فہد عزیز پر تشدد کے نشانات نہیں ملے میڈیکل بورڈ

ملزم کی کوئی ہڈی نہیں ٹوٹی،پیروں کے تمام جوڑ نارمل تھے، جسم پر زخم کے نشان نہیں ملے

متحدہ کے کارکن فہد عزیزکی پولیس حراست سے رہائی کے بعد اسپتال میں لی گئی تصویر۔ فوٹو: ایکسپریس

متحدہ قومی موومنٹ کے کارکن فہدعزیز پر تشدد کے بارے میں میڈیکل رپورٹ عدالت میں پیش کردی گئی، عدالت عالیہ نے فہد عزیز پر دوران حراست تشدد کی تحقیقاتی میڈیکل بورڈ کی رپورٹ ریکارڈ پر لیتے ہوئے سماعت 2 اپریل تک ملتوی کردی۔

تفصیلات کے مطابق سندھ ہائی کورٹ کے حکم پر تشکیل دیے گئے میڈیکل بورڈ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ملزم کا مکمل طبی معائنہ کیا گیا فہد عزیز کے ٹشوز میں کسی قسم کے زخم نہیں پائے گئے، پاؤں کے دونوں تلووں پر مقامی طور پر تیار کردہ کیمیکل لگاہوا پایا گیا، جبکہ پیروں کے تمام جوڑ بالکل نارمل پائے گئے، فہد عزیزکا سر سے پاؤں کا تجزیہ کیا گیا لیکن کسی قسم کے زخم کا نشان نہیں ملا، میڈیکل بورڈ نے بتایا ہے کہ ملزم کی کوئی بھی ہڈی ٹوٹی ہوئی نہیں پائی گئی، ہائیکورٹ نے متحدہ قومی موومنٹ کے کارکن فہد عزیز پردوران حراست تشدد کی تحقیقات کیلیے قائم کردہ میڈیکل بورڈکی رپورٹ ریکارڈ پر لیتے ہوئے سماعت 2 اپریل تک ملتوی کردی ہے، درخواست گزاروں کے وکیل کی استدعا پر آغا خان یونیورسٹی اسپتال کے ماہرین کو بھی میڈیکل بورڈ میں شامل کیا گیا تھا۔


جمعہ کو چیف جسٹس مقبول باقر کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر فاروق ستار، متحدہ قومی موومنٹ کے یونٹ 79 کے کارکن فہد عزیز اور فہد عزیز کے والد عبدالعزیز کی جانب سے دائر درخواست کی سماعت کی، سماعت کے دوران متحدہ کے وکیل سینیٹر فروغ نسیم نے درخواست میں کہا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے متحدہ قومی موومنٹ کے خلاف آپریشن شروع کررکھا ہے،ایم کیوایم کے کارکنوں کوغیرقانونی طور پر حراست میں لے کر انھیں تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور ماورائے عدالت قتل کرکے لاش پھینک دی جاتی ہے، ایم کیوایم کے 8کارکنوں کو اب تک ماورائے عدالت قتل کیا جاچکا ہے اور 54 تاحال لاپتہ ہیں، حال ہی میں ایک کارکن سلمان کو حراست میں لے کر بدترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور ماورائے عدالت قتل کرکے لاش پھینک دی گئی۔

درخواست گزاروں نے موقف اختیار کیا کہ کارکن فہد عزیز کو8 فروری کی شب اس وقت شاہ فیصل کالونی فلائی اوور سے گرفتار کیا گیا جب وہ اپنی شادی کے بعد دلہن کے ہمراہ اپنے گھر (کورنگی)کی جانب واپس جارہا تھا بعد ازاں اسے تشدد کا نشانہ بنایا گیا جو کہ بنیادی انسانی حقوق کی بھی خلاف ورزی ہے، فہد عزیز کو تعزیرات پاکستان کی دفعہ 54 کے تحت حراست میں لینے کا دعویٰ کیا گیا جو کہ نقص امن سے متعلق ہے، قانون نافذکرنے والے ادارے ایم کیوایم کے کارکنوں کو غیر قانونی حراست میں لیتے اور بدترین تشدد کا نشانہ بناتے ہیں، مدعا علیہان کا یہ عمل آئین کی بھی خلاف ورزی ہے، درخواست گزاروں نے استدعا کی ہے کہ ایم کیوایم کے خلاف جاری آپریشن روکاجائے اور ایڈیشنل آئی جی کراچی،ایس ایس پی ایسٹ اور ایس ایچ او شاہ فیصل کو فوری طور پر معطل کیا جائے اور فہد عزیز کی غیرقانونی حراست اور بدترین تشدد کی تحقیقات کرائی جائے ،الزامات ثابت ہونے پر ان پولیس افسران کوعہدوں سے برطرف کیا جائے۔
Load Next Story