35لاپتہ قیدی پیش کریں ورنہ آج وزیر اعظم کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کریں گے سپریم کورٹ
صبرکادامن چھوڑدیا،کشتیاں بھی جلاچکے،آئین پرعملدرآمدہی واحدآپشن ہے،ہم کسی کمیشن کونہیں ,جسٹس جوادخواجہ
صبرکادامن چھوڑدیا،کشتیاں بھی جلاچکے،آئین پرعملدرآمدہی واحدآپشن ہے،ہم کسی کمیشن کونہیں ,جسٹس جوادخواجہ، فوٹو: فائل
سپریم کورٹ نے قراردیا ہے کہ مالاکنڈحراستی مرکزسے اٹھائے گئے 35قیدیوں کوآج پیش نہ کیا گیا تو وزیراعظم، وزیراعلٰی خیبرپختونخوااور گورنرکو توہین عدالت کے نوٹس جاری کرکے حکم عدولی پر وضاحت طلب کی جائے گی۔
جسٹس جوادخواجہ کی سربراہی میں 3رکنی بینچ نے سماعت کے دوران تینوں عہدیداروں کے خلاف آرڈرلکھوانا شروع کیا تاہم اٹارنی جنرل کی طرف سے باربار استدعااور عدالتی حکم پرعملدرآمد کی یقین دہانی پرمزید ایک روزکی مہلت دے دی۔ منگل کوسماعت شروع ہوئی تواٹارنی جنرل سلمان بٹ نے بتایا کہ حکومت نے لاپتہ افراد کے مقدمات میں پیش ہونے والے ورثاکے قیام وطعام اور ٹرانسپورٹیشن کے لیے فنڈ قائم کردیا ہے۔ انھیں1500روپے دیے جائیں گے۔ جسٹس جوادخواجہ نے کہا حکومت نے دربدر کی ٹھوکریں کھانے والے اپنے شہریوں پر کوئی احسان نہیں کیا۔ ہم نے 8ماہ پہلے اس کاآرڈر دیاتھا۔ عدالت اس سے مطمئن نہیں ہوگی۔ ہمیں لاپتہ افرادچاہئیں۔ ابھی تک عدالتی تحمل کامظاہرہ کیااور سرکار کو موقع دیا کہ اگر وہ موجود ہے تو کچھ کرکے دکھائے۔ سرکارکی مجبوریاں ہوں گی لیکن ہماری کوئی مجبوری نہیں ہے۔ اب مزید کچھ نہیں کہیں گے بلکہ حکم جاری کریں گے۔
اٹارنی جنرل نے بتایا کہ حکومت نے جسٹس(ر) میاں محمداجمل کی سربراہی میں ایک اورکمیشن بنادیا ہے اور اسے معاملہ جلد نمٹانے کا کہا گیا ہے۔ جسٹس جوادنے کہاکہ یہ عدالت کے ساتھ ایک اور مذاق ہے۔ 12دسمبر کو ہم نے ایک آرڈر جاری کیا اور اس پر عمل نہیں ہوا۔ آرڈربھی واضح ہے اوربعد کے عدالتی احکام میں اس کا اعادہ بھی کیا گیاہے کہ چیف ایگزیکٹو وفاقی حکومت، چیف ایگزیکٹو خیبرپختونخوا اورگورنر خیبرپختونخوا بندے بازیاب کراکے پیش کریں لیکن عمل نہیں ہوا۔ اس لیے اب انھیں توہین عدالت کا شوکاز نوٹس جاری کرکے حکم عدولی پروضاحت مانگیں گے کہ وہ خود آئیں اوربتائیں۔ نجی ٹی وی کے مطابق جسٹس جوادخواجہ نے کہا کہ عدالت کسی کمیشن کونہیں مانتی۔ فیصلے پر عمل کیا جائے۔ آن لائن کے مطابق جسٹس جواد خواجہ نے کہا کہ صبرکا دامن چھوڑچکے، کشتیاں بھی جلاچکے۔ آئین و قانون پر عملدرآمد ہی اب ہماراآپشن ہے۔
لاپتہ افراد چاہئیں۔ 24گھنٹے میں جواب دیں۔ ہم سے کھیل کھیلاجا رہاہے۔ عدالت نے آرڈرلکھوانا شروع کردیا تواٹارنی جنرل نے استدعاکی کہ اس حکم سے پیچیدگیاں پیدا ہوجائیں گی۔ ایک اور موقع دیاجائے۔ حکم پرعمل ہوگا۔ جسٹس جوادنے کہاکہ ہم نے حکم دیاکہ لوگ پیش کردیں اورسرکار ایک کاغذکے بعددوسرا کاغذجاری کررہی ہے۔ 34سماعتوں میں معاملہ آگے نہیں بڑھا۔ کیا سرکار سمجھتی ہے کہ کیس کاغذوں سے حل ہوگا؟ اٹارنی جنرل نے ایک بارپھر استدعاکی اورکہا کہ عدالتی تحمل کامظاہرہ کیاجائے۔ جسٹس جوادنے کہا، عدالت اور کتنا تحمل دکھائے۔ ہم توکہہ رہے ہیں سرکار اپنا کام کرے، ہمیں قطعاً مداخلت کی ضرورت نہیں رہے گی۔
ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوالطیف یوسفزئی نے بھی ایک اورموقع دینے کی استدعا کی جس پرعدالت نے سماعت آج تک ملتوی کرتے ہوئے قرار دیاکہ اب مزید کوئی مہلت نہیں دی جائے گی۔ آن لائن کے مطابق اپنے حکم نامے میں عدالت نے قراردیا کہ ہم نے فیصلہ کرلیا تھاکہ چیف ایگزیکٹوپاکستان، چیف ایگزیکٹوکے پی کے اورگورنر سے جواب طلب کریں کہ انھوں نے اب تک ہمارے اتنے سارے احکام پرعمل کیوں نہیں کیامگر اٹارنی جنرل نے درخواست کی کہ مختصروقت دے دیں، وہ وفاق سے بات کریں گے۔ کے پی کے حکومت بھی صبح 9:30بجے تک جواب داخل کرے۔
جسٹس جوادخواجہ کی سربراہی میں 3رکنی بینچ نے سماعت کے دوران تینوں عہدیداروں کے خلاف آرڈرلکھوانا شروع کیا تاہم اٹارنی جنرل کی طرف سے باربار استدعااور عدالتی حکم پرعملدرآمد کی یقین دہانی پرمزید ایک روزکی مہلت دے دی۔ منگل کوسماعت شروع ہوئی تواٹارنی جنرل سلمان بٹ نے بتایا کہ حکومت نے لاپتہ افراد کے مقدمات میں پیش ہونے والے ورثاکے قیام وطعام اور ٹرانسپورٹیشن کے لیے فنڈ قائم کردیا ہے۔ انھیں1500روپے دیے جائیں گے۔ جسٹس جوادخواجہ نے کہا حکومت نے دربدر کی ٹھوکریں کھانے والے اپنے شہریوں پر کوئی احسان نہیں کیا۔ ہم نے 8ماہ پہلے اس کاآرڈر دیاتھا۔ عدالت اس سے مطمئن نہیں ہوگی۔ ہمیں لاپتہ افرادچاہئیں۔ ابھی تک عدالتی تحمل کامظاہرہ کیااور سرکار کو موقع دیا کہ اگر وہ موجود ہے تو کچھ کرکے دکھائے۔ سرکارکی مجبوریاں ہوں گی لیکن ہماری کوئی مجبوری نہیں ہے۔ اب مزید کچھ نہیں کہیں گے بلکہ حکم جاری کریں گے۔
اٹارنی جنرل نے بتایا کہ حکومت نے جسٹس(ر) میاں محمداجمل کی سربراہی میں ایک اورکمیشن بنادیا ہے اور اسے معاملہ جلد نمٹانے کا کہا گیا ہے۔ جسٹس جوادنے کہاکہ یہ عدالت کے ساتھ ایک اور مذاق ہے۔ 12دسمبر کو ہم نے ایک آرڈر جاری کیا اور اس پر عمل نہیں ہوا۔ آرڈربھی واضح ہے اوربعد کے عدالتی احکام میں اس کا اعادہ بھی کیا گیاہے کہ چیف ایگزیکٹو وفاقی حکومت، چیف ایگزیکٹو خیبرپختونخوا اورگورنر خیبرپختونخوا بندے بازیاب کراکے پیش کریں لیکن عمل نہیں ہوا۔ اس لیے اب انھیں توہین عدالت کا شوکاز نوٹس جاری کرکے حکم عدولی پروضاحت مانگیں گے کہ وہ خود آئیں اوربتائیں۔ نجی ٹی وی کے مطابق جسٹس جوادخواجہ نے کہا کہ عدالت کسی کمیشن کونہیں مانتی۔ فیصلے پر عمل کیا جائے۔ آن لائن کے مطابق جسٹس جواد خواجہ نے کہا کہ صبرکا دامن چھوڑچکے، کشتیاں بھی جلاچکے۔ آئین و قانون پر عملدرآمد ہی اب ہماراآپشن ہے۔
لاپتہ افراد چاہئیں۔ 24گھنٹے میں جواب دیں۔ ہم سے کھیل کھیلاجا رہاہے۔ عدالت نے آرڈرلکھوانا شروع کردیا تواٹارنی جنرل نے استدعاکی کہ اس حکم سے پیچیدگیاں پیدا ہوجائیں گی۔ ایک اور موقع دیاجائے۔ حکم پرعمل ہوگا۔ جسٹس جوادنے کہاکہ ہم نے حکم دیاکہ لوگ پیش کردیں اورسرکار ایک کاغذکے بعددوسرا کاغذجاری کررہی ہے۔ 34سماعتوں میں معاملہ آگے نہیں بڑھا۔ کیا سرکار سمجھتی ہے کہ کیس کاغذوں سے حل ہوگا؟ اٹارنی جنرل نے ایک بارپھر استدعاکی اورکہا کہ عدالتی تحمل کامظاہرہ کیاجائے۔ جسٹس جوادنے کہا، عدالت اور کتنا تحمل دکھائے۔ ہم توکہہ رہے ہیں سرکار اپنا کام کرے، ہمیں قطعاً مداخلت کی ضرورت نہیں رہے گی۔
ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوالطیف یوسفزئی نے بھی ایک اورموقع دینے کی استدعا کی جس پرعدالت نے سماعت آج تک ملتوی کرتے ہوئے قرار دیاکہ اب مزید کوئی مہلت نہیں دی جائے گی۔ آن لائن کے مطابق اپنے حکم نامے میں عدالت نے قراردیا کہ ہم نے فیصلہ کرلیا تھاکہ چیف ایگزیکٹوپاکستان، چیف ایگزیکٹوکے پی کے اورگورنر سے جواب طلب کریں کہ انھوں نے اب تک ہمارے اتنے سارے احکام پرعمل کیوں نہیں کیامگر اٹارنی جنرل نے درخواست کی کہ مختصروقت دے دیں، وہ وفاق سے بات کریں گے۔ کے پی کے حکومت بھی صبح 9:30بجے تک جواب داخل کرے۔