4 روز قبل مبینہ مقابلے میں ہلاک نوجوان کباڑی تھا
شفیق تنولی نے دعویٰ کیاکہ مواچھ گوٹھ میں ہلاک کامران لیاری گینگ وار کا کارندہ ہے
سید کامران کی تصویر۔ فوٹو: فائل
مواچھ گوٹھ میں4روز قبل مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک ہونے والا شیر شاہ کا رہائشی اپنے والد کے ساتھ کباڑی کا کام کرتا تھا ، مبینہ پولیس مقابلوں سے شہرت حاصل کرنے والے پولیس کے سب انسپکٹر شفیق تنولی نے دعویٰ کیا تھا کہ ہلاک ہونے والا لیاری گینگ وار کا کارندہ ہے۔
مقتول کے اہلخانہ نے واقعے کی تحقیقات کیلیے وزیر اعلیٰ سندھ اور ڈی جی رینجرزکو درخواست جمع کرادی، تفصیلات کے مطابق مواچھ گوٹھ کے علاقے میں 17 اور 18مارچ کی درمیانی شب ویسٹ زون کی انویسٹی گیشن کے انچارج اور مبینہ پولیس مقابلوں سے شہرت پانے والے سب انسپکٹر شفیق تنولی نے مواچھ گوٹھ میں مبینہ پولیس مقابلے کے دوران کامران عرف کامی کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا تھا ، شفیق تنولی نے ہلاک کامران عرف کامی کوگینگ و ار کارندہ ظاہر کرکے اسلحہ برآمد کرنے کا دعویٰ کیا تھا ، سید کامران شاہ کے بڑے بھائی سید سلطان شاہ نے بتایا کہ وہ مکان نمبر 124 گلی نمبر 3 اردو بازار شیر شاہ کا رہائشی ہے۔
کامران کو17مارچ کو مغرب کے وقت گھر سے اغوا کیا، اس دوران رینجرز کی وردی میں ملبوس دہشت گردوں نے ان کے والد کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا،رات 3 بجے مختلف ٹی وی چینلز پر کامران نامی شخص کی پولیس مقابلے میں ہلاکت کی خبر نشر ہونے پر وہ سول اسپتال گئے تو دیکھا کہ ان کا بھائی خون میں لت پت مردہ خانے میں پڑا درخواست منظور کرلی جبکہ ملزم محمد ندیم کو انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت کے جج بشیر احمد کھوسو کے روبرو پیش کیا اور آگاہ کیا گیا کہ ملزم نے قتل کی کئی وارداتوں میں ملوث ہے ملزم سے ایس ایم جی ،دھماکا خیز مواد اور دیگر مسروقہ اسلحہ برآمد کیا تھا، عدالت نے نظر بندی منظور کرلی۔
مقتول کے اہلخانہ نے واقعے کی تحقیقات کیلیے وزیر اعلیٰ سندھ اور ڈی جی رینجرزکو درخواست جمع کرادی، تفصیلات کے مطابق مواچھ گوٹھ کے علاقے میں 17 اور 18مارچ کی درمیانی شب ویسٹ زون کی انویسٹی گیشن کے انچارج اور مبینہ پولیس مقابلوں سے شہرت پانے والے سب انسپکٹر شفیق تنولی نے مواچھ گوٹھ میں مبینہ پولیس مقابلے کے دوران کامران عرف کامی کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا تھا ، شفیق تنولی نے ہلاک کامران عرف کامی کوگینگ و ار کارندہ ظاہر کرکے اسلحہ برآمد کرنے کا دعویٰ کیا تھا ، سید کامران شاہ کے بڑے بھائی سید سلطان شاہ نے بتایا کہ وہ مکان نمبر 124 گلی نمبر 3 اردو بازار شیر شاہ کا رہائشی ہے۔
کامران کو17مارچ کو مغرب کے وقت گھر سے اغوا کیا، اس دوران رینجرز کی وردی میں ملبوس دہشت گردوں نے ان کے والد کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا،رات 3 بجے مختلف ٹی وی چینلز پر کامران نامی شخص کی پولیس مقابلے میں ہلاکت کی خبر نشر ہونے پر وہ سول اسپتال گئے تو دیکھا کہ ان کا بھائی خون میں لت پت مردہ خانے میں پڑا درخواست منظور کرلی جبکہ ملزم محمد ندیم کو انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت کے جج بشیر احمد کھوسو کے روبرو پیش کیا اور آگاہ کیا گیا کہ ملزم نے قتل کی کئی وارداتوں میں ملوث ہے ملزم سے ایس ایم جی ،دھماکا خیز مواد اور دیگر مسروقہ اسلحہ برآمد کیا تھا، عدالت نے نظر بندی منظور کرلی۔