نیا حملہ

’’نیویارک ٹائمز‘‘ میں شایع ہونے والی طویل رپورٹ، جس میں افواجِ پاکستان اور آئی ایس آئی کے سابق سربراہوں کو

tanveer.qaisar@express.com.pk

19مارچ 2014ء کو مغربی خاتون صحافی کارلٹ گیل (Carlotta Gall) کا امریکی اخبار ''نیو یارک ٹائمز'' میں ایک طویل نیوز آرٹیکل شایع ہوا۔ اس کا عنوان تھا: What Pakistan Knew about Bin Ladin یہ نام نہاد انکشاف خیز آرٹیکل دراصل اس محترمہ کی تازہ ترین شایع ہونے والی کتاب (The Wrong Enemy: American in Afghanistan 2001 - 2014) کا ایک حصہ ہے جو پرانی شایع شدہ خبروں کا تدوین شدہ مجموعہ ہے۔ آرٹیکل میں ایک بار پھر پرانے الزامات کی جگالی کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی اور اس کے یکے بعد دیگرے تین سربراہوں اور سابق چیف آف آرمی اسٹاف جنرل (ر) پرویز مشرف کو معلوم تھا کہ اسامہ بن لادن کہاں چھپا ہے۔ آئی ایس پی آر کے سربراہ میجر جنرل عاصم باجوہ صاحب نے بجا طور پر اور بروقت ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی اخبار نے ایسے پرانے الزامات کو دہرایا ہے جو پہلے ہی غلط ثابت ہوچکے ہیں۔ رواں لمحوں میں جب کہ پاکستان بڑی سنجیدگی کے ساتھ ملک میں دہشت گردی کے خاتمے کے لیے مکالمے کی میز بچھانے کی کوشش کررہا ہے اور جب چند عرب برادر ممالک کے تعاون سے پاکستان کی معیشت کو سنبھالا مل رہا ہے، نیو یارک ٹائمز میں اسامہ بن لادن کے حوالے سے کارلٹ گیل کے آرٹیکل کے شایع ہونے کا صاف مطلب یہ ہے کہ ہمارے دشمنوں کو پاکستان میں امن اور خوشحالی کے مناظر قطعی قبول نہیں۔ گویا امریکی اخبار کے مضمون اور مغربی صحافیہ کی تازہ کتاب کی ٹائمنگ کو ہم وطن عزیز کے خلاف کسی گھناؤنی سازش سے کم قرار نہیں دے سکتے۔

''نیویارک ٹائمز'' میں شایع ہونے والی طویل رپورٹ، جس میں افواجِ پاکستان اور آئی ایس آئی کے سابق سربراہوں کو بدنام کرنے کی قابلِ مذمت کوشش کی گئی ہے، کا مکمل مطالعہ کرنے کے بعد شک ہوتا ہے کہ کہیں رپورٹر (کارلٹ گیل) نے ایک مبینہ پٹائی کا ''خوفناک'' بدلہ تو نہیں لیا ہے؟ وہ خود اس رپورٹ میں ایک جگہ میں لکھتی ہیں: ''کوئٹہ میں میرا یہ پانچواں اور آخری دن تھا۔ سادہ کپڑوں میں ملبوس چار افراد نے میرے فوٹو گرافر کو اس کے ہوٹل میں دبوچ لیا۔ انھوں نے اس کا کمپیوٹر اور کیمرے بھی قبضے میں لے لیے۔ پھر وہ اس ہوٹل کی پارکنگ میں اسے لے آئے جہاں میں ٹھہری تھی۔ انھوں نے اسے مجبور کیا کہ وہ مجھے فون کرے اور میں نیچے آکر ان کی بات سنوں۔ میرے فوٹو گرافر نے مجھے بتایا کہ وہ مشکل میں پھنس چکا ہے۔ میں نے وہاں جانے سے قبل نیویارک میں اپنے ایڈیٹر کو مطلع کردیا اور پھر کسی پاکستانی ذمے دار سے رابطہ کرنے کی کوشش میں لگ گئی۔ اس سے پہلے کہ میں کسی سے رابطہ کرتی، مضبوط اعصاب کے مالک وہ چاروں دراتے ہوئے میرے کمرے میں داخل ہوگئے۔ آتے ہی انھوں نے میرا لیپ ٹاپ مجھ سے چھین لیا۔ میرا سیل فون اور میری نوٹ بکس بھی قبضے میں لے لی گئیں۔ پھر انھوں نے کمرے میں ٹنگے میرے تمام کپڑوں کی تلاشی لی۔ ان میں سے ایک نے جب میرے ہینڈ بیگ پر ہاتھ ڈالا تو میں نے سخت احتجاج کیا۔ اس پر مجھے انتہائی زور دار مکے مارے گئے۔ کچھ میرے منہ پر لگے اور کچھ پیٹ پر۔ میں تیوراکر پیچھے گری تو کافی ٹیبل ٹوٹ گئی۔'' لگتا یوں ہے کہ اس مبینہ واقعہ نے رپورٹر کے دل میں آئی ایس آئی کے بارے میں غصہ بھر دیا جس کا اب ''نیو یارک ٹائمز'' میں شایع ہونے والی رپورٹ میں اظہار کیا گیا ہے۔ یہ ناقابل یقین اور مشکوک واقعہ محسوس ہوتا ہے، اس لیے کہ اگر کارلٹ گیل کی واقعی شدید پٹائی کی گئی تھی تو وہ کوئٹہ میں ایف آئی آر کٹواتی یا پھر برطانوی اور امریکی سفارت خانوں میں شکایت درج کرواتی جو ایک نسبتاً آسان کام تھا لیکن کارلٹ صاحبہ نے ایسا کوئی قدم نہ اٹھایا۔


پاکستان، افواج پاکستان اور خصوصاً آئی ایس آئی کے خلاف امریکی اخبار میں شایع ہونے والی برطانوی خاتون صحافی کی رپورٹ پر بھارتی اخبارات نے سب سے زیادہ جشن منایا ہے۔ حیرت خیز بات لیکن یہ بھی دیکھی گئی کہ بیس مارچ 2014ء ہی کو پاکستان کے بھی سبھی اخبارات نے کارلٹ گیل کی اس پروپیگنڈہ رپورٹ کو نمایاں انداز میں شایع کیا حالانکہ اسے روٹین کی ایک خبر کے طور پر شایع کیا جانا چاہیے تھا۔ بعد ازاں ہمارے تقریباً سبھی نجی ٹی وی پر اسی رپورٹ کی بنیاد پر ٹاک شوز بھی ہوئے۔ تو کیا اس کا یہ مطلب اخذ کیا جائے کہ پاکستان کے ایک ممتاز خفیہ ادارے کے بارے میں پاکستان اور بھارت کا میڈیا یکساں طور پر تحفظات رکھتا ہے؟ کیا بھارتی میڈیا میں ''را'' کے خلاف ایسی رپورٹس شایع اور ایسے ٹاک شوز نشر کرنے کی جرأت و جسارت کی جاسکتی ہے؟ یوں لگتا ہے جیسے آئی ایس آئی کے خلاف کسی سوچی سمجھی اسکیم کے تحت دنیا بھر میں ایک بار پھر تحریک کا آغاز کردیا گیا ہے۔ ابھی جنیوا میں بعض لوگوں نے آئی ایس آئی کے خلاف مظاہرہ کیا ہے۔ کارلٹ گیل نے بھی اپنی تازہ رپورٹ میں آئی ایس آئی کے خلاف جگہ جگہ زہر افشانی کی ہے۔ ایک جگہ لکھتی ہیں: ''کوئٹہ کے مضافات میں مجھے ایک دینی مدرسہ دیکھنے کا موقع ملا جہاں اڑتی دھول کے درمیان 280 بچے پڑھ رہے تھے۔

مجھے ایک پشتون رکن اسمبلی نے بتایا کہ یہ مدرسے محض دھوکہ (کیمو فلاج) ہیں، دراصل ان کے عقب میں آئی ایس آئی کار فرما ہے۔'' اس محترمہ نے رکن اسمبلی کا نام لکھنے سے دانستہ گریز کیا ہے۔ ایسا الزام تو کسی کی بھی زبان میں ڈال کر کسی پر بھی تھوپا جاسکتا ہے۔ امریکی اخبار میں برطانوی صحافیہ نے اسامہ بن لادن کو ایبٹ آباد کے بلال ٹاؤن میں دانستہ چھپائے رکھنے کے حوالے سے آئی ایس آئی کے سابق سربراہان جنرل (ر) کیانی، جنرل (ر) ندیم تاج اور جنرل (ر) احمد شجاع پاشا پر جو گھناؤنے الزامات لگائے ہیں، وہ اپنی جگہ تو شرمناک ہیں ہی لیکن حیرانی کی بات ہے کہ بعض پاکستانی اخبار نویس بھی اس مہم میں شامل ہوگئے ہیں۔ مثال کے طور پر انیس مارچ 2014ء کو ایک انگریزی اخبار نے اپنی طویل رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ یہ آئی ایس آئی کا ایک (سابق) بریگیڈئیر تھا جس نے امریکیوں کو اسامہ بن لادن کے خصوصی ٹھکانے کے راز سے آشنا کیا تھا۔ رپورٹ میں اس بریگیڈئیر کا نام نہیں لکھا گیا لیکن یہ ضرور بتایا گیا ہے کہ یہ بریگیڈئیر صاحب اب اپنی فیملی کے ساتھ امریکا میں رہائش پذیر ہیں، امریکی شہریت بھی پا چکے ہیں اور اس نے امریکیوں کو اسامہ بن لادن کے جن رازوں سے آگاہ کیا تھا، اس خدمت کے بدلے اسے نہ صرف سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ سے ایوارڈز فار جسٹس پروگرام کے تحت 25 ملین ڈالر کا بھاری انعام بھی دیا گیا بلکہ مبینہ طور پر اسی بریگیڈئیر کے ایما پر ڈاکٹر شکیل آفریدی کو تیار کیا گیا کہ وہ ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کا صحیح تر ٹھکانہ تلاش کرنے میں سی آئی اے کی مدد کرے۔ معلوم نہیں کہ یہ رپورٹ شایع کرکے پاکستان اور صحافت کی کیا خدمت کی گئی ہے۔

نوٹ: افواج پاکستان کے ترجمان ادارے نے کارلٹ گیل کی رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس میں کوئی نئی بات نہیں، محض پرانے اور غیر مصدقہ الزامات کو دہرایا گیا ہے۔ آئی ایس پی آر کا یہ دعویٰ درست ثابت ہوا ہے۔ امریکا کے ممتاز جریدے NEW REPUBLIC میں کارلٹ گیل کا ایک انٹرویو 20مارچ 2014کو شایع ہوا ہے۔ یہ انٹرویو Issac Chotiner نے کیا۔ انٹرویو نگار نے کارلٹ گیل سے پہلے سوال ہی میں پوچھ لیا کہ اسامہ بن لادن اور آئی ایس آئی کے درمیان تعلقات کی جو کہانی آپ نے اپنی نئی کتاب میں بیان کی ہے، اس میں کوئی نئی بات کیا ہے؟ کونسا نیا انکشاف کیا گیا ہے تو کارلٹ گیل کوئی اطمینان بخش جواب نہ دے سکی اور کہا تو محض یہ کہا: ''انھیں (آئی ایس آئی کو) خوب معلوم تھا کہ اسامہ بن لادن کہاں ہے۔ وہ اس کی حفاظت کررہے تھے۔ یہ بات پہلے کبھی نہیں کہی گئی تھی۔'' اس محترمہ کا یہ دعویٰ درست نہیں ہے۔ مغربی دنیا کے کئی اخبار نویس یہی الزام گذشتہ ایک عشرے کے دوران بار بار دوہرا چکے ہیں۔ یہ بھی دراصل ایک بے بنیاد دعویٰ تھا۔ ایبٹ آباد پر امریکی نیوی کے حملے کے بعد امریکی صدر اوباما نے بھی ذاتی طور پر اس کی تصدیق کی تھی کہ پاکستان کے ذمے داران کو اسامہ کے اصل ٹھکانے کا علم نہ تھا۔ 21مارچ 2014 کو ایک انگریزی معاصر نے بھی صفحہ اول پر رپورٹ شایع کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا نے جنرل کیانی اور جنرل پاشا کی باہمی ٹیلی فونک گفتگو سن لی تھی اور اس سے امریکا نے یقین کرتے ہوئے یہی نتیجہ اخذ کیا تھا کہ واقعتا پاکستان آرمی اور آئی ایس آئی کو اسامہ کے خفیہ ٹھکانے کا کوئی علم نہیں تھا۔
Load Next Story