آپریشن سے کراچی کے حالات کافی بہتر ہوگئے شہری
اغوا برائے تاوان اور بھتہ خوری کے واقعات میں کمی ہوئی ہے،ٹودی پوائنٹ میں اظہار خیال
اغوا برائے تاوان اور بھتہ خوری کے واقعات میں کمی ہوئی ہے،ٹودی پوائنٹ میں اظہار خیال فوٹو : فائل
RAHIM YAR KHAN:
ایکسپریس نیوز کے پروگرام 'ٹودی پوائنٹ' کے میزبان شاہ زیب خانزادہ سے بات چیت میں کراچی کے شہریوں نے جاری آپریشن کے بارے میں مختلف تاثرات کا اظہار کیا ہے۔
کٹی پہاڑی میں ایک شخص نے کہا کہ آپریشن کے بعد یہاں کے حالات بہت اچھے ہیں پہلے یہاں ہر وقت کہیں نہ کہیں سے فائرنگ اور ہر روز اغوأ کی خبریں سننے کو ملتی تھیں لیکن خداکا شکر ہے کہ پچھلے چندہفتوں سے اب ہم رات گئے تک سڑکوں پر نکلتے ہیں ۔ایک شخص نے کہا کہ حالات پہلے سے بہت اچھے ہیں لیکن ابھی تک خوف نہیں جاسکا کیونکہ چند ماہ پہلے تک حالات بہت خراب تھے ۔ پہلے تو ہم کام کاج پر بھی جانے سے ڈرتے تھے لیکن اب ایسا نہیں۔ ایک بزرگ شہری نے کہاکہ ابھی بھی کوئی نہ کوئی واردات ہوجاتی ہے ۔
لیکن پہلے سے حالات قدرے ٹھیک ہیں۔ایک آدمی نے کہا کہ فورسز جن لوگوں کو پکڑ کر لے جاتی ہیں ان کو عدالتوں سے سزائیں نہیں ملتیں، وہ پھر رہاہو کر عوام کیلیے مصیبت بن جاتے ہیں، عدالتوں کو ایسے لوگوں کو سخت سزائیں دینی چاہئیں جو امن کیلیے خطرہ پیدا کرتے ہیں۔ ایک شخص نے کہا کہ پہلے والی حکومت بھی چور تھی اور یہ بھی چور ہے جو کام سابق ناظم کراچی مصطفیٰ کمال کرگیا ہے بس وہی ہیں، اس کے بعد کوئی کام نہیں ہوا، ایک نوجوان نے کہا کہ میری گاڑی چوری ہوگئی تھی، تین ماہ ہوگئے ابھی تک کچھ پتہ نہیں ہے۔ ہاں اغوأ برائے تاوان اور بھتہ خوری کے واقعات میں کمی ہوئی ہے۔ایک شخص کا کہنا تھا کہ پولیس ڈبل سواری کو بند کرکے بہت زیادتی کرتی ہے۔
ایکسپریس نیوز کے پروگرام 'ٹودی پوائنٹ' کے میزبان شاہ زیب خانزادہ سے بات چیت میں کراچی کے شہریوں نے جاری آپریشن کے بارے میں مختلف تاثرات کا اظہار کیا ہے۔
کٹی پہاڑی میں ایک شخص نے کہا کہ آپریشن کے بعد یہاں کے حالات بہت اچھے ہیں پہلے یہاں ہر وقت کہیں نہ کہیں سے فائرنگ اور ہر روز اغوأ کی خبریں سننے کو ملتی تھیں لیکن خداکا شکر ہے کہ پچھلے چندہفتوں سے اب ہم رات گئے تک سڑکوں پر نکلتے ہیں ۔ایک شخص نے کہا کہ حالات پہلے سے بہت اچھے ہیں لیکن ابھی تک خوف نہیں جاسکا کیونکہ چند ماہ پہلے تک حالات بہت خراب تھے ۔ پہلے تو ہم کام کاج پر بھی جانے سے ڈرتے تھے لیکن اب ایسا نہیں۔ ایک بزرگ شہری نے کہاکہ ابھی بھی کوئی نہ کوئی واردات ہوجاتی ہے ۔
لیکن پہلے سے حالات قدرے ٹھیک ہیں۔ایک آدمی نے کہا کہ فورسز جن لوگوں کو پکڑ کر لے جاتی ہیں ان کو عدالتوں سے سزائیں نہیں ملتیں، وہ پھر رہاہو کر عوام کیلیے مصیبت بن جاتے ہیں، عدالتوں کو ایسے لوگوں کو سخت سزائیں دینی چاہئیں جو امن کیلیے خطرہ پیدا کرتے ہیں۔ ایک شخص نے کہا کہ پہلے والی حکومت بھی چور تھی اور یہ بھی چور ہے جو کام سابق ناظم کراچی مصطفیٰ کمال کرگیا ہے بس وہی ہیں، اس کے بعد کوئی کام نہیں ہوا، ایک نوجوان نے کہا کہ میری گاڑی چوری ہوگئی تھی، تین ماہ ہوگئے ابھی تک کچھ پتہ نہیں ہے۔ ہاں اغوأ برائے تاوان اور بھتہ خوری کے واقعات میں کمی ہوئی ہے۔ایک شخص کا کہنا تھا کہ پولیس ڈبل سواری کو بند کرکے بہت زیادتی کرتی ہے۔