کراچی میں ڈاکوؤں نے باپ کے سامنے جوان بیٹا قتل کردیا
سرجانی میں قتل ہونے والا امجد 2 بچوں اور نیو کراچی کا مقتول امان 4 بچوں کا باپ تھا
سرجانی میں قتل ہونے والا امجد 2 بچوں اور نیو کراچی کا مقتول امان 4 بچوں کا باپ تھا
شہر قائد میں ڈاکو راج جاری ہے جب کہ پولیس لوٹ مار کی وارداتیں اور اس دوران فائرنگ کے واقعات روکنے میں مکمل ناکام نظر آ رہی ہے، جس کے نتیجے میں گزشتہ روز ڈاکوؤں نےواردات کے دوران مزاحمت کرنے والے مزید 2 نوجوانوں کو گولیاں مار کر قتل کردیا۔
منگل اور بدھ کی درمیانی شب سرجانی ٹاؤن سیکٹر 6 بی میں نامعلوم ملزمان نے ڈکیتی کے دوران مزاحمت کرنے پر 30 سالہ امجد ولد عبدالمالک کی جان لے لی ۔ مقتول اپنی ایزی لوڈ کی دکان بند کرکے واپس جارہا تھا کہ گھر کے قریب ملزمان نے اسے لوٹنے کی کوشش کی۔مقتول سرجانی ٹاؤن ہی کا رہائشی تھا ۔
دوسرا واقعہ بھی گزشتہ شب نیو کراچی میں پیش آیا، جہاں اللہ والی بس اسٹاپ کے قریب ملزمان نے فائرنگ کرکے 25 سالہ امان ولد وحید کی زندگی کا چراغ گل کردیا۔ اسے والد اور چچا کے سامنے ڈکیتی مزاحمت پر فائرنگ کر کے قتل کیا گیا۔
ورثا کے مطابق امان چپل کے کاروبار سے وابستہ اور 4 بچوں کا باپ تھا ۔ وہ موٹر سائیکل پر کسی کام سے جارہا تھا کہ نامعلوم افراد نے اس سے لوٹ مار کی کوشش کی اور مزاحمت پر فائرنگ کرکے فرار ہوگئے ۔ امان کے سینے میں لگنے والی گولی اس کے لیے جان لیوا ثابت ہوئی۔
مقتول نوجوان کے اہلخانہ نے ایکسپریس کو بتایا کہ مقتول نوجوان کے والد اورچچا کرایہ کی گاڑی پرشادی میں شرکت کے لیے حیدر آباد گئے تھے جہاں سے وہ واپسی پر2 منٹ چورنگی کے قریب واقع اپنے آبائی گھر پہنچ گئے تھے اورمقتول نوجوان کے والد نے فون کرکے اپنی بیٹے کو آبائی گھر بلوایا تاکہ والد اورچچا واپس اپنے گھر پہنچ سکیں۔
مقتول نوجوان اپنے والد اور چچا کوآبائی گھر سے موٹر سائیکل پر بیٹھا کر واپس اپنے گھر گلشن کنیز فاطمہ سوسائٹی ون بلاک 10 مکان نمبر ایف 20 جا رہے تھے کہ اللہ والا بس اسٹاپ کے قریب موٹر سائیکل پرسوار2 نامعلوم مسلح ملزمان نے ڈکیتی کی نیت سے انہیں روک لیا اس دوران مقتول نوجوان نے مزاحمت کی تو مسلح ملزمان نےفائرنگ کردی اورفرارہوگئے۔
فائرنگ کے نتیجے میں مقتول سینے پر گولی لگنے سے شدید زخمی ہو گیا تھا جسے فوری طور پر عباسی شہید اسپتال منتقل کیا جا رہا تھا کہ مقتول نوجوان راستے میں ہی دم توڑ گیا، مقتول نوجوان کی نماز جنازہ دو منٹ چورنگی کے قریب واقع جامعہ مسجد عزیزیہ میں بعد نماز ظہر ادا کی گئی۔
مقتول نوجوان کے اہلخانہ نے پولیس حکام اورحکومت سے کراچی میں بڑھتی ہوئی وارداتوں کے دوران ہونے والے جانی نقصان کو روکنے کے لیے فوری اقدامات کرنے کی درخواست کی ہے اورواقعے میں ملوث ملزمان کوجلد ازجلد گرفتارکرکے قرار واقعے سزا دینے کا مطالبہ کیا ہے۔
منگل اور بدھ کی درمیانی شب سرجانی ٹاؤن سیکٹر 6 بی میں نامعلوم ملزمان نے ڈکیتی کے دوران مزاحمت کرنے پر 30 سالہ امجد ولد عبدالمالک کی جان لے لی ۔ مقتول اپنی ایزی لوڈ کی دکان بند کرکے واپس جارہا تھا کہ گھر کے قریب ملزمان نے اسے لوٹنے کی کوشش کی۔مقتول سرجانی ٹاؤن ہی کا رہائشی تھا ۔
دوسرا واقعہ بھی گزشتہ شب نیو کراچی میں پیش آیا، جہاں اللہ والی بس اسٹاپ کے قریب ملزمان نے فائرنگ کرکے 25 سالہ امان ولد وحید کی زندگی کا چراغ گل کردیا۔ اسے والد اور چچا کے سامنے ڈکیتی مزاحمت پر فائرنگ کر کے قتل کیا گیا۔
ورثا کے مطابق امان چپل کے کاروبار سے وابستہ اور 4 بچوں کا باپ تھا ۔ وہ موٹر سائیکل پر کسی کام سے جارہا تھا کہ نامعلوم افراد نے اس سے لوٹ مار کی کوشش کی اور مزاحمت پر فائرنگ کرکے فرار ہوگئے ۔ امان کے سینے میں لگنے والی گولی اس کے لیے جان لیوا ثابت ہوئی۔
مقتول نوجوان کے اہلخانہ نے ایکسپریس کو بتایا کہ مقتول نوجوان کے والد اورچچا کرایہ کی گاڑی پرشادی میں شرکت کے لیے حیدر آباد گئے تھے جہاں سے وہ واپسی پر2 منٹ چورنگی کے قریب واقع اپنے آبائی گھر پہنچ گئے تھے اورمقتول نوجوان کے والد نے فون کرکے اپنی بیٹے کو آبائی گھر بلوایا تاکہ والد اورچچا واپس اپنے گھر پہنچ سکیں۔
مقتول نوجوان اپنے والد اور چچا کوآبائی گھر سے موٹر سائیکل پر بیٹھا کر واپس اپنے گھر گلشن کنیز فاطمہ سوسائٹی ون بلاک 10 مکان نمبر ایف 20 جا رہے تھے کہ اللہ والا بس اسٹاپ کے قریب موٹر سائیکل پرسوار2 نامعلوم مسلح ملزمان نے ڈکیتی کی نیت سے انہیں روک لیا اس دوران مقتول نوجوان نے مزاحمت کی تو مسلح ملزمان نےفائرنگ کردی اورفرارہوگئے۔
فائرنگ کے نتیجے میں مقتول سینے پر گولی لگنے سے شدید زخمی ہو گیا تھا جسے فوری طور پر عباسی شہید اسپتال منتقل کیا جا رہا تھا کہ مقتول نوجوان راستے میں ہی دم توڑ گیا، مقتول نوجوان کی نماز جنازہ دو منٹ چورنگی کے قریب واقع جامعہ مسجد عزیزیہ میں بعد نماز ظہر ادا کی گئی۔
مقتول نوجوان کے اہلخانہ نے پولیس حکام اورحکومت سے کراچی میں بڑھتی ہوئی وارداتوں کے دوران ہونے والے جانی نقصان کو روکنے کے لیے فوری اقدامات کرنے کی درخواست کی ہے اورواقعے میں ملوث ملزمان کوجلد ازجلد گرفتارکرکے قرار واقعے سزا دینے کا مطالبہ کیا ہے۔