کارپٹ صنعت کا زیرو ریٹنگ کا سابقہ نظام نافذ کرنے کا مطالبہ
ریفنڈ کلیمز کے باعث برآمدات 300 ملین سے کم ہو کر 120 ملین ڈالر پرآگئی ہیں، اخترنذیر
ریفنڈ کلیمز کے باعث برآمدات 300 ملین سے کم ہو کر 120 ملین ڈالر پرآگئی ہیں، اخترنذیر۔ فوٹو: فائل
پاکستان کارپٹ مینو فیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن (پی سی ایم ای اے) نے حکومت سے شعبے کیلیے زیرو ریٹنگ کا مطالبہ کیاہے تاکہ جی ایس پی پلس کی سہولت سے استفادہ کیا جا سکے۔
پی سی ایم ای کے چیئرمین میجر (ر) اختر نذیر خان نے کہا ہے کہ کارپٹ انڈسٹری کا سرمایہ ریفنڈکلیمز کے باعث منجمد ہوچکا ہے جس سے شعبے کو مالیاتی مسائل کا سامنا ہے۔ کارپٹس کی ملکی برآمدات 300 ملین ڈالر سے کم ہو کر 120 ملین ڈالر تک ہوگئی ہیں۔
اگر حکومت جی ایس پی پلس کی سہولت سے بھر پور استفادہ کرنا چاہتی ہے تو زیروریٹنگ کا سابقہ نظام نافذ کیا جائے تاکہ کارپٹس برآمد کرنے والے اداروں کیلیے سیلز ٹیکس کی وصولی اور ری فنڈ کی ادائیگی کو ختم کیا جائے تاکہ صنعت اپنے برآمدی معاہدوں کو بروقت تکمیل کرسکے اور اس کے مالیاتی مسائل کا خاتمہ ہوسکے ۔ انہوں نے کہا کہ زیرو ریٹنگ کی سہولت کی واپسی سے کارپٹس کی برآمدی صنعت کے مسائل میں اضافہ اور برآمدات کم ہوئی ہے۔
پی سی ایم ای کے چیئرمین میجر (ر) اختر نذیر خان نے کہا ہے کہ کارپٹ انڈسٹری کا سرمایہ ریفنڈکلیمز کے باعث منجمد ہوچکا ہے جس سے شعبے کو مالیاتی مسائل کا سامنا ہے۔ کارپٹس کی ملکی برآمدات 300 ملین ڈالر سے کم ہو کر 120 ملین ڈالر تک ہوگئی ہیں۔
اگر حکومت جی ایس پی پلس کی سہولت سے بھر پور استفادہ کرنا چاہتی ہے تو زیروریٹنگ کا سابقہ نظام نافذ کیا جائے تاکہ کارپٹس برآمد کرنے والے اداروں کیلیے سیلز ٹیکس کی وصولی اور ری فنڈ کی ادائیگی کو ختم کیا جائے تاکہ صنعت اپنے برآمدی معاہدوں کو بروقت تکمیل کرسکے اور اس کے مالیاتی مسائل کا خاتمہ ہوسکے ۔ انہوں نے کہا کہ زیرو ریٹنگ کی سہولت کی واپسی سے کارپٹس کی برآمدی صنعت کے مسائل میں اضافہ اور برآمدات کم ہوئی ہے۔