شکارپور جرگہ ونی کیس ملزمان کو گرفتار کرکے آج پیش کرنے کا حکم

ریکارڈ میں کسی قسم کے ردوبدل کی کوشش نہ کریں ورنہ سخت کارروائی کی جائے گی،سپریم کورٹ

ریکارڈ میں کسی قسم کے ردوبدل کی کوشش نہ کریں ورنہ سخت کارروائی کی جائے گی،سپریم کورٹ۔ فوٹو: فائل

سپریم کورٹ کے چیف جسٹس تصدق حسین جیلانی کی سربراہی میں3 رکنی بینچ نے شکارپورمیں جرگے کے انعقاد اور 2 لڑکیوں کے قتل میں ملوث ملزمان کوگرفتار کرکے جمعے کو عدالت میں پیش کرنے کاحکم دیا ہے۔


عدالت نے ایس ایس پی شکارپور کو مقدمے کاریکارڈ اور پیش رفت سے متعلق رپورٹ سمیت پیش ہونے کی ہدایت کی ہے،بینچ میں جسٹس خلجی عارف حسین اور جسٹس امیرہانی مسلم بھی شامل تھے، بینچ نے جمعرات کو کراچی رجسٹری میں شکارپور میں جرگے کے انعقاد اور 2 لڑکیوں کو ونی کرنے سے متعلق ازخود نوٹس کیس کی سماعت کی۔اس موقع پرقائم مقام آئی جی سندھ اقبال محمود نے بتایا کہ لڑکیوں کے قتل میں ملزم ثنا اللہ ملوث ہے اس کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جارہے ہیں ۔عدالت نے ایس ایس پی شکار پور کی جانب سے کچھ دستاویزات پیش کرنے پرشدید برہمی کااظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ آپ سے پولیس فائل طلب کی گئی تھی یہ کاغذکے ٹکڑے کسی کام کے نہیں،مقدمے کا ریکارڈکہاں ہے۔

جسٹس خلجی عارف حسین نے استفسار کیاکہ کس کیخلاف مقدمہ درج ہوا اور انھیں گرفتار کرنے کیلیے کسے بھیجا گیا ؟ایس ایس پی شکارپور نے بتایا کہ مقدمہ رکن قومی اسمبلی غوث بخش مہر اور دیگر کے خلاف درج کیا گیا ہے اور ان کی گرفتاری کیلیے ڈی ایس پی کی سربراہی میں ٹیم گئی تھی مگرکامیابی نہیں ملی۔چیف جسٹس نے ایس ایس پی شکار پورکو تنبیہ کی کہ ریکارڈ میں کسی قسم کے ردوبدل کی کوشش نہ کریں ورنہ سخت کارروائی کی جائے گی۔جسٹس امیرہانی مسلم نے ہدایت کی کہ ملزمان کو گرفتارکرکے ساتھ لائیں۔
Load Next Story