عراق بم دھماکوں اور تشدد کے واقعات میں 40 افراد ہلاک القاعدہ رہنما سمیت 18 جنگجو مارے گئے
صوبہ انبارمیں خودکش بمباربھرتی کرنے والے کاسی الانباری کاایک محافظ بھی ماراگیا دوسرازخمی حالت میں گرفتار
رمادی میں4 ،کرما میں 2فوجی اورجنوبی بغداد میں 2 اہلکار نشانہ بنے،پچھلے سال پرتشدد واقعات کے دوران 8868 افراد مارے گئے ،اقوام متحدہ۔ فوٹو: فائل
ISLAMABAD:
عراق میں سیکیورٹی فورسزکے آپریشن، بم دھماکوں اوردیگر پرتشدد واقعات میں40 افراد ہلاک ہوگئے،القاعدہ رہنما اور انبار صوبے میں خودکش بمباروں کا بھرتی انچارج سیکیورٹی فورسزکی کارروائی میں مارا گیا۔
غیر ملکی خبررساں ادارے کے مطابق صوبہ انبار میں سیکیورٹی فورسز کی عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں پر شیلنگ کے دوران ایک شہری ہلاک اور بچوں سمیت 4 افراد زخمی ہوگئے جبکہ سیکیورٹی فورسزکے آپریشن میں12جنگجو مارے گئے ۔رمادی میں عسکریت پسندوں کے ساتھ جھڑپ میں 4 فوجی ہلاک ہوگئے ۔شہر کے وسطی علاقے میں سیکیورٹی فورسز نے القاعدہ کے رہنما اور انبار صوبے میں خودکش بمبار بھرتی کرنے کے انچارج کو ہلاک کردیا۔وزارت دفاع کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے القاعدہ کے خودکش بمبار بھرتی کرنے والے کاسی الانباری کو فوجی آپریشن کے دوران ہلاک کیا اس دوران اس کا ایک محافظ مارا گیا جبکہ دوسرے کو زخمی حالت میں گرفتار کرلیا گیا۔ادھر مسلح افراد نے ایک سیمنٹ پلانٹ کے ڈائریکٹر اور اردنی سرمایہ کارکو اغوا کرلیا۔کرما کے علاقے میں جھڑپ کے دوران 2 فوجی ہلاک ہوگئے جبکہ3 عسکریت پسند بھی مارے گئے۔
سیکیورٹی فورسز نے علاقے میں جاری آپریشن کے دوران5 عسکریت پسندوں کو ہلاک کردیا۔ دارالحکومت بغداد اور اس کے گردونواح میں کمرشل علاقوں اور سیکیورٹی فورسز پر بم حملوں میں15افراد ہلاک ہوگئے۔ پولیس کے مطابق جنوبی شہرکربلا میں کار بم دھماکے کے نتیجے میں3 افراد ہلاک اور17 زخمی ہوگئے ۔جنوبی علاقے ہافریا میں ہونیوالے بم دھماکے میں ایک شخص ہلاک ہوگیااسی علاقے میں بس اسٹاپ کے قریب ایک اور بم دھماکے میں 2 افرا د ہلاک اور5 زخمی ہوگئے ۔جنوبی بغداد میں سیکیورٹی چیک پوسٹ پر خودکش کار بم دھماکے میں 2 اہلکار ہلاک اور 9 زخمی ہوگئے ۔شمالی بغداد میں سڑک کے کنارے نصب بم دھماکے میں ایک شخص ہلاک ہوگیا۔ہلہ شہر میں فلافل ریسٹورنٹ اور بس اسٹاپ کے قریب 2 بم دھماکوں میں 3افراد مارے گئے اور13 زخمی ہوگئے۔اقوام متحدہ کے مطابق پچھلے سال ملک میں پرتشدد واقعات کے دوران 8868افراد مارے جاچکے ہیں۔
عراق میں سیکیورٹی فورسزکے آپریشن، بم دھماکوں اوردیگر پرتشدد واقعات میں40 افراد ہلاک ہوگئے،القاعدہ رہنما اور انبار صوبے میں خودکش بمباروں کا بھرتی انچارج سیکیورٹی فورسزکی کارروائی میں مارا گیا۔
غیر ملکی خبررساں ادارے کے مطابق صوبہ انبار میں سیکیورٹی فورسز کی عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں پر شیلنگ کے دوران ایک شہری ہلاک اور بچوں سمیت 4 افراد زخمی ہوگئے جبکہ سیکیورٹی فورسزکے آپریشن میں12جنگجو مارے گئے ۔رمادی میں عسکریت پسندوں کے ساتھ جھڑپ میں 4 فوجی ہلاک ہوگئے ۔شہر کے وسطی علاقے میں سیکیورٹی فورسز نے القاعدہ کے رہنما اور انبار صوبے میں خودکش بمبار بھرتی کرنے کے انچارج کو ہلاک کردیا۔وزارت دفاع کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے القاعدہ کے خودکش بمبار بھرتی کرنے والے کاسی الانباری کو فوجی آپریشن کے دوران ہلاک کیا اس دوران اس کا ایک محافظ مارا گیا جبکہ دوسرے کو زخمی حالت میں گرفتار کرلیا گیا۔ادھر مسلح افراد نے ایک سیمنٹ پلانٹ کے ڈائریکٹر اور اردنی سرمایہ کارکو اغوا کرلیا۔کرما کے علاقے میں جھڑپ کے دوران 2 فوجی ہلاک ہوگئے جبکہ3 عسکریت پسند بھی مارے گئے۔
سیکیورٹی فورسز نے علاقے میں جاری آپریشن کے دوران5 عسکریت پسندوں کو ہلاک کردیا۔ دارالحکومت بغداد اور اس کے گردونواح میں کمرشل علاقوں اور سیکیورٹی فورسز پر بم حملوں میں15افراد ہلاک ہوگئے۔ پولیس کے مطابق جنوبی شہرکربلا میں کار بم دھماکے کے نتیجے میں3 افراد ہلاک اور17 زخمی ہوگئے ۔جنوبی علاقے ہافریا میں ہونیوالے بم دھماکے میں ایک شخص ہلاک ہوگیااسی علاقے میں بس اسٹاپ کے قریب ایک اور بم دھماکے میں 2 افرا د ہلاک اور5 زخمی ہوگئے ۔جنوبی بغداد میں سیکیورٹی چیک پوسٹ پر خودکش کار بم دھماکے میں 2 اہلکار ہلاک اور 9 زخمی ہوگئے ۔شمالی بغداد میں سڑک کے کنارے نصب بم دھماکے میں ایک شخص ہلاک ہوگیا۔ہلہ شہر میں فلافل ریسٹورنٹ اور بس اسٹاپ کے قریب 2 بم دھماکوں میں 3افراد مارے گئے اور13 زخمی ہوگئے۔اقوام متحدہ کے مطابق پچھلے سال ملک میں پرتشدد واقعات کے دوران 8868افراد مارے جاچکے ہیں۔