افواہوں سے گریز کیا جائے

ملک جن اعصاب شکن داخلی چیلنجوں سے نبرد آزما ہے اس میں ملکی قیادت پر کسی قسم کی مہم جوئی کا الزام نہیں لگنا چاہیے

ملک جن اعصاب شکن داخلی چیلنجوں سے نبرد آزما ہے اس میں ملکی قیادت پر کسی قسم کی مہم جوئی کا الزام نہیں لگنا چاہیے فوٹو؛ فائل

لاہور:
وزیر اعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان سے کسی ملک نے فوج مانگی ہے نہ ہم کسی کو دے رہے ہیں، شاہ بحرین کا دورہ پاکستان کے مفاد میں ہے۔ اس سے پہلے سعودی ولی عہد اور کویت کے وزیر اعظم بھی پاکستان کا دورہ کر چکے ہیں۔ میانوالی ایئربیس کا نام بدل کر ایم ایم عالم ایئربیس رکھنے کی تقریب کے موقع پر اخبار نویسوں سے گفتگو میں انھوں نے ان افواہوں کی تردید کی کہ پاکستان اپنے فوجی سعودی عرب اور بحرین بھیج رہا ہے۔

وزیراعظم کا کسی بھی مسلم برادر یا عرب ملک میں فوج بھیجنے کے حوالے سے دیا جانے والا بیان اپنے پیغام اور وضاحت کے لحاظ سے بروقت، دو ٹوک اور قطعی واضح ہے جس کے تناظر میں قوم کے جذبات اور امنگوں کی نہ صرف احسن طریقے سے ترجمانی کی گئی ہے بلکہ قومی سلامتی کے امور پر مکمل کنٹرول کے حوالے سے ملکی خارجہ، عسکری اور اقتصادی پالیسی سے متعلق مختلف سیاسی اور سماجی حلقوں کے تحفظات، خدشات اور اندیشوں کا ازالہ کر دیا گیا ہے۔ یہ ایک فصیح و بلیغ ریاستی اور حکومتی بیانیہ ہے جو اپنے غیر مبہم جواب، امید افزا استدلال و مضمرات اور مثبت تصریحات کے ضمن میں ملکی سلامتی سے منسلک اہم اور حساس معاملات پر پوائنٹ اسکورنگ کرنے والوں کے لیے لمحہ فکریہ بھی ہے۔

اہل سیاست کو اس بات کا بہرحال ادراک کرنا چاہیے کہ عالمی و علاقائی امور کے پیش نظر قومی سلامتی اور حساس عسکری معاملات پر اظہار خیال کرتے ہوئے اس امر کا بطور خاص خیال رکھا جائے کہ ملک جن اعصاب شکن داخلی چیلنجوں سے نبرد آزما ہے اس میں ملکی قیادت پر کسی قسم کی مہم جوئی کا الزام نہیں لگنا چاہیے، اس لیے بحرین، سعودی عرب یا دیگر برادر اسلامی ممالک سے اعلیٰ سطح کے وفود کی آمد سے متعلق قیاس آرائیوں، اندیشوں اور افواہوں کو سیاق و سباق سے الگ تجزیوں، تقریروں اور بیانات کی شکل میں میڈیا میں بے سمت اور تند و تیز تبصروں کی گنجائش نہیں تھی جو حکومت کے لیے ایک طرف مشکلات کا باعث بن سکتے ہیں تو دوسری جانب برادر ملکوں میں غلط فہمی، شکایات، بدگمانی اور الجھنوں کا احتمال بھی بڑھ سکتا ہے، اس لیے قومی سلامتی اور بیرون ملک فوج بھیجنے کے مفروضے پر قیامت کا سا ہنگامہ اٹھانا کسی طور ملکی مفاد میں نہیں۔ داخلی صورتحال کی گمبھیرتا کا احساس کرنا چاہیے اور بات کرتے ہوئے حد درجہ سنجیدگی، اعتدال اور متانت کا مظاہرہ کرنا شرط اول ہے ۔

تاہم یہ خوش آیند بات ہے کہ وزیر اعظم نے جس لمحہ قوم کو اعتماد میں لیا اسی دوران میں بحرین کا موقف سامنے آیا جس میں کہا گیا کہ پاکستان ایک آزاد اور خودمختار ملک ہے اور ہم کسی طرح اس پر اثر انداز نہیں ہو رہے، فرینڈز آف پاکستان کے تحت کوئی امداد نہیں دے رہے، پاکستان کے ساتھ دفاعی معاملات پر بات چیت ہوئی مگر اس کی تفصیلات پر بات نہیں کر سکتے۔ پاکستان سے شام کے معاملے پر مدد مانگنے نہیں آئے، پاکستان کی خارجہ پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ مزید برآں جمعرات کو بحرین کے وزیر خارجہ خالد بن احمد نے وزیر ٹرانسپورٹ کمال احمد کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے کہا کہ یہ بحرین کے شاہ کا پہلا دورہ ہے، صدر، وزیر اعظم، وزیر خارجہ، وزیر دفاع اور وزیر خزانہ سے ملاقاتیں کی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ لاکھوں پاکستانی بحرین میں کام کر رہے ہیں، دونوں ممالک کے درمیان چھ ارب ڈالر کی تجارت ہے جسے مزید بڑھایا جائے گا۔ پاکستان اور بحرین کے تعلقات کئی دہائیوں سے قائم ہیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ سعودی عرب کو خطرہ ہوا تو جی سی سی ممالک کی حیثیت سے اس کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔


ایران کے حوالے سے انھوں نے کہا ہم ایران کے ساتھ اچھے تعلقات چاہتے ہیں۔ بحرین میں 450 سے زیادہ کاروباری ادارے ہیں جو پاکستان میں ڈویلپمنٹ میں سرمایہ کاری کرنے کو تیار ہیں۔ بحرین کے فرمانروا شیخ حمد بن عیسیٰ الخلیفہ کے دورہ پاکستان کے اختتام پر دفتر خارجہ نے دونوں ممالک کا مشترکہ اعلامیہ جاری کیا۔ اعلامیے کے مطابق پاکستان اور بحرین نے دو طرفہ تعلقات کو وسعت دینے، اعلیٰ سطح کے سیاسی تبادلوں کو فروغ دینے سمیت اقتصادی، تجارتی، سرمایہ کاری کے شعبوں میں تعاون بڑھانے، دفاع اور سیکیورٹی، دہشت گردی سے لڑنے میں تعاون، دوطرفہ تجارتی حجم بڑھانے کے لیے ضروری اقدامات کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ دریں اثنا قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ نے کہا ہے کہ وزیر اعظم کا بیرون ملک فوجی نہ بھیجنے کا بیان مثبت ہے، ان کے بیان کا اعتبار کرنا چاہیے، تحفہ میں ملنے والے ڈالر کو حکومت نے خود مشکوک بنایا، شرائط قوم کو بتانی چاہئیں۔

ادھر متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین نے کہا کہ مجھے خوشی ہے کہ آج وزیر اعظم پاکستان نے اپنے خطاب میں قوم کو بتایا کہ پاکستانی افواج نہ تو شام، نہ بحرین اور نہ ہی کسی اور ملک میں بھیجی جا رہی ہیں۔ بلاشبہ وزیر اعظم نے واضح اور دوٹوک الفاظ میں یہ اعلان کر کے پاکستانی قوم میں پائی جانے والی بے چینی، ذہنی پریشانی اور بے یقینی کی کیفیت کا خاتمہ کر دیا ہے۔ اب ضرورت اس امر کے حقیقی ادراک و احساس کی ہے کہ عالمی یا علاقائی طاقتوں سے سیاسی و اقتصادی یا عسکری معاملات دو طرفہ تعلقات میں بنیادی اہمیت رکھتے ہیں، ہر ملک کو اپنا مفاد عزیز ہوتا ہے، پاکستان کو کئی دوست نما دشمن قوتیں اقتصادی اور تزویراتی محاصرہ میں لینے کی گھنائونی سازشوں میں مصروف ہیں جس کی ایک جھلک اسامہ کی پاکستان میں موجودگی اور بعض اعلیٰ سیاسی و عسکری شخصیات کے بارے میں امریکی صحافی کی بدنیتی پر مبنی رپورٹ میں دیکھی جا سکتی ہے۔

جب کہ پاک فوج نے اسامہ کے بارے میں نیویارک ٹائمز کی رپورٹ مسترد کر دی ہے۔ چنانچہ قوم سیاست دانوں سے بجا طور پر یہ توقع رکھتی ہے کہ وہ پاکستان کے وقار، خود مختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے میڈیا پر اظہار خیال میں چھکے چوکے لگانے سے گریز کریں گے۔ قومی مفادات کو مدنظر رکھیں گے کیونکہ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا پر بلاجواز شعلہ نوائی اور حقائق سے ماورا تبصروں کے سلسلے مزید الجھائو کا سبب بنیں گے جس کے نتیجہ میں حکومت بلکہ وزیر اعظم کو خود ڈیمیج کنٹرول کے لیے آگے آنا پڑتا ہے، جیسا کہ جمعرات کو ہوا۔ وزیر اعظم نواز شریف کا کہنا ہے کہ سعودی عرب، بحرین اور کویت سمیت دوست ممالک کی قیادت کے حالیہ دورے ان ممالک کی پاکستان کے ساتھ دوستی کا ثبوت ہیں اور اسے کسی قیاس آرائی کے ساتھ منسلک نہیں کیا جانا چاہیے۔ عرب ممالک کے رہنمائوں کے دورے پاکستان کے مفاد میں ہیں، مستقبل قریب میں ایسے مزید دورے بھی ہوں گے۔ اس سے قبل تقریب سے خطاب میں وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے کہا کہ پاکستان اسلحے کی دوڑ میں شریک نہیں لیکن اپنے دفاع سے بھی غافل نہیں۔

حکومت اس معاملے میں کسی ابہام کا شکار نہیں کہ ایک مضبوط پاکستان ہی خطے کے امن کی ضمانت ہو سکتا ہے۔ وزیر اعظم نے جنوبی ایشیا کی قیادت کو دعوت فکر دی کہ وہ اسلحے کی دوڑ کے بجائے غربت و افلاس کو اپنی توجہ کا مرکز بنائیں اور غربت، جہالت اور بیماری جیسی سماجی قباحتوں کے خلاف لڑیں۔ وزیر اعظم نے کہا کہ افواج پاکستان کو جدید ترین اسلحے سے لیس کیا جائے گا۔ ملک کو سنگین چیلنجوں کا سامنا ہے جس سے نمٹنے کے لیے جلد فیصلہ کرنا ہو گا۔ تاہم ایک واضح حقیقت یہ ہے کہ پوری دنیا کے محروم اور مفلوک الحال عوام سیاسی تبدیلیوں کی زبردست انقلابی خواہش کے ساتھ ساتھ عملی کوششوں میں بھی مصروف ہیں، افریقہ، ایشیا، مشرق وسطیٰ سمیت پورا عالم عرب کا سیاسی، اقتصادی، عسکری منظرنامہ پر تپش ہے، مصر داخلی شورش، اسلامی تحریکوں، مسلکی اختلافات اور جمہوری انقلاب جیسی تبدیلی کی دہلیز سے پیچھے پلٹ گیا، اسی طرح افغانستان کا معاملہ تہلکہ خیز ہے جب کہ دیگر عرب ممالک میں سیاسی، سماجی، فکری اور انتظامی سطح پر تبدیلیوں کے نئے افق نظر آ رہے ہیں۔
Load Next Story