پھٹی کی آمد کم ہونے لگی کپاس کی پیداوار 1 کروڑ 33 لاکھ 70 ہزار گانٹھ تک پہنچ گئی

15مارچ تک سال بہ سال 4.8فیصد زائد کپاس جننگ فیکٹریوں میںپہنچی، پنجاب میں فصل1.78،سندھ کی10 فیصد بہتر

ملز نے 1.2 کروڑ بیلز خریدیں، ایکسپورٹ 12 فیصداضافے سے3.29لاکھ ہو گئی، اسٹاک8.51لاکھ گانٹھ رہ گیا،پی سی جی اے۔ فوٹو: فائل

کپاس کی پیداوار 5 مارچ تک 4.8 فیصد کے اضافے سے1 کروڑ 33 لاکھ 69 ہزار 627 گانٹھوں تک پہنچ گئی تاہم یکم تا 15مارچ تک کاٹن فیکٹریوں میں40 ہزار 960 گانٹھ کپاس پہنچ سکیں جو گزشتہ سال کی اسی مدت سے40 ہزار 45 گانٹھ کم ہے۔


پاکستان کاٹن جنرز ایسوسی ایشن (پی سی جی اے) کی جانب سے منگل کو جاری رپورٹ کے مطابق زیرتبصرہ مدت تک پنجاب میں کپاس کی پیداوارمیں 1.78 فیصدکے اضافے سے 96 لاکھ 14 ہزار295 گانٹھ جبکہ سندھ میں 10.47 فیصدبڑھ کر 37 لاکھ55 ہزار 332بیلز تک پہنچ گئی۔

رپورٹ میں بتایا گیاکہ 15مارچ تک مقامی ٹیکسٹائل ملوں کی جانب سے جننگ فیکٹریوں سے مجموعی طور پر1کروڑ 21 لاکھ 48 ہزار 634 گانٹھ روئی خریدی گئی جبکہ 3لاکھ 69ہزار 673 گانٹھیں مختلف ممالک کو برآمد کی گئیں جو گزشتہ سال کی اسی مدت میں 3 لاکھ 28 ہزار 931گانٹھ کی ایکسپورٹ سے 12.38 فیصد زیادہ ہے، جننگ انڈسٹری کے پاس فی الوقت 8 لاکھ 51ہزار روئی کی گانٹھوں کے ذخائر فروخت کے لیے دستیاب ہیں جو گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں 8لاکھ 98 ہزار 106گانٹھ اسٹاک سے 5.20 فیصد کم ہے۔ رپورٹ کے مطابق 15 مارچ تک پنجاب میں 42 اور سندھ میں 3 جننگ فیکٹریاں کام کر رہی ہیں جبکہ گزشتہ سال پنجاب میں129 اور سندھ میں 9فیکٹریاں کام کررہی تھیں۔
Load Next Story