آئی ایس آئی ہو یا کوئی اور سرکاری پیسے کا آڈٹ ہوگا سپریم کورٹ
رقم خرچ کرنیکی مدمقررہوتوحکومت کااختیارختم ہوجاتا ہے، آڈیٹرجنرل کوتمام اداروں کے آڈٹ کا اختیار ہے،جسٹس جوادکے ریمارکس
اوگرااسکینڈل میں دیوان پٹرولیم کے خلاف کارروائی روکنے کاہائیکورٹ کاحکم معطل،بینچ ٹوٹنے پر ایل پی جی کوٹا کیس ملتوی۔ فوٹو: فائل
سپریم کورٹ نے یونیورسل سروس فنڈکے بارے میں آڈیٹر جنرل، اکائونٹنٹ جنرل آفس اور وزارت خزانہ کو جلد تفصیلی رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت کی ہے۔
عدالت نے کہا کہ اگر یوایس ایف کا ابھی تک آڈٹ نہیں ہوا تو آڈیٹر جنرل آفس وضاحت کرے کہ آئینی ذمے داری کیوں نہیں نبھائی گئی۔جسٹس جوادایس خواجہ کی سربراہی میں بینچ نے یوایس ایف کی رقم سرکاری خزانے میں منتقل کرنے سے متعلق مقدمے کی سماعت کی ۔ڈائریکٹر جنرل فیڈرل آڈٹ نے پہلے موقف اپنایاکہ یوایس ایف کے قیام سے لے کر اب تک آڈٹ نہیں ہوا جس پر عدالت نے حیرانی کا اظہارکیا تھا۔ جسٹس جوادکا کہنا تھا کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ عوام کے ایک ایک ٹکے کے نگران نے2006ء سے اب تک عوام کے پیسے کا آڈٹ نہیں کیا۔ڈی جی نے مزید تفصیلات آنے پر بتایا کہ یو ایس ایف کا آٓڈٹ شعبہ ٹی ٹی اینڈ ٹی کے پاس ہے۔جسٹس جواد نے کہاکہ جو بھی ادارہ سرکاری پیسہ خرچ کرے گا اس کا آڈٹ ہوگا چاہے وہ آئی ایس آئی ہو یا پھرکوئی اور ایجنسی۔اٹارنی جنرل نے بتایاکہ یو ایس ایف وفاقی ادارہ ہے، حکومت بینکوں سے دگنے سود پر قرضہ حاصل کرتی ہے، اگر وفاق کے کسی ادارے کی رقم کو حکومت استعمال کرے گی تو سود ادائیگی سے بچ جائے گی،جسٹس جوادنے کہا کہ تو پھر حکومت وہ سود اپنے ادارے کو دے۔
جسٹس جواد نے کہاکہ جس رقم کے خرچ کے لیے مد مقرر ہو وہاں حکومت کا اختیار ختم ہو جاتا ہے،گزشتہ سال یوایس ایف کو ساڑھے 5 ارب کا منافع ملا اس سال نہیں ملے گا،عدالت اس کیس میں رہنما اصول وضع کرنا چاہتی ہے، مزید سماعت آج پھر ہوگی۔فاضل بینچ نے اوگرا کرپشن اسکینڈل میں دیوان پٹرولیم کے خلاف دائر ریفرنس میں نیب کوکارروائی سے روکنے کے بارے میں اسلام آباد ہائیکورٹ کا عبوری حکم کالعدم کردیا ہے ۔نیب نے ہائیکورٹ فیصلے کے خلاف رجوع کیا تھا، عدالت نے ہائیکورٹ کو ریفرنس کے خلاف دائر رٹ پٹیشن اور حکم امتناع کی درخواست پر نیب کو سننے کے بعد قانون کے مطابق حتمی فیصلہ کرنے کی ہدایت کی ہے۔جسٹس جواد نے کہاکہ حتمی فیصلہ ہائیکورٹ نے کرنا ہے لیکن نیب کو سنے بغیر عبوری فیصلہ کرنا بظاہر نامناسب لگتا ہے کیونکہ عبوری آرڈر میں حکم امتناع کا کوئی جواز نہیں دیا گیا۔
جسٹس جواد نے کہاکہ اربوں روپے کی کرپشن اسکینڈل کا مقدمہ ہے اور ہائیکورٹ نے کسی کو سنے بغیر نیب کو مزیدکارروائی سے روک دیا اور ریفرنس میں پیشرفت رک گئی، بلا جواز حکم امتناع جاری نہیںکیا جا سکتا۔بینچ ٹوٹنے کے باعث ایل پی جی کوٹا کیس کے فیصلے پر عملدرآمد اور فیصلے کے خلاف نظر ثانی درخواستوں کی سماعت ملتوی کردی گئی ہے۔ جسٹس ناصر الملک کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بینچ نے سماعت کی تاہم جسٹس امیر ہانی مسلم نے مقدمہ سننے سے معذرت ظاہرکی اورکہا کہ سندھ ہائیکورٹ میں انھوں نے اس کیس میں فیصلہ دیا تھا، بینچ کی تشکیل نوکے لیے کیس واپس چیف جسٹس کو بھیج دیا گیا۔آن لائن کے مطابق یوایس ایف فنڈکیس میں عدالت نے کہاکہ آڈیٹر جنرل کو آئی ایس آئی سمیت تمام اداروںکے آڈٹ کا اختیار ہے، حکومت بتادے کہ پبلک اکائونٹس عوام کا پیسہ نہیں تو پھر ہم کسی شفافیت پر اصرار نہیںکریںگے۔
عدالت نے کہا کہ اگر یوایس ایف کا ابھی تک آڈٹ نہیں ہوا تو آڈیٹر جنرل آفس وضاحت کرے کہ آئینی ذمے داری کیوں نہیں نبھائی گئی۔جسٹس جوادایس خواجہ کی سربراہی میں بینچ نے یوایس ایف کی رقم سرکاری خزانے میں منتقل کرنے سے متعلق مقدمے کی سماعت کی ۔ڈائریکٹر جنرل فیڈرل آڈٹ نے پہلے موقف اپنایاکہ یوایس ایف کے قیام سے لے کر اب تک آڈٹ نہیں ہوا جس پر عدالت نے حیرانی کا اظہارکیا تھا۔ جسٹس جوادکا کہنا تھا کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ عوام کے ایک ایک ٹکے کے نگران نے2006ء سے اب تک عوام کے پیسے کا آڈٹ نہیں کیا۔ڈی جی نے مزید تفصیلات آنے پر بتایا کہ یو ایس ایف کا آٓڈٹ شعبہ ٹی ٹی اینڈ ٹی کے پاس ہے۔جسٹس جواد نے کہاکہ جو بھی ادارہ سرکاری پیسہ خرچ کرے گا اس کا آڈٹ ہوگا چاہے وہ آئی ایس آئی ہو یا پھرکوئی اور ایجنسی۔اٹارنی جنرل نے بتایاکہ یو ایس ایف وفاقی ادارہ ہے، حکومت بینکوں سے دگنے سود پر قرضہ حاصل کرتی ہے، اگر وفاق کے کسی ادارے کی رقم کو حکومت استعمال کرے گی تو سود ادائیگی سے بچ جائے گی،جسٹس جوادنے کہا کہ تو پھر حکومت وہ سود اپنے ادارے کو دے۔
جسٹس جواد نے کہاکہ جس رقم کے خرچ کے لیے مد مقرر ہو وہاں حکومت کا اختیار ختم ہو جاتا ہے،گزشتہ سال یوایس ایف کو ساڑھے 5 ارب کا منافع ملا اس سال نہیں ملے گا،عدالت اس کیس میں رہنما اصول وضع کرنا چاہتی ہے، مزید سماعت آج پھر ہوگی۔فاضل بینچ نے اوگرا کرپشن اسکینڈل میں دیوان پٹرولیم کے خلاف دائر ریفرنس میں نیب کوکارروائی سے روکنے کے بارے میں اسلام آباد ہائیکورٹ کا عبوری حکم کالعدم کردیا ہے ۔نیب نے ہائیکورٹ فیصلے کے خلاف رجوع کیا تھا، عدالت نے ہائیکورٹ کو ریفرنس کے خلاف دائر رٹ پٹیشن اور حکم امتناع کی درخواست پر نیب کو سننے کے بعد قانون کے مطابق حتمی فیصلہ کرنے کی ہدایت کی ہے۔جسٹس جواد نے کہاکہ حتمی فیصلہ ہائیکورٹ نے کرنا ہے لیکن نیب کو سنے بغیر عبوری فیصلہ کرنا بظاہر نامناسب لگتا ہے کیونکہ عبوری آرڈر میں حکم امتناع کا کوئی جواز نہیں دیا گیا۔
جسٹس جواد نے کہاکہ اربوں روپے کی کرپشن اسکینڈل کا مقدمہ ہے اور ہائیکورٹ نے کسی کو سنے بغیر نیب کو مزیدکارروائی سے روک دیا اور ریفرنس میں پیشرفت رک گئی، بلا جواز حکم امتناع جاری نہیںکیا جا سکتا۔بینچ ٹوٹنے کے باعث ایل پی جی کوٹا کیس کے فیصلے پر عملدرآمد اور فیصلے کے خلاف نظر ثانی درخواستوں کی سماعت ملتوی کردی گئی ہے۔ جسٹس ناصر الملک کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بینچ نے سماعت کی تاہم جسٹس امیر ہانی مسلم نے مقدمہ سننے سے معذرت ظاہرکی اورکہا کہ سندھ ہائیکورٹ میں انھوں نے اس کیس میں فیصلہ دیا تھا، بینچ کی تشکیل نوکے لیے کیس واپس چیف جسٹس کو بھیج دیا گیا۔آن لائن کے مطابق یوایس ایف فنڈکیس میں عدالت نے کہاکہ آڈیٹر جنرل کو آئی ایس آئی سمیت تمام اداروںکے آڈٹ کا اختیار ہے، حکومت بتادے کہ پبلک اکائونٹس عوام کا پیسہ نہیں تو پھر ہم کسی شفافیت پر اصرار نہیںکریںگے۔