قرارداد پاکستان کے پاس ہونے پرہندو لیڈروں اور اخبارات نے آسمان سر پر اٹھالیا
قائد اعظم نے کہا: ’’مسلمان ایک اقلیت نہیں بلکہ وہ قومیت کی ہر تعریف کی رو سے ایک قوم ہیں‘‘
قائد اعظم نے کہا: ’’مسلمان ایک اقلیت نہیں بلکہ وہ قومیت کی ہر تعریف کی رو سے ایک قوم ہیں ‘‘ فوٹو:فائل
فروری 1940ء میں آل انڈیا مسلم لیگ ورکنگ کمیٹی اور کونسل کا اجلاس دہلی میں منعقد ہوا جہاں مسلمانوں کے لیے ایک علیحدہ مملکت کے قیام کا مطالبہ اجلاس میں پیش کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ ورکنگ کمیٹی کے اجلاس کے بعد قائداعظم وائسرائے لارڈ لنلتھگو سے ملے اور اس کو بتلایا کہ مسلم لیگ مجوزہ اجلاس لاہور میں ہندوستان کی تقسیم کا مطالبہ کرے گی۔
خاکسار المیہ:۔ مارچ 1940ء میں مسلم لیگ کے اجلاس سے صرف چار روز قبل لاہور میں ایک بڑا المیہ پیش آیا جس کی وجہ سے اس تاریخی اجلاس کے ملتوی ہونے کا خطرہ پیدا ہوگیا۔ ہوا یوں کہ حکومت پنجاب نے نیم فوجی جماعتوں کو غیر قانونی قرار دے کر مخصوص وردی پہننے اور پریڈ کرنے پر پابندی عائد کردی۔ خاکسار جماعت نے ان احکامات کی خلاف ورزی کرنے کا فیصلہ کیا اور 19 مارچ کو بھاٹی دروازہ کے اندر وردی پہن کر پریڈ کرنے لگے۔ جس سے خاکسار پولیس تصادم کے نتیجہ میں 50 کے قریب خاکسار پولیس کے ہاتھوں مارے گئے۔ شہر میں صورتحال بے حدکشیدہ ہوگئی۔ سرسکندر کی حکومت نے اس صورتحال سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مسلم لیگ کا اجلاس ملتوی کروانے کی کوشش کی۔ حکومت پنجاب نے وائسرائے کی انتظامی کونسل کے رکن سر ظفر اللہ خان کو ایلچی بناکر قائداعظم کے پاس بھیجا تاکہ وہ انہیں سمجھا بجھا کر اجلاس ملتوی کرانے سے متعلق قائل کرسکے۔
لیکن قائداعظم محمد علی جناح نے اس سلسلے میں تمام مشوروں کو رد کرتے ہوئے یہ فرمایاکہ اجلاس مقررہ تاریخ پر لاہور میں ہی منعقد ہوگا۔
اجلاس کے انتظامات کے لیے شاہنواز ممدوٹ کی سربراہی میں ایک مجلس استقبالیہ قائم کی گئی جس کے سیکرٹری میاں بشیر احمد مقرر کیے گئے۔ شاہنواز ممدوٹ نے ابتدائی اخراجات کے لیے اپنی جیب سے چھ سو روپے دیئے۔ سب سے زیادہ چندہ نواب آف کالا باغ نے دیا اور یہ پیش کش کی کہ اگر کوئی اس سے زیادہ چندہ دے گا تو وہ اس سے دوگنی رقم دیں گے۔
قائداعظم 21 مارچ کو لاہور پہنچے اوراسٹیشن سے سیدھے میو ہسپتال جاکر زخمی خاکساروں کی عیادت کی۔ شہریان لاہور نے قائداعظم کو جلوس کی شکل میں لے جانے کا فیصلہ کیا تھا۔ لیکن خاکسار المیہ کے سبب یہ پروگرام ترک کردیا گیا۔ اسٹیشن سے باہر بے شمار نوجوان یہ اصرار کررہے تھے کہ قائداعظم موٹر کے بجائے فٹن میں بیٹھیں تاکہ وہ ان کی گاڑی کھینچ کر نواب ممدوٹ کی کوٹھی ڈیوس روڈ تک لے جائیں لیکن قائداعظم نے اس خواہش کو بھی منظور نہ کیا۔ قائداعظم نے لاہور پہنچ کر اخباری نمائندوں کو ایک بیان دیا کہ لیگ اس اجلاس میں ایک انقلاب آفرین فیصلہ کرے گی۔ اس پر تمام حلقوں میں چہ میگوئیوں اور قیاس آرائیوں کا ایک سلسلہ شروع ہوگیا۔
22 مارچ 1940ء کو مسلم لیگ کا عام اجلاس شروع ہوا۔ نواب شاہنواز ممدوٹ نے خطبہ استقبالیہ پیش کیا۔ انہوں نے اپنے خطبہ میں سرسکندر کا نام لیا تو لوگوں نے ہنگامہ برپا کردیا اور شرم شرم کے نعرے بلند ہونے لگے اور یہ کہا گیا کہ سرسکندر کا نام مت لو۔
قائداعظم نے اپنی صدارتی تقریر میں دو قومی نظریہ پر روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا کہ ''ہندوستان کا مسئلہ فرقہ وارانہ نہیں بلکہ بین الاقوامی ہے اور اس مسئلہ کو بین الاقوامی مان کر حل کرنا چاہیے۔ اگر برطانوی حکومت ہندوستان میں امن اور سکون چاہتی ہے تو اس کی صرف ایک صورت ہے کہ ہندوستان کو تقسیم کرکے جداگانہ قومی وطن قائم کیے جائیں۔'' ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان تہذیبی مذہبی اور ثقافتی اختلافات کی نشاندہی کرتے ہوئے آپ نے فرمایا کہ ''ہندو اور مسلمان کبھی ایک قوم نہیں بنے۔ نہ دونوں کے درمیان شادیاں ہوتی ہیں۔ نہ ہی وہ ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھ کر کھاتے ہیں۔ دونوں ایسی تہذیبوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ جن کی بنیاد متصادم افکار و تصورات پر ہے۔ ان کے کارنامے مختلف ہیں۔ اکثر اوقات ایک کا ہیرو دوسرے کا دشمن ہوتا ہے۔ ایک کی فتح دوسرے کی شکست ہے۔ ایسی متضاد قوموں کو ایسے نظام میں باندھنا جس میں ایک اقلیت اور دوسری اکثریت میں ہو اس کا نتیجہ صرف یہ ہوگا کہ ان میں بے چینی بڑھے گی اور وہ نظام بالآخر تباہ و برباد ہوجائے گا۔'' قائداعظم نے اس مفروضے کی کہ مسلمان ایک اقلیت ہیں تردید کرتے ہوئے فرمایا کہ ''مسلمان ایک اقلیت نہیں بلکہ وہ قومیت کی ہر تعریف کی رو سے ایک قوم ہیں لہٰذا ان کا ایک علیحدہ وطن ہونا چاہیے۔''
قائداعظم نے دوران تقریر لالہ لاجپت رائے کا ایک خط سنایا جو انہوں نے 1924ء میں سی آر داس کو لکھا تھا کہ مسلمان اور ہندو دو مختلف قومیں ہیں جنہیں مدغم کرکے ایک قوم بنانا ناممکن ہے۔ ان کے اس خط نے لوگوں کو ششدر کردیا۔ ملک برکت علی کے منہ سے نکل گیا کہ لاجپت رائے نیشنلسٹ ہندو تھے۔ اس پر قائداعظم نے زور دے کر کہا ''کوئی ہندو نیشنلسٹ نہیں ہوسکتا۔ ہر ہندو اول و آخر ہندو ہے۔''
آل انڈیا مسلم لیگ کے اس تاریخ ساز اجلاس میں مختلف صوبوں سے جن مشہور لیڈروں نے شرکت کی ان میں سرعبداللہ ہارون، قاضی محمد عیسیٰ، آئی آئی چندریگر، رؤف شاہ، ڈاکٹر عالم، سید ذاکر علی، عبدالحمید قادری، چوہدری خلیق الزمان، نواب محمد اسمٰعیل خان، نواب بہادر یارجنگ، مولوی فضل الحق، سردار عبدالرب نشتر، خواجہ ناظم الدین، ابو الہاشم، سردار اورنگ زیب اور ملک برکت علی شامل تھے۔ اس اجلاس میں شریک ہونے والوں کی تعداد ایک محتاط اندازے کے مطابق پچاس ہزار سے زائد تھی۔ کانگریس کے بہت بڑے حمایتی مولوی طفیل احمد نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ یہ اجلاس مجمع کے اعتبار سے نہایت کامیاب رہا۔ بیان کیاجاتا ہے کہ اس میں پچاس ہزار سے زیادہ کا مجمع تھا۔''
23 مارچ کے تاریخی اجلاس میں شیربنگال مولوی اے کے فضل الحق نے قرار داد لاہور پیش کی جس کی چوہدری خلیق الزمان، مولانا ظفر علی خان، سرعبداللہ ہارون، سردار اورنگ زیب، نواب اسمٰعیل، قاضی محمد عیسیٰ اور بیگم محمد علی جوہر نے تائید کی۔
قرارداد لاہور: چار سو الفاظ اور چار مختصر پیرا گراف پر مشتمل قرارداد لاہور میں کہا گیا کہ ''آل انڈیا مسلم لیگ کے اس اجلاس کی یہ مسلمہ رائے ہے کہ کوئی بھی آئینی منصوبہ اس ملک میں قابل عمل اور مسلمانوں کے لیے قابل قبول نہیں ہوگا تاوقتیکہ وہ مندرجہ ذیل بنیادی اصول پر وضع نہ کیا گیا ہو۔ یعنی جغرافیائی طور پر متصلہ علاقوں کی حد بندی ایسے خطوں میں کی جائے (مناسب علاقائی ردوبدل کے ساتھ) کہ جن علاقوں میں مسلمانوں کی اکثریت ہے مثلاً ہندوستان کے شمال مغربی اور مشرقی حصے، ان کی تشکیل ایسی ''آزاد ریاستوں'' کی صورت میں کی جائے جس کی مشمولہ وحدتیں خود مختار اور مقتدر ہوں۔ نیز ان وحدتوں اور خطوں میں اقلیتوں کے مذہبی، ثقافتی، معاشی، سیاسی، انتظامی اور دیگر حقوق و مفادات کا مناسب مؤثر اور حکمی تحفظ ان کے مشورے سے آئین میں صراحت کے ساتھ پیش کیا جائے۔''
قرارداد لاہور سے متعلق ایک مخصوص مکتبۂ فکر کے حامل لوگ یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ قرارداد میں ایک کی بجائے دو ریاستوں کا تصور موجود ہے۔ اس سلسلے میں پہلی بات یہ ہے کہ بلا شبہ قرارداد لاہور میں STATES کا لفظ موجود ہے لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ ریاستیں ایک دوسرے سے جدا ہوں گی یا یہ ایک ہی مسلم مملکت کی دو ریاستیں ہوں گی۔ 1941ء میں آل انڈیا مسلم لیگ کے اجلاس مدارس میں ایک قرارداد منظور کی گئی جس میں کہا گیا کہ ''ہر شخص کو یہ بات غور سے سن لینی چاہیے کہ ہم ایک آزاد خود مختار مسلم ریاست کے قیام کی کوشش کررہے ہیں۔'' قائداعظم نے قرارداد کی منظوری کے چند ماہ بعد 17 اکتوبر 1940ء کو ایک کتاب India's Problem of Her Future Constitution کا اصل دیباچہ لکھا جس میں قرار داد لاہور کے حوالے سے ہی Independent State کا لفظ تحریر کیا۔ اس دیباچہ پر قائداعظم کے دستخط بھی موجود ہیں۔ اس کے علاوہ قائداعظم کی تقاریر میں Muslim Homeland (یکم اپریل 1940ء) خود مختار مسلم سٹیٹ (14 اپریل 1941ء) کے الفاظ بھی ملتے ہیں۔
1944ء کے بعد ان کی کسی تقریر میں States کا لفظ استعمال نہیں ہوا۔ 1944ء میں گاندھی جناح مذاکرات کے موقع پر تو قائداعظم نے پاکستان کے بارے میں ہر قسم کے شکوک و شبہات کو دور کردیا کہ یہ دونوں ایک مملکت کے صوبے ہوں گے نہ کہ علیحدہ مملکتیں۔
7 اپریل 1946ء کے دہلی کنونیشن نے جہاں آل انڈیا مسلم لیگ کونسل، ورکنگ کمیٹی، صوبائی اسمبلیوں، کونسل آف سٹیٹ اور مرکزی اسمبلی کے منتخب شدہ 700 سے زائد ارکان موجودتھے۔ قائداعظم کی زیر صدارت بنگالی رہنما حسین شہید سہروردی نے ایک قرارداد کے ذریعے تمام شبہات دور کرکے ''ایک مملکت'' کے حصول کا اعلان کیا۔
قرارداد لاہور کا پاس ہونا تھا کہ ہندو لیڈروں اور اخبارات نے آسمان سر پر اٹھالیا۔ پرتاب، ملاپ، ٹریبیون اور دیگر ہندو اخبارات نے اگلے ہی روز قرارداد لاہور کو قرار داد پاکستان کا نام دے دیا حالانکہ قرارداد میں کسی بھی جگہ لفظ پاکستان استعمال نہیں کیا گیا۔ شاید مسلم لیگ اپنی کوشش سے قرارداد لاہور کو اس قدر مقبول نہ بناسکتی جس قدر ہندو پریس اور لیڈروں نے اس کے خلاف زہر اگل کر اسے مقبول بنایا۔ 21 اگست 1940ء کو روزنامہ ٹریبیون نے پاکستان سکیم کو ''بے مقصد'' قرار دیتے ہوئے لکھا کہ یہ سکیم ہندوستان کے فرقہ وارانہ مسئلہ کا کوئی حل نہیں ہے بلکہ اس سکیم سے یہ مسئلہ مزید پیچیدہ ہوجائے گا۔
ماڈرن ریویو (کلکتہ) نے جون 1940ء میں لکھا کہ ''جناح اور اس کے مسلم لیگی حواریوں کے علاوہ باقی تمام اس بات میں پختہ یقین رکھتے ہیں کہ پاکستان سکیم نہ صرف ہندوستانی قوم کیلئے بلکہ خود مسلمانوں کے لیے نقصان دہ ہے۔''
ہندوستان ٹائمز نے ایک اداریہ میں لکھا کہ ''تاریخ نے ہندو اور مسلمانوں کو ایک قوم بنایا تھا اور اب کسی بھی قوم کو مطمئن کرنے کی خاطر ہندوستان کی وحدت کو توڑنا یہاں کے لوگوں کی ترقی اور امن و سکون کو برباد کرنے کے مترادف ہوگا۔ اس فیصلہ کو مسلمان بحیثیت ایک قوم مسترد کردیں گے خواہ لیگ اور اس کے لیڈر کچھ ہی کہتے ہیں''
اخبار امرت بازار پتریکا نے پاکستان سکیم کو مضحکہ خیز قرار دیتے ہوئے لکھا کہ اگر مسلمان ایک آل انڈیا گورنمنٹ کے تحت بحیثیت اقلیتی قوم کے نہیں رہ سکتے تو وہ یہ توقع کس طرح کرتے ہیں کہ ہندو مسلمانوں کی اکثریت کے تحت رہیں گے۔
اسٹیٹسمین نے قرارداد لاہور پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ ''یہ انقلابی تجویز ہے لیکن جو لوگ اس کی مخالفت کرنا چاہیں ان کو مخالفت سے قبل اس کا بغور مطالعہ کرنا ضروری ہے۔ انہیں سمجھ لینا چاہیے کہ مسلم لیگ نے پوری سنجیدگی سے اسے پیش کیا ہے۔ اس لیے اس کو محض خواب و خیال سمجھ کر نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ ہندوؤں کو یہ بات خواہ اچھی لگے یا بری یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ ہندوستان کے آٹھ کروڑ مسلمان اپنے جداگانہ کلچر کا زبردست احساس رکھتے ہیں۔ لیکن یہ ایک ایسا مشورہ ہے جو مایوسی کی موجودہ حالت میں پیش کیا گیا ہے۔ اس لیے ہمیں ماننا پڑے گا کہ اس تجویز میں ایماندارانہ طور پر موجودہ ناگفتہ بہ ہندو مسلم تنازعہ کا ایک قابل عمل حل پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ تجویز پیش کرنے والوں کے نزدیک صرف یہی ایک قابل قبول حل ہے۔''
ہندو اخبارات کی مانند ہندو لیڈروں نے بھی قرارداد لاہور کے خلاف دل کھول کر زہر اگلا۔ گاندھی نے چھ اپریل 1940ء کو اپنے اخبار ہریجن میں لکھا کہ ''میرا خیال ہے کہ مسلمان تقسیم کو قبول نہیں کریں گے۔ ان کا مفاد خود ان کو تقسیم سے روکے گا۔ ان کا مذہب ان کو اس قسم کی واضح خودکشی کی اجازت نہیں دے گا۔ دو قومی نظریہ ایک جھوٹ ہے چونکہ میں اہمسا میں یقین رکھتا ہوں اس لیے میں تشدد کے بل پر مجوزہ تقسیم کو نہیں روک سکتا۔ لیکن میں اس چیرپھاڑ میں فریق نہیں بنوں گا کیونکہ تقسیم کا مطلب ان بے شمار ہندوؤں اور مسلمانوں کے کام کو تباہ و برباد کرنا ہے جنہوں ے صدیوں سے ایک قوم کی حیثیت سے ہندوستان میں رہنے کی کوشش کی۔ تقسیم ایک جھوٹ ہے۔ میری روح اس نقطہ نظر کے خلاف بغاوت کرتی ہے کہ ہندو مت اور اسلام دو مختلف عقیدوں اور متضاد تہذیبوں کا نام ہے۔ ہم سب ایک ہی خدا کے بندے ہیں۔ یقینا میں اس خیال کے خلاف بغاوت کروں گاکہ کروڑوں ہندوستانی جو کل تک ہندو تھے اپنا مذہب تبدیل کرنے کی وجہ سے اپنی قومیت بھی بدل سکتے ہیں۔''
سی راج گوپال اچاریہ نے قرارداد لاہور کے متعلق زہر افشانی کرتے ہوئے کہا کہ ''تقسیم ہندوستان سے متعلق مسٹر جناح کا یہ قدم اس طرح کا ہے جیسے دوبھائیوں میں ایک گائے کی ملکیت پر جھگڑا ہوا، اور وہ اس گائے کو دو ٹکڑوں میں کاٹ کر بانٹ لیں۔''
کانگریسی لیڈر ابوالکلام آزاد نے مطالبہ پاکستان کے متعلق کہا کہ وہ بنیادی طور پر پاکستان کے اس لیے خلاف ہیں کہ ان کی نظر میں خدا کی زمین کو پاک اور ناپاک خطوں میں بانٹنے کا کسی انسان کو حق نہیں۔''
خاکسار المیہ:۔ مارچ 1940ء میں مسلم لیگ کے اجلاس سے صرف چار روز قبل لاہور میں ایک بڑا المیہ پیش آیا جس کی وجہ سے اس تاریخی اجلاس کے ملتوی ہونے کا خطرہ پیدا ہوگیا۔ ہوا یوں کہ حکومت پنجاب نے نیم فوجی جماعتوں کو غیر قانونی قرار دے کر مخصوص وردی پہننے اور پریڈ کرنے پر پابندی عائد کردی۔ خاکسار جماعت نے ان احکامات کی خلاف ورزی کرنے کا فیصلہ کیا اور 19 مارچ کو بھاٹی دروازہ کے اندر وردی پہن کر پریڈ کرنے لگے۔ جس سے خاکسار پولیس تصادم کے نتیجہ میں 50 کے قریب خاکسار پولیس کے ہاتھوں مارے گئے۔ شہر میں صورتحال بے حدکشیدہ ہوگئی۔ سرسکندر کی حکومت نے اس صورتحال سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مسلم لیگ کا اجلاس ملتوی کروانے کی کوشش کی۔ حکومت پنجاب نے وائسرائے کی انتظامی کونسل کے رکن سر ظفر اللہ خان کو ایلچی بناکر قائداعظم کے پاس بھیجا تاکہ وہ انہیں سمجھا بجھا کر اجلاس ملتوی کرانے سے متعلق قائل کرسکے۔
لیکن قائداعظم محمد علی جناح نے اس سلسلے میں تمام مشوروں کو رد کرتے ہوئے یہ فرمایاکہ اجلاس مقررہ تاریخ پر لاہور میں ہی منعقد ہوگا۔
اجلاس کے انتظامات کے لیے شاہنواز ممدوٹ کی سربراہی میں ایک مجلس استقبالیہ قائم کی گئی جس کے سیکرٹری میاں بشیر احمد مقرر کیے گئے۔ شاہنواز ممدوٹ نے ابتدائی اخراجات کے لیے اپنی جیب سے چھ سو روپے دیئے۔ سب سے زیادہ چندہ نواب آف کالا باغ نے دیا اور یہ پیش کش کی کہ اگر کوئی اس سے زیادہ چندہ دے گا تو وہ اس سے دوگنی رقم دیں گے۔
قائداعظم 21 مارچ کو لاہور پہنچے اوراسٹیشن سے سیدھے میو ہسپتال جاکر زخمی خاکساروں کی عیادت کی۔ شہریان لاہور نے قائداعظم کو جلوس کی شکل میں لے جانے کا فیصلہ کیا تھا۔ لیکن خاکسار المیہ کے سبب یہ پروگرام ترک کردیا گیا۔ اسٹیشن سے باہر بے شمار نوجوان یہ اصرار کررہے تھے کہ قائداعظم موٹر کے بجائے فٹن میں بیٹھیں تاکہ وہ ان کی گاڑی کھینچ کر نواب ممدوٹ کی کوٹھی ڈیوس روڈ تک لے جائیں لیکن قائداعظم نے اس خواہش کو بھی منظور نہ کیا۔ قائداعظم نے لاہور پہنچ کر اخباری نمائندوں کو ایک بیان دیا کہ لیگ اس اجلاس میں ایک انقلاب آفرین فیصلہ کرے گی۔ اس پر تمام حلقوں میں چہ میگوئیوں اور قیاس آرائیوں کا ایک سلسلہ شروع ہوگیا۔
22 مارچ 1940ء کو مسلم لیگ کا عام اجلاس شروع ہوا۔ نواب شاہنواز ممدوٹ نے خطبہ استقبالیہ پیش کیا۔ انہوں نے اپنے خطبہ میں سرسکندر کا نام لیا تو لوگوں نے ہنگامہ برپا کردیا اور شرم شرم کے نعرے بلند ہونے لگے اور یہ کہا گیا کہ سرسکندر کا نام مت لو۔
قائداعظم نے اپنی صدارتی تقریر میں دو قومی نظریہ پر روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا کہ ''ہندوستان کا مسئلہ فرقہ وارانہ نہیں بلکہ بین الاقوامی ہے اور اس مسئلہ کو بین الاقوامی مان کر حل کرنا چاہیے۔ اگر برطانوی حکومت ہندوستان میں امن اور سکون چاہتی ہے تو اس کی صرف ایک صورت ہے کہ ہندوستان کو تقسیم کرکے جداگانہ قومی وطن قائم کیے جائیں۔'' ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان تہذیبی مذہبی اور ثقافتی اختلافات کی نشاندہی کرتے ہوئے آپ نے فرمایا کہ ''ہندو اور مسلمان کبھی ایک قوم نہیں بنے۔ نہ دونوں کے درمیان شادیاں ہوتی ہیں۔ نہ ہی وہ ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھ کر کھاتے ہیں۔ دونوں ایسی تہذیبوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ جن کی بنیاد متصادم افکار و تصورات پر ہے۔ ان کے کارنامے مختلف ہیں۔ اکثر اوقات ایک کا ہیرو دوسرے کا دشمن ہوتا ہے۔ ایک کی فتح دوسرے کی شکست ہے۔ ایسی متضاد قوموں کو ایسے نظام میں باندھنا جس میں ایک اقلیت اور دوسری اکثریت میں ہو اس کا نتیجہ صرف یہ ہوگا کہ ان میں بے چینی بڑھے گی اور وہ نظام بالآخر تباہ و برباد ہوجائے گا۔'' قائداعظم نے اس مفروضے کی کہ مسلمان ایک اقلیت ہیں تردید کرتے ہوئے فرمایا کہ ''مسلمان ایک اقلیت نہیں بلکہ وہ قومیت کی ہر تعریف کی رو سے ایک قوم ہیں لہٰذا ان کا ایک علیحدہ وطن ہونا چاہیے۔''
قائداعظم نے دوران تقریر لالہ لاجپت رائے کا ایک خط سنایا جو انہوں نے 1924ء میں سی آر داس کو لکھا تھا کہ مسلمان اور ہندو دو مختلف قومیں ہیں جنہیں مدغم کرکے ایک قوم بنانا ناممکن ہے۔ ان کے اس خط نے لوگوں کو ششدر کردیا۔ ملک برکت علی کے منہ سے نکل گیا کہ لاجپت رائے نیشنلسٹ ہندو تھے۔ اس پر قائداعظم نے زور دے کر کہا ''کوئی ہندو نیشنلسٹ نہیں ہوسکتا۔ ہر ہندو اول و آخر ہندو ہے۔''
آل انڈیا مسلم لیگ کے اس تاریخ ساز اجلاس میں مختلف صوبوں سے جن مشہور لیڈروں نے شرکت کی ان میں سرعبداللہ ہارون، قاضی محمد عیسیٰ، آئی آئی چندریگر، رؤف شاہ، ڈاکٹر عالم، سید ذاکر علی، عبدالحمید قادری، چوہدری خلیق الزمان، نواب محمد اسمٰعیل خان، نواب بہادر یارجنگ، مولوی فضل الحق، سردار عبدالرب نشتر، خواجہ ناظم الدین، ابو الہاشم، سردار اورنگ زیب اور ملک برکت علی شامل تھے۔ اس اجلاس میں شریک ہونے والوں کی تعداد ایک محتاط اندازے کے مطابق پچاس ہزار سے زائد تھی۔ کانگریس کے بہت بڑے حمایتی مولوی طفیل احمد نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ یہ اجلاس مجمع کے اعتبار سے نہایت کامیاب رہا۔ بیان کیاجاتا ہے کہ اس میں پچاس ہزار سے زیادہ کا مجمع تھا۔''
23 مارچ کے تاریخی اجلاس میں شیربنگال مولوی اے کے فضل الحق نے قرار داد لاہور پیش کی جس کی چوہدری خلیق الزمان، مولانا ظفر علی خان، سرعبداللہ ہارون، سردار اورنگ زیب، نواب اسمٰعیل، قاضی محمد عیسیٰ اور بیگم محمد علی جوہر نے تائید کی۔
قرارداد لاہور: چار سو الفاظ اور چار مختصر پیرا گراف پر مشتمل قرارداد لاہور میں کہا گیا کہ ''آل انڈیا مسلم لیگ کے اس اجلاس کی یہ مسلمہ رائے ہے کہ کوئی بھی آئینی منصوبہ اس ملک میں قابل عمل اور مسلمانوں کے لیے قابل قبول نہیں ہوگا تاوقتیکہ وہ مندرجہ ذیل بنیادی اصول پر وضع نہ کیا گیا ہو۔ یعنی جغرافیائی طور پر متصلہ علاقوں کی حد بندی ایسے خطوں میں کی جائے (مناسب علاقائی ردوبدل کے ساتھ) کہ جن علاقوں میں مسلمانوں کی اکثریت ہے مثلاً ہندوستان کے شمال مغربی اور مشرقی حصے، ان کی تشکیل ایسی ''آزاد ریاستوں'' کی صورت میں کی جائے جس کی مشمولہ وحدتیں خود مختار اور مقتدر ہوں۔ نیز ان وحدتوں اور خطوں میں اقلیتوں کے مذہبی، ثقافتی، معاشی، سیاسی، انتظامی اور دیگر حقوق و مفادات کا مناسب مؤثر اور حکمی تحفظ ان کے مشورے سے آئین میں صراحت کے ساتھ پیش کیا جائے۔''
قرارداد لاہور سے متعلق ایک مخصوص مکتبۂ فکر کے حامل لوگ یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ قرارداد میں ایک کی بجائے دو ریاستوں کا تصور موجود ہے۔ اس سلسلے میں پہلی بات یہ ہے کہ بلا شبہ قرارداد لاہور میں STATES کا لفظ موجود ہے لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ ریاستیں ایک دوسرے سے جدا ہوں گی یا یہ ایک ہی مسلم مملکت کی دو ریاستیں ہوں گی۔ 1941ء میں آل انڈیا مسلم لیگ کے اجلاس مدارس میں ایک قرارداد منظور کی گئی جس میں کہا گیا کہ ''ہر شخص کو یہ بات غور سے سن لینی چاہیے کہ ہم ایک آزاد خود مختار مسلم ریاست کے قیام کی کوشش کررہے ہیں۔'' قائداعظم نے قرارداد کی منظوری کے چند ماہ بعد 17 اکتوبر 1940ء کو ایک کتاب India's Problem of Her Future Constitution کا اصل دیباچہ لکھا جس میں قرار داد لاہور کے حوالے سے ہی Independent State کا لفظ تحریر کیا۔ اس دیباچہ پر قائداعظم کے دستخط بھی موجود ہیں۔ اس کے علاوہ قائداعظم کی تقاریر میں Muslim Homeland (یکم اپریل 1940ء) خود مختار مسلم سٹیٹ (14 اپریل 1941ء) کے الفاظ بھی ملتے ہیں۔
1944ء کے بعد ان کی کسی تقریر میں States کا لفظ استعمال نہیں ہوا۔ 1944ء میں گاندھی جناح مذاکرات کے موقع پر تو قائداعظم نے پاکستان کے بارے میں ہر قسم کے شکوک و شبہات کو دور کردیا کہ یہ دونوں ایک مملکت کے صوبے ہوں گے نہ کہ علیحدہ مملکتیں۔
7 اپریل 1946ء کے دہلی کنونیشن نے جہاں آل انڈیا مسلم لیگ کونسل، ورکنگ کمیٹی، صوبائی اسمبلیوں، کونسل آف سٹیٹ اور مرکزی اسمبلی کے منتخب شدہ 700 سے زائد ارکان موجودتھے۔ قائداعظم کی زیر صدارت بنگالی رہنما حسین شہید سہروردی نے ایک قرارداد کے ذریعے تمام شبہات دور کرکے ''ایک مملکت'' کے حصول کا اعلان کیا۔
قرارداد لاہور کا پاس ہونا تھا کہ ہندو لیڈروں اور اخبارات نے آسمان سر پر اٹھالیا۔ پرتاب، ملاپ، ٹریبیون اور دیگر ہندو اخبارات نے اگلے ہی روز قرارداد لاہور کو قرار داد پاکستان کا نام دے دیا حالانکہ قرارداد میں کسی بھی جگہ لفظ پاکستان استعمال نہیں کیا گیا۔ شاید مسلم لیگ اپنی کوشش سے قرارداد لاہور کو اس قدر مقبول نہ بناسکتی جس قدر ہندو پریس اور لیڈروں نے اس کے خلاف زہر اگل کر اسے مقبول بنایا۔ 21 اگست 1940ء کو روزنامہ ٹریبیون نے پاکستان سکیم کو ''بے مقصد'' قرار دیتے ہوئے لکھا کہ یہ سکیم ہندوستان کے فرقہ وارانہ مسئلہ کا کوئی حل نہیں ہے بلکہ اس سکیم سے یہ مسئلہ مزید پیچیدہ ہوجائے گا۔
ماڈرن ریویو (کلکتہ) نے جون 1940ء میں لکھا کہ ''جناح اور اس کے مسلم لیگی حواریوں کے علاوہ باقی تمام اس بات میں پختہ یقین رکھتے ہیں کہ پاکستان سکیم نہ صرف ہندوستانی قوم کیلئے بلکہ خود مسلمانوں کے لیے نقصان دہ ہے۔''
ہندوستان ٹائمز نے ایک اداریہ میں لکھا کہ ''تاریخ نے ہندو اور مسلمانوں کو ایک قوم بنایا تھا اور اب کسی بھی قوم کو مطمئن کرنے کی خاطر ہندوستان کی وحدت کو توڑنا یہاں کے لوگوں کی ترقی اور امن و سکون کو برباد کرنے کے مترادف ہوگا۔ اس فیصلہ کو مسلمان بحیثیت ایک قوم مسترد کردیں گے خواہ لیگ اور اس کے لیڈر کچھ ہی کہتے ہیں''
اخبار امرت بازار پتریکا نے پاکستان سکیم کو مضحکہ خیز قرار دیتے ہوئے لکھا کہ اگر مسلمان ایک آل انڈیا گورنمنٹ کے تحت بحیثیت اقلیتی قوم کے نہیں رہ سکتے تو وہ یہ توقع کس طرح کرتے ہیں کہ ہندو مسلمانوں کی اکثریت کے تحت رہیں گے۔
اسٹیٹسمین نے قرارداد لاہور پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ ''یہ انقلابی تجویز ہے لیکن جو لوگ اس کی مخالفت کرنا چاہیں ان کو مخالفت سے قبل اس کا بغور مطالعہ کرنا ضروری ہے۔ انہیں سمجھ لینا چاہیے کہ مسلم لیگ نے پوری سنجیدگی سے اسے پیش کیا ہے۔ اس لیے اس کو محض خواب و خیال سمجھ کر نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ ہندوؤں کو یہ بات خواہ اچھی لگے یا بری یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ ہندوستان کے آٹھ کروڑ مسلمان اپنے جداگانہ کلچر کا زبردست احساس رکھتے ہیں۔ لیکن یہ ایک ایسا مشورہ ہے جو مایوسی کی موجودہ حالت میں پیش کیا گیا ہے۔ اس لیے ہمیں ماننا پڑے گا کہ اس تجویز میں ایماندارانہ طور پر موجودہ ناگفتہ بہ ہندو مسلم تنازعہ کا ایک قابل عمل حل پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ تجویز پیش کرنے والوں کے نزدیک صرف یہی ایک قابل قبول حل ہے۔''
ہندو اخبارات کی مانند ہندو لیڈروں نے بھی قرارداد لاہور کے خلاف دل کھول کر زہر اگلا۔ گاندھی نے چھ اپریل 1940ء کو اپنے اخبار ہریجن میں لکھا کہ ''میرا خیال ہے کہ مسلمان تقسیم کو قبول نہیں کریں گے۔ ان کا مفاد خود ان کو تقسیم سے روکے گا۔ ان کا مذہب ان کو اس قسم کی واضح خودکشی کی اجازت نہیں دے گا۔ دو قومی نظریہ ایک جھوٹ ہے چونکہ میں اہمسا میں یقین رکھتا ہوں اس لیے میں تشدد کے بل پر مجوزہ تقسیم کو نہیں روک سکتا۔ لیکن میں اس چیرپھاڑ میں فریق نہیں بنوں گا کیونکہ تقسیم کا مطلب ان بے شمار ہندوؤں اور مسلمانوں کے کام کو تباہ و برباد کرنا ہے جنہوں ے صدیوں سے ایک قوم کی حیثیت سے ہندوستان میں رہنے کی کوشش کی۔ تقسیم ایک جھوٹ ہے۔ میری روح اس نقطہ نظر کے خلاف بغاوت کرتی ہے کہ ہندو مت اور اسلام دو مختلف عقیدوں اور متضاد تہذیبوں کا نام ہے۔ ہم سب ایک ہی خدا کے بندے ہیں۔ یقینا میں اس خیال کے خلاف بغاوت کروں گاکہ کروڑوں ہندوستانی جو کل تک ہندو تھے اپنا مذہب تبدیل کرنے کی وجہ سے اپنی قومیت بھی بدل سکتے ہیں۔''
سی راج گوپال اچاریہ نے قرارداد لاہور کے متعلق زہر افشانی کرتے ہوئے کہا کہ ''تقسیم ہندوستان سے متعلق مسٹر جناح کا یہ قدم اس طرح کا ہے جیسے دوبھائیوں میں ایک گائے کی ملکیت پر جھگڑا ہوا، اور وہ اس گائے کو دو ٹکڑوں میں کاٹ کر بانٹ لیں۔''
کانگریسی لیڈر ابوالکلام آزاد نے مطالبہ پاکستان کے متعلق کہا کہ وہ بنیادی طور پر پاکستان کے اس لیے خلاف ہیں کہ ان کی نظر میں خدا کی زمین کو پاک اور ناپاک خطوں میں بانٹنے کا کسی انسان کو حق نہیں۔''