوم تو نا معلوم کب سے اتنے ڈھیر سارے عذابوں کے دریا پار کرتی آئی ہے کہ اقوام متحدہ کی کس کس رپورٹ کا حوالہ دیا جائے۔ پانی کے عالمی بحران پر ماہرین کی رپورٹوں کے انبار لگے ہیں، پاکستان میں زیر زمین پانی کے ذخائر کم ہورہے ہیں، وطن عزیزایٹمی ملک ہے جو اسلحے کی تجارت میں بھی خاصی ترقی کرچکا ہے مگر لوڈ شیڈنگ اذیت ناک ہے، توانائی بحران نے ملکی معیشت کا لہو نچوڑ لیا ہے، ڈیمز کی تعمیر سیاست کی نذر ہوتی آ رہی ہے،آبی ذخائر بنانے کے لیے کسی سمت پیش قدمی ہوتی نظر نہیں آتی ، افرادی قوت کی عالمی کھپت کے لیے ماہرانہ منصوبہ بندی کا فقدان ہے۔ زرعی ملک ہے مگر حکومت پیاز ادرک دالیں چینی تک امپورٹ کرتی ہے،کسان اور ہاری کی زندگی میں کوئی بنیادی تبدیلی نہیں لائی گئی، ان کی نجی جیلیں ابھی تک قائم ہیں، سینیٹ اور قومی اسمبلی میں عوامی نمایندے قومی مفادات سے متعلق ٹھوس قانون سازی کے لیے کتنے سنجیدہ ہیں عوام ایوان کی کارروائیوں اور اخباری جھلکیوں میں ان کو دیکھ لیتے ہیں۔ کرپشن کے حمام میں اجتماعی برہنگی پر کسی کو ندامت کا احساس تک نہیں ڈستا ۔ادھر قوم تھر کو رو رہی تھی کہ یکے بعد دیگرے کئی درد انگیز خبریں میڈیا کے افق پر نمودار ہوئیں۔جامشورو کی کوہستانی پٹی میں بھی خشک سالی سے 8بچے زندگی کی جنگ ہار گئے جب کہ سیکڑوں متاثرین نے نقل مکانی شروع کر دی، چولستان میں بھی خشک سالی اور لوگوں کی نقل مکانی کے اندیشے سر اٹھا رہے ہیں، ، میرپور خاص کے علاقے اچھرو تھر میں وبائی امراض پھیلنے سے2 بچے جاں بحق ہوگئے۔ ہلاکتوں کی تعداد148ہوگئی، گندم کے ذخائر ختم ہونے کے باعث سرکاری امداد کی تقسیم دوسرے روز بھی بند رہی، ہنگامی بنیادوں پر صرف 3600 بوریاں ہی تھر پہنچائی جا سکیں۔

مظفر گڑھ میں نصیبوں جلی آمنہ بی بی کی خود سوزی نے وطن کی روح کو بھسم کرکے رکھ دیا، وہ 2 مرتبہ ڈی پی اوکے سامنے پیش ہوئی لیکن انھوں نے واقعے کی انکوائری کو سنجیدگی سے نہیں لیا۔شکارپور میں مسلم لیگ ن کے رکن قومی اسمبلی غوث بخش مہر کے منعقد کردہ جرگے میں 2لڑکیاں کاری قرار دیکر قتل کردی گئیں جب کہ لڑکوں کو قتل سے بچنے کے لیے 4 لاکھ جرمانہ دینا ہوگا، چنیوٹ میں پنچائیت کے فیصلے پر ونی قراردی گئی لڑکی سے اجتماعی زیادتی کی گئی جس کے بعد اسے برہنہ حالت میں درخت کے ساتھ باندھ دیا گیا، اہل دیہہ نے منت سماجت کرکے لڑکی کو آزاد کرایا، پولیس خاموش تماشائی بنی رہی۔ در اصل مذکورہ تمام سانحات میں ریاستی نظام کے اضمحلال اور ادارہ جاتی شکست و ریخت کی سابقہ داستانوں کی بازگشت سنائی دیتی ہے ۔اسے ارباب اختیار بھی سن لیں تو اچھا ہوگا۔ دریں اثنا وزیراعظم نواز شریف نے تھر میں متاثرین کی مدد کے لیے نقد رقم بھجوانے کا اعلان کیا ہے، وزیراعظم ہاؤس کے مطابق تھر میں انکم سپورٹ پروگرام کے تحت78ہزار رجسٹرڈ افراد کو آیندہ6 ماہ تک موجودہ رقم سے تین گنا زائد رقم دی جائے گی، اس کا مقصد موجودہ صورتحال میں بنیادی اشیائے ضروریہ خریدنے کے قابل بنانا ہے، وزیراعظم کا کہنا ہے کہ متاثرین کو انتہائی شفاف طریقے سے نقد رقم ملے گی،ادھر سندھ حکومت نے غفلت تسلیم کرتے ہوئے بتایا کہ وزیر اعلٰی نے نومبر میں گندم بھیجنے کا حکم دیا تھا لیکن بیورو کریسی کی ریڈ ٹیپ ازم کی وجہ سے تاخیر ہوئی۔ ایڈووکیٹ جنرل نے بتایا کہ جون جولائی میں بارشیں نہیں ہوئیں جس کی وجہ سے خشک سالی ہوئی، جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ جون جولائی میں آپ کو علم ہو گیا تھا کہ یہ صورتحال پیدا ہو گی تو بروقت تدارک کیوں نہیں کیا گیا۔اب بھی وقت ہے کہ عدلیہ کے انتباہ کو مروجہ حاکمانہ روش اور طرز عمل میں تبدیلی کی صدائے جرس کی صورت دی جائے ۔خلق خدا کے دکھوں کو کم کیاجائے ، عوام کو روٹی ، تعلیم ، رہائش اور محفوظ زندگی کا تحفہ مل جائے تو کسی کو بندوق کی زبان میں بات کرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔
Load Next Story