محکمہ تعلیم میں 23 ہزار جعلی بھرتیاں کرنیوالے 9 افسران برطرف
سندھ حکومت نے14روز کے اندر جواب طلب کرلیا، ذمے داران نے جعلی بھرتیوں کا اعتراف کیاہے، اعلیٰ افسر
اساتذہ کی بھرتیوں کیلیے انٹرویواورتحریری ٹیسٹ نہیں لیے گئے جوائنگ پہلے ہی دے دی گئی، میڈیکل، پی آرسی اور ڈومیسائل بھی بعد میں بنوائے گئے، نوٹس جاری۔ فوٹو: فائل
کراچی کے سرکاری اسکولوں میں قواعد وضوابط کے برعکس جعلی بھرتیاں کرنے کے ذمے دارافسران کامعاملہ اپنے انجام کے قریب پہنچ گیا اورحکومت سندھ نے کراچی کے سرکاری اسکولوں میں 1500 خالی اسامیوں پر 23ہزاربھرتیاں کرنے والے 9 افسران کو ملازمت سے برطرفی کانوٹس جاری کردیا گیا ہے۔
نوٹس جاری کرتے ہوئے حکومت سندھ نے متعلقہ9 افسران سے14 روزکے اندرنوٹس کاجواب طلب کیاہے، بھرتی کے ذمے یہ افسران پہلے ہی معطل ہیں، واضح رہے کہ کراچی کے سرکاری اسکولوں میں یہ تمام بھرتیاں سابق وزیرتعلیم پیر مظہرالحق کے دورمیں کی گئیں تاہم حکومت سندھ کی جانب سے سابق وزیرتعلیم کواس معاملے میں شامل تفتیش نہیں کیاگیااور تحقیقات کاتمام نزلہ اسکول کیڈرکے ان افسران پر گرگیا، ''ایکسپریس'' کومعلوم ہواہے کہ حکومت سندھ کی جانب سے پہلی بار سابق ڈائریکٹر اسکولز کراچی عطااللہ بھٹو، شمس الدین دل،ممتاز شیخ ،بشیراحمد عباسی،عبدالطیف مغل، لیاقت سولنگی اورجبارڈایو سمیت دیگر کو ملازمت سے برطرف کیے جانے کے نوٹس جاری کیے گئے ہیں۔
حکومت سندھ کی جانب سے ملازمت سے برطرفی کے جاری کردہ نوٹس میں ان افسران سے کہا گیاہے کہ انھوں نے سرکاری اسکولوں میں تدریسی وغیر تدریسی اسامیوں پر دستیاب خالی اسامیوں سے زیادہ غیر قانونی تقرریاں اورتعیناتیاں کی ہیں، اساتذہ کی بھرتیوں کیلیے انٹرویو اور تحریری ٹیسٹ نہیں لیے گئے جوائنگ پہلے دے دی گئی، میڈیکل اورپی آرسی ؍ڈومیسائل بھی بعد میں بنوائے گئے، یہ افسران 14روزمیں اس نوٹس کا جواب دیں کہ کیوں نہ حکومت سندھ ان کے خلاف ''سخت جرمانے ''کے طورپر انھیں ملازمت سے برطرف کردے ، صوبائی محکمہ تعلیم کے ایک اعلیٰ افسرنے ''ایکسپریس''کوبتایاکہ محکمہ تعلیم کی جانب سے کرائی گئی تحقیقات کے دوران سینیارٹی لسٹ میں 99ویں نمبرپر موجود جونیئرترین افسر شمس الدین دل نے 1047 بھرتیوں کی ذمے داری قبول کی جبکہ تحقیقات کے نتیجے میں ان کی جانب سے3500بھرتیوں کاانکشاف ہوا۔
اسی طرح سینیارٹی لسٹ میں 63ویں نمبرپرموجودعطا اللہ بھٹونے 2525بھرتیاں کرنے کااعتراف کیاجبکہ ان کے دستخط سے 11ہزاربھرتیاں سامنے آئیں، ممتازشیخ جنھیں پہلے بھی منیبہ اسکول لینڈ مافیاکے حوالے کرنے کے الزام میں معطل کیاگیاتھاان کے خلاف بھرتیوں کے حامل افرادکوغیرقانونی طورجوائنگ دینے کاالزام ثابت ہوا، اسی طرح بشیراحمد عباسی نے بھی سیکڑوں افرادکوجوائنگ دی، عبدالطیف مغل پرالزام ہے کہ انھوں نے غیرقانونی بھرتیوں اورجوائنگ کے معاملے سے محکمہ تعلیم کے حکام کو آگاہ نہیں کیاجبکہ لیاقت سولنگی جوڈائریکٹوریٹ اسکولز میں اکائونٹ افسرتھے، بھرتیوں کے فوکل پرسن تھے، مزیدبراں جبارڈایو پربھی1200بھرتیاں کرنے کاالزام ہے۔
نوٹس جاری کرتے ہوئے حکومت سندھ نے متعلقہ9 افسران سے14 روزکے اندرنوٹس کاجواب طلب کیاہے، بھرتی کے ذمے یہ افسران پہلے ہی معطل ہیں، واضح رہے کہ کراچی کے سرکاری اسکولوں میں یہ تمام بھرتیاں سابق وزیرتعلیم پیر مظہرالحق کے دورمیں کی گئیں تاہم حکومت سندھ کی جانب سے سابق وزیرتعلیم کواس معاملے میں شامل تفتیش نہیں کیاگیااور تحقیقات کاتمام نزلہ اسکول کیڈرکے ان افسران پر گرگیا، ''ایکسپریس'' کومعلوم ہواہے کہ حکومت سندھ کی جانب سے پہلی بار سابق ڈائریکٹر اسکولز کراچی عطااللہ بھٹو، شمس الدین دل،ممتاز شیخ ،بشیراحمد عباسی،عبدالطیف مغل، لیاقت سولنگی اورجبارڈایو سمیت دیگر کو ملازمت سے برطرف کیے جانے کے نوٹس جاری کیے گئے ہیں۔
حکومت سندھ کی جانب سے ملازمت سے برطرفی کے جاری کردہ نوٹس میں ان افسران سے کہا گیاہے کہ انھوں نے سرکاری اسکولوں میں تدریسی وغیر تدریسی اسامیوں پر دستیاب خالی اسامیوں سے زیادہ غیر قانونی تقرریاں اورتعیناتیاں کی ہیں، اساتذہ کی بھرتیوں کیلیے انٹرویو اور تحریری ٹیسٹ نہیں لیے گئے جوائنگ پہلے دے دی گئی، میڈیکل اورپی آرسی ؍ڈومیسائل بھی بعد میں بنوائے گئے، یہ افسران 14روزمیں اس نوٹس کا جواب دیں کہ کیوں نہ حکومت سندھ ان کے خلاف ''سخت جرمانے ''کے طورپر انھیں ملازمت سے برطرف کردے ، صوبائی محکمہ تعلیم کے ایک اعلیٰ افسرنے ''ایکسپریس''کوبتایاکہ محکمہ تعلیم کی جانب سے کرائی گئی تحقیقات کے دوران سینیارٹی لسٹ میں 99ویں نمبرپر موجود جونیئرترین افسر شمس الدین دل نے 1047 بھرتیوں کی ذمے داری قبول کی جبکہ تحقیقات کے نتیجے میں ان کی جانب سے3500بھرتیوں کاانکشاف ہوا۔
اسی طرح سینیارٹی لسٹ میں 63ویں نمبرپرموجودعطا اللہ بھٹونے 2525بھرتیاں کرنے کااعتراف کیاجبکہ ان کے دستخط سے 11ہزاربھرتیاں سامنے آئیں، ممتازشیخ جنھیں پہلے بھی منیبہ اسکول لینڈ مافیاکے حوالے کرنے کے الزام میں معطل کیاگیاتھاان کے خلاف بھرتیوں کے حامل افرادکوغیرقانونی طورجوائنگ دینے کاالزام ثابت ہوا، اسی طرح بشیراحمد عباسی نے بھی سیکڑوں افرادکوجوائنگ دی، عبدالطیف مغل پرالزام ہے کہ انھوں نے غیرقانونی بھرتیوں اورجوائنگ کے معاملے سے محکمہ تعلیم کے حکام کو آگاہ نہیں کیاجبکہ لیاقت سولنگی جوڈائریکٹوریٹ اسکولز میں اکائونٹ افسرتھے، بھرتیوں کے فوکل پرسن تھے، مزیدبراں جبارڈایو پربھی1200بھرتیاں کرنے کاالزام ہے۔