صغرا آپا کا 19 سال پرانا وصیت نامہ

صغریٰ مہدی ہندوستان کے ایک جید علمی، ادبی اور سیاسی خاندان سے تعلق رکھتی تھیں۔

zahedahina@gmail.com

17 مارچ 11 بج کر 07 منٹ ... موبائل کی گھنٹی بجتی ہے، اسکرین پر ایک ہندوستانی نمبر اپنی جھلک دکھارہا ہے۔ دوسری طرف دلی سے تسنیم خالد ہیں۔ ''خیریت تو ہے؟'' میری زبان سے بے اختیار نکلتا ہے۔ ''آج صبح 5 بجے صغرا آپا رحلت کر گئیں۔ ہم ابھی وہیں سے آرہے ہیں۔ خالد صاحب کو اور مجھے معلوم ہے کہ ان کو آپ سے ربطِ خاص تھا، اسی لیے سب سے پہلے آپ کو فون کیا ہے۔'' تسنیم کی آواز آتی ہے۔ ''آج تین بجے وہ جامعہ نگر کے قبرستان میں سپردخاک کی جائیں گی۔''

میں یہ سطریں لکھ رہی ہوں اورتین بج گئے ہیں۔ صغریٰ آپا کی مشت خاک،خاک میں مل گئی ہوگی۔ تکونا پارک، جامعہ نگر کے ''عابد ولا'' میں رہنے والے آباد رہیں لیکن ڈاکٹر عابد حسین اور صالحہ عابد حسین کے بعد صغریٰ آپا کے دم قدم سے اس گھر کو جو ادبی قدر و منزلت حاصل تھی، وہ اب خواب و خیال ہوئی۔ وہ جس طرح ادیبوں اور شاعروں کی اور خاص طور سے پاکستانیوں کی مہمان داری کرتیں، اس کا ایک خاص لطف تھا۔ ان سے میری نیاز مندی پچیس برس سے زیادہ پر محیط تھی۔ میں ہوٹلوں میں ٹھہرائی جاتی اور وہ ناراض ہوتیں ''میرے گھرکیوں نہیں ٹھہرتیں؟''ان شکایتوں کے باوجود مجھ سے ملنے کبھی انڈیا انٹرنیشنل سینٹر، کبھی وائی ڈبلیو سی اے ہاسٹل اور کبھی اجے بھون آتیں، ہائے ہائے کرتیں، مجھے برا بھلا کہتیں لیکن آنا لازم تھا، مہینے میں ایک دو مرتبہ ان سے فون پر باتیں ہوتیں اور دونوں ملکوں کے تازہ ترین ادبی بلٹین کا تبادلہ ہوتا۔ جب تک عینی آپا موجود تھیں، ہم ان کی اور ڈاکٹر عذرا رضا کی باتیں کرتے۔ کوئی ان باتوں کے دورانیے پر نظر کرتا تو یہی سمجھتا کہ دو نہایت دولت مند خواتین ہیں جو ٹیلی فون بل کا حساب لگائے بغیر گپ میں مصروف ہیں۔

صغریٰ مہدی ہندوستان کے ایک جید علمی، ادبی اور سیاسی خاندان سے تعلق رکھتی تھیں۔ ڈاکٹر عابد حسین اور صالحہ عابد حسین کی منہ بولی بیٹی، علم و ادب ان کے گھر کا اوڑھنا بچھونا۔ کہانیاں لکھیں، ناول اور سفرنامے لکھے۔ 1939کے بھوپال میں آنکھ کھولی۔ زندگی دلی میں گزاری۔ اکبر الہ آبادی پر پی ایچ ڈی کیا۔ اگر ہم میں سے کسی نے ڈرتے ڈرتے اکبر کو قدامت پسند کہنے کی کوشش کی تو وہ فوراً تلوار سونت کر میدان میں آگئیں۔ جان سب ہی کو عزیز ہوتی ہے، زبان کھولنے والا فوراً کونے کھدرے میں دُبک جاتا اور وہ فاتحانہ شان سے شاہی ٹکڑے کی قاب شکست خوردہ کی طرف بڑھا دیتیں۔

دلی میں ان سے درجنوں ملاقاتیں رہیں اور ہم نے کیسی محفلیں نہیں سجائیں۔ وہ کراچی آئیں میرے گھر میں رنگ روغن ہورہا تھا۔ میں نے انھیں اپنی بیٹی فینانہ کے گھر بلایا۔ فینی اور سحینی صغریٰ آپا سے عینی آپا کے قصے سنتی رہیں۔ زریون میاں بھی اسی دوران کمرے کی پرلطف فضا میں ناک ڈبونے کے بعد باہر چلے گئے۔

''جو میرے وہ راجا کے نہیں'' ''پابہ جولاں'' ''دھند'' ''جو بچے ہیں سنگ سمیٹ لو'' ''راگ بھوپالی'' ان کی ادبی کاوشیں تھیں۔ اس کے علاوہ ماریشس اور امریکا کے سفرنامے۔ اس کے علاوہ بھی بہت کچھ۔ وہ جامعہ ملیہ میں پروفیسر رہیں۔ ادبی محفل میں آتیں تو اس کی رونق دوبالا ہوجاتی۔ساہتیہ اکیڈمی کے اردو بورڈ میں ایڈوائزر رہیں۔ اسی طرح ہریانہ اکیڈمی اور دوسرے اہم علمی اور ادبی اداروں سے وابستہ رہیں۔ امتیاز میر ایوارڈ، دہلی اردو اکیڈمی ایوارڈ اور کئی دوسرے اعزارات ان کے حصے میں آئے۔ ریٹائرمنٹ کے بعد وہ جہاں اپنے علمی اور ادبی کاموں کو سمیٹ رہی تھیں، وہیں وہ نچلے اور نچلے متوسط طبقے کی مسلمان عورتوں کی حالت زار پر کڑھتیں، ان کے بارے میں ہونے والی مختلف کانفرنسوں میں شرکت کرتیں۔ ایسے ہی ایک سیمینار میں عورتوں پر ہونے والے گھریلو تشدد کا ذکر ہورہا تھا۔ ایک عورت نے سوال اٹھایا کہ اگر میرے پڑوس میں کسی عورت کو رات دن زدوکوب کیا جارہا ہو اور میرے کانوں تک اس کی آہ و زاری کی صدا آرہی ہو تو میں کیا کروں۔ اگر اس پر ہونے والے ستم کے خلاف آواز اٹھاؤں تو سارا محلہ میرے خلاف ہوجائے گا کہ میاں بیوی کے جھگڑے میں بولنے والی تم کون اور اگر پولیس میں جاکر رپورٹ لکھواؤں تو جتنی بڑی آفت مجھ پر نازل ہوگی، وہ آپ جانتی ہیں... پھر یہ بتائیے کہ میں کیا کروں؟ صغریٰ آپا نے کہا کہ جب لوک سبھا میں عورتوں پر ہونے والے گھریلو تشدد کے بل پر بحث ہورہی تھی تو میں نے تامل ناڈ کی ایک بستی کی مثال پیش کی تھی۔ وہاں کی عورتوں نے اس مارپیٹ کے خلاف ایک انوکھی ترکیب نکالی تھی اور وہ یہ کہ انھوں نے بستی کے تمام گھروں میں پیتل کی گھنٹیاں تقسیم کردی تھیں۔


بستی کی عورتوں نے طے کیا تھا کہ اگر کسی بھی عورت کے ساتھ مارپیٹ کی جائے تو وہ عورت یا اس کے بچے اس گھنٹی کو زور زور سے بجائیں گے۔ اس آواز کو سنتے ہی پاس پڑوس کے تمام لوگ اس گھر کے باہر جمع ہوکر شور مچاتے تھے ۔ پڑوسیوں کے اکٹھا ہوجانے کا خوف عموماً اس عورت کو بچا لیتا تھا۔ مسلمان عورتوں کی حالت زار سنوارنے کے لیے انھوں نے اپنی بساط بھر بہت کچھ کیا۔ ان کا دل جو ہر دوسرے چوتھے جواب دینے لگتا تھا، اسے سنبھالے ہوئے وہ ہندوستان کے مختلف شہروں میں جاتیں اور ستم رسیدہ عورتوں کا دل بڑھاتیں اور یہ پیتل کی گھنٹی والی تجویز وہ ہر جگہ پیش کردیتیں۔ ان میں حسِ ظرافت غضب کی تھی۔ 1995میں دل کا آپریشن ہوا۔ عینی آپا کی وہ راز داں بھی تھیں اور مشیر خاص بھی، یہی وجہ تھی کہ عینی آپا نے انھیں ''مشیر فاطمہ'' کا اعزازی عہدہ عطا کیا تھا۔ صغریٰ آپا کے دل کا آپریشن ہوا تو عینی آپا لندن میں تھیں۔ طبیعت ذرا سنبھلی تو انھوں نے ایک ''وصیت نامہ'' اور اپنی ایک تعزیتی قرارداد لکھ کر ارسال کی۔ اس کے بارے میں عینی آپا کے نام 30نومبر 1995 کے ایک خط میں لکھتی ہیں ''ہم نے اپنی تعزیتی قرار داد موجودہ صدر شعبہ اردو عزت مآب شمیم حنفی کو دے دی تھی ۔ اسے لکھتے ہوئے کئی بار آنکھیں نم ہوئیں اور بڑی دُوِیدا میں رہے کہ اپنی کن کن صفات کا ذکر کریں کن کو چھوڑیں بہرحال فی الحال تو یہ سب چیزیں بیکار ہوگئیں۔ مگر وقت پر کام آئیں گی۔

اپنا وصیت نامہ بہ نام قرۃ العین حیدر انھوں نے کچھ یوں لکھا کہ: برصغیر کی مشہور ادیبہ اور بین الاقوامی شہرت کی مالک پروفیسر عینی۔ آپ کی عدم موجودگی میں یہ آپریشن آپڑا ہے جس میں یہ خدشہ ہے کہ شاید ہم اس دنیا میں نہ رہیں (ہائے ہائے ہمارے بغیر یہ دنیا کیسی لگے گی) سوچا آپ کو بھی کچھ وصیت کر ڈالیں۔ہم نہ رہے تو یہ خط ملے گا اور اگر رہے تو ہم خود ملیں گے۔ گھر والوں کو یہ ہدایت دے دی ہے اور آپ اس پر کڑی نگرانی رکھیں کہ ایسا ہی ہو۔ چہلم کی مجلس ہو جو تنویر حسن ہی پڑھیں۔ عذرا رضا ضرور ہوں جو جی بھر کر گریہ کریں کچھ امام حسین کی مظلومی پر اور کچھ ہماری جدائی پر۔ عزیز قریشی کو اس مجلس میںآنے سے سختی سے روکا جائے کہ فتنہ و فساد کا اندیشہ ہے اور ہم نہیں چاہتے کہ ہماری چہلم کی مجلس میں فتنہ و فساد ہو (گو کہ ہم اکثر اس کا سبب بنتے رہے ہیں) گوپی چند نارنگ سے کہہ کر ہماری تعزیتی میٹنگ ضرور کرائیے گا اور اس میں جیلانی بانو کو ضرور مدعو کریے گا۔ اپنی تعزیتی میٹنگ کے لیے جو فنڈ ہم چھوڑ رہے ہیں اس سے ان کے ہوائی جہاز کا کرایہ ادا کردیا جائے۔ عظیم الشان صدیقی سے کہیے گا کہ وہ ہماری تخلیقات میں عصری حسیت تلاش کریں اور شمیم حنفی فلسفیانہ اساس ڈھونڈ نکالیں۔ پال صاحب Sweet ضرور آئیں اور ہمارے ناولوں میں جو شعلے بھڑک رے ہیں ان کی نشان دہی کریں۔ تعزیتی قرارداد پر ایک نظر ڈال لیجیے گا کہ لوگوں کی سمجھ میں آجائے۔ آج کل شمیم حنفی صدر شعبہ ہیں۔ اگر آپ بھی چند الفاظ فرمادیں تو ہم عالم بالا میں مسرور ہوجائیں گے ۔ مثلاً ہماری تحریروں میں طنز و مزاح کے عناصر۔ باقی اول و آخر بولنے والے گوپی چند نارنگ تو ہوں گے ہی۔ ہم اپنے فن اور شخصیت پر دو مقالوں کا مواد بھی چھوڑے جارہے ہیں۔ ایک کو بھوپال یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری تقویض ہوگی۔ دوسری روہیل کھنڈ یونیوسٹی سے۔

میں نے ابھی عزیز بھائی سے پرسہ کیا ہے۔ وہ اتر کھنڈ کے گورنر ہیں اور چند گھنٹوں بعد 13 جون سے دلی کے لیے روانہ ہور ہے ہیں۔ سوم کی مجلس میں شریک ہوں گے اور زار زار روئیں گے۔

15 سے 17 مارچ 2008کو ساہتیہ اکیڈمی نے دلی میں ''اردو کی خواتین فکشن نگار'' کے موضوع پر ڈاکٹر گوپی چند نارنگ کی نگرانی میں ایک شاندار بین الاقوامی سیمینار کا اہتمام کیا تھا جس کی مکمل روداد مشتاق صدف نے مرتب کی۔ اس سیمینار میں ایک اجلاس کی صدارت صغریٰ آپا نے کی تھی اور ان کے افسانے'' شہرِآشوب'' پر سیرحاصل گفتگو ہوئی تھی۔ یہ میرے لیے اعزاز کی بات تھی کہ میں نے اس سیمینار میں اپنا افسانہ ''کُم کُم بہت آرام سے ہے'' سنایا تھا اور ایک سیشن کی صدارت بھی کی تھی۔ آج 17 مارچ 2014 ہے۔ شکایت صغریٰ آپا سے کہ یہ آپ نے عین 6برس بعد اسی تاریخ کو رختِ سفر کیوں باندھا جب آپ نے ہم سب کو ''شہر آشوب'' سنایا تھا۔ وہ کہانی جس میں ایک بہت بڑے لکھنے والے کی رخصت کا قصہ تھا۔ تو کیا آپ کی اس کی کہانی کو ہم آپ کی روشن ضمیری کا عکس سمجھیں؟ اور ہاں صغرا آپا نکیرین آئیں تو اپنی کراری آواز میں انھیں بتادیجیے گا کہ:

تھا میں گلدستہ احباب کی بندش کی گیاہ
متفرق ہوئے میرے رفقا میرے بعد
Load Next Story