چولستان کے لیے ترقیاتی پیکیج کا اعلان

تھر میں موت کا نقارہ بجنے کے بعد جب اس کی گونج چولستان کے تپتے صحرا میں سنی گئی تو پیشتر اس کے کہ یہاں بھی

فوٹو؛فائل

تھر میں موت کا نقارہ بجنے کے بعد جب اس کی گونج چولستان کے تپتے صحرا میں سنی گئی تو پیشتر اس کے کہ یہاں بھی جا بہ جا انسانی جنازے اٹھتے پنجاب کے خادم اعلیٰ میاں محمد شہباز شریف چولستانیوں کی زندگی کی ڈور کے تسلسل کو برقرار رکھنے کے لیے میدان عمل میں اتر آئے۔ خادم اعلیٰ پنجاب جمعہ کو دورۂ چولستان کے موقع پر شکوہ سنج نظر آئے کہ میڈیا کے بعض حلقوں نے چولستان کے حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کیا اور پرانی تصاویر اور ویڈیو دکھائی گئیں جو صحافتی ضابطہ اخلاق کے منافی ہے۔ خادم اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے چولستان میں پینے کے صاف پانی کی فراہمی' سڑکوں کی تعمیر اور لائیو اسٹاک کی ترقی کے لیے2 ارب37 کروڑ روپے کے ترقیاتی پیکیج کے علاوہ چولستان کے بے زمین کاشت کاروں کے لیے اراضی کی الاٹمنٹ کی نئی اسکیم اور زمینوں کو پانی کی فراہمی کے لیے 250 کیوسک نہری پانی دینے کا بھی اعلان کیا۔


خادم اعلیٰ پنجاب کی طرف سے چولستان کی ترقی کے لیے خطیر رقم مہیا کرنا خوش آئند ہے لیکن اس امر کا خیال رکھنا اشد ضروری ہے کہ چولستانیوں کے لیے جن سہولتوں کا اعلان کیا گیا ہے اس پر عملدرآمد کو بھی یقینی بنایا جائے کیونکہ ماضی کی مثالیں اس کی گواہ ہیں کہ جب بھی کوئی مصیبت یا آفت نازل ہوتی ہے حکمران عوام کے دبائو پر متحرک ہو جاتے اور وقتی طور پر خوش کن وعدے کرکے انھیں بھول جاتے اور بے کس و مجبور عوام کو پھر سے دکھوں کے حوالے کر دیتے ہیں، دوسری طرف اگر متاثرین کی امداد کے منصوبے شروع بھی کر دیے جاتے ہیں تو ان میں سول انتظامیہ کی نا اہلی کے علاوہ بدعنوانی اور لوٹ مار کی بازگشت بھی سنائی دیتی رہتی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ ماضی کے ان ناخوشگوار واقعات کو مدنظر رکھتے ہوئے خادم اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے چولستان میں مختلف عوامی اجتماعات سے خطاب کرتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ وہ خود اس ترقیاتی منصوبے کی نگرانی کریں گے اور اگر کسی افسر نے اس پر عملدرآمد میں نااہلی یا سستی کا مظاہرہ کیا تو نتائج کا ذمے دار وہ خود ہو گا۔ عوامی فلاح کے لیے شروع کیے گئے منصوبوں کی مسلسل نگرانی اگر حکمران خود کرتے رہیں تو وہ منصوبے جلد پایۂ تکمیل کو پہنچ جاتے ہیں۔ خادم اعلیٰ پنجاب کا کہنا ہے کہ چولستان کے لیے اعلان کردہ ترقیاتی پیکیج کے تحت 1100 ٹوبوں کی مکمل صفائی کی جائے گی۔ دوسری جانب تھر کے حالات کو بہتر بنانے کے لیے سندھ حکومت نے بھی مثالی اقدامات اٹھائے ہیں۔ تھر میں غربت اور افلاس کے خاتمے کے لیے تھر ڈویلپمنٹ کارپوریشن کا قیام عمل میں لایا گیا ہے۔ پنجاب اور سندھ حکومت غربت اور بھوک کے مارے صحرائی باشندوں کے لیے جس انداز میں متحرک ہوئی ہیں اگر اس کا تسلسل یونہی برقرار رہے تو وہ دن دور نہیں جب تھر اور چولستان سے بھوک اور پیاس کے لیے تڑپ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے گی۔
Load Next Story