کہ نازک ہے بہت کام۔۔۔
صوبے اختیارات استعمال کرنے کیلیے وفاق کی بھنوؤں کا انداز دیکھتے ہیں اور وفاقی حکومت کسی اور سے پوچھتی ہےکہ ”کر لواں“؟
جانے اس میں کیا مصلحت ہے کہ جو قرار داد بائیس مارچ کو پیش ہوئی ، اگلا پورا دن اس پر بحث ہوتی رہی اور پھر چوبیس مارچ کے کھلے اجلاس میں منظور ہوئی اسے تئیس مارچ کی قرارداد کہتے ہیں؟ اور پھر ذرا اصل قرارداد کے مسودے کو دیکھئے۔ آیا یہ مسودہ پاکستان کی بات کرتا ہے یا پاکستانیوں کی بات کرتا ہے؟
'' آل انڈیا مسلم لیگ کا یہ اجلاس سمجھتا ہے کہ اس ملک (برٹش انڈیا) میں کوئی بھی آئینی منصوبہ تب تک کارآمد یا مسلمانوں کے لیے قابلِ قبول نہ ہوگا جب تک درجِ زیل اصولوں کے تحت مرتب نہیں کیا جائے گا۔
یہ کہ ایک دوسرے سے متصل خطوں میں ضروری جغرافیائی ردو بدل کرکے برطانوی ہند کے شمال مغربی خطے اور مشرقی خطے کے مسلمان اکثریتی علاقوں ( ریجن ) کو یکجا کرکے ایسی آزاد ریاستیں تشکیل دی جائیں جن میں شامل اکائیاں (صوبے ) آزاد و خود مختار ہوں۔
یہ کہ ان اکائیوں کے آئین میں اقلیتوں کے مشورے سے ان کے مذہبی ، ثقافتی، معاشی ، سیاسی، انتظامی اور دیگر حقوق و مفادات کے تحفظ کے لیے کافی، موثر اور لازمی تحفظات رکھے جائیں۔اور برطانوی ہند کے دیگر خطوں (ریجنز ) میں بھی مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے لیے ایسے ہی آئینی تحفظات یقینی بنائے جائیں۔
یہ اجلاس ورکنگ کمیٹی کو مذکورہ بنیادی اصولوں کی بنیاد پر ایک آئینی خاکہ مرتب کرنے کا اختیار دیتا ہے جس کے تحت مذکورہ خطوں ( ریجنز ) کے پاس دفاع ، خارجہ تعلقات، مواصلات، کسٹمز سمیت دیگر ضروری امور ہوں گے۔''
اس مسودے کو دیکھ کر کئی سوالات جنم لیتے ہیں۔ یہ بات صاف طور سے سمجھ میں نہیں آتی کہ ریجن ، یونٹ اور اسٹیٹس کی اصطلاحات علیحدہ علیحدہ مفہوم میں استعمال ہوئی ہیں یا ایک دوسرے کے متبادل کے طور پر۔پھر یہ واضح نہیں ہوتا کہ آئین سازی کون کرے گا ؟ ریجنز ؟ ان ریجنز پر مبنی آزاد ریاستیں یا ان آزاد ریاستوں میں شامل یونٹ ( صوبے )؟
کہیں قرار دادِ لاہور کے محرکین کا ماڈل امریکی کنفیڈرل آئین تو نہیں تھا جس میں صرف سات آرٹیکلز ہیں اور کنفیڈریشن میں شامل ریاستیں نوے فیصد امور پر قانون سازی میں آزاد ہیں؟
تو پھر ایسا کیا ہوا کہ چھ برس بعد مسلم لیگ کے لیجسلیچر کنونشن نے انیس سو چالیس کے جنرل کونسل اجلاس کی قرار داد میں درج اصطلاح اسٹیٹس (ریاستیں) کو اسٹیٹ ( ریاست ) سے بدل دیا۔ اگر اصل قرارداد میں اسٹیٹس کا لفظ محض ٹائپ کی غلطی تھا تو قرارداد کے ایک ایک جملے پر ڈیڑھ دن کی تفصیلی بحث کے دوران لیاقت علی خان جیسے چوکس شخص، قرارداد پیش کرنے والے مولوی اے کے فضل الحق اور قانونی ماہر حسین شہید سہروردی کو ٹائپ کی یہ غلطی کیوں نظر نہ آئی۔ سب کو چھوڑیں خود جناح صاحب جو ملازم سے گھر کے سودا سلف کا بل بھی منگوا کر پڑھتے تھے ان سے اتنی اہم ٹائپ مسٹیک کیسے صرفِ نظر ہوگئی؟
( اس بحث کو تو خیر جانے دیجیے کہ لیجسلیچر کونسل اپنے سے بالا جنرل کونسل کی قرارداد میں ترمیم کرسکتی ہے یا صرف جنرل کونسل ہی جنرل کونسل کی قرارداد میں ردوبدل کرسکتی ہے)۔بہرحال جو کچھ بھی ہوا پاکستان وجود میں آگیا۔
اچھا جب قراردادِ لاہور ( ترمیم شدہ ) کی بنیاد پر ایک ریاست وجود میں آ گئی تو پھر اس کا آئین بھی قرار داد ِ لاہور میں طے شدہ آئینی نکات کی روشنی میں بننا چاہیے تھا کہ جن کی مزید وضاحت جناح صاحب نے گیارہ اگست انیس سو سینتالیس کی مجلسِ قانون ساز کی تقریر میں کردی تھا۔ تو پھر انیس سو انچاس کی قرار دادِ مقاصد ( جناح صاحب کی وفات کے بعد ) کیوں لائی گئی؟ کیا یہ قرار دادِ مقاصد قرار دادِ لاہور میں طے کردہ آئین ساز خطوط کے مطابق تھی یا جزوی مختلف تھی یا یکسر مختلف تھی ؟؟ کیا سبب ہوا کہ قرار دادِ لاہور میں یہ پیرا نہیں تھا کہ مسلم اکثریتی علاقوں پر مبنی ریاستوں کے یونٹ جو آئین سازی کریں گے وہ شریعت کے اصولوں کے تابع ہوگی اور کوئی شق شریعت سے متصادم نہیں ہوگی۔
( شائد سبب یہ ہو کہ مولانا مودودی ، علامہ عنایت اللہ مشرقی اور اکابرینِ جمعیت علمائے ہند وغیرہ بائیس مارچ انیس سو چالیس کے دن لاہور کے منٹو پارک میں نہیں تھے۔
قرار دادِ لاہور کو پڑھیں تو لگتا ہے کہ اختیارات کی غیر مرکزیت کے اعتبار سے ممکنہ وفاقی یا کنفیڈرل یونٹوں کو امریکی ریاستوں سے بھی زیادہ آزادی و خودمختاری حاصل ہوگی۔ لیکن اس قرار داد کی بنیاد پر بننے والے ملک کی سیاسی و آئینی تاریخ دیکھیں تو لگتا ہے کہ بیشتر ادوار میں وفاقی یونٹ سانس بھی مرکز سے پوچھ کر لیتے رہے اور مرکز کسی نادیدہ حکومت سے پوچھ کر حسبِ ضرورت سانس سپلائی کرتا رہا اور آج بھی یہی کررہا ہے۔ قرار دادِ لاہور کی روشنی میں اختیارات کی لامرکزیت تو خیر کیا ہوگی یہاں تو وفاقی یونٹ اٹھارویں ترمیم کی مدد سے آزاد ہونے والے اختیارات بھی عملاً استعمال کرنے کے لیے پہلے وفاق کی بھنوؤں کا انداز دیکھتے ہیں۔اور وفاقی حکومت اپنے فیصلے کرنے سے پہلے کسی اور سے پوچھتی ہے '' کر لواں ''...
لے سانس بھی آہستہ کہ نازک ہے بہت کام۔
اور کیا پاکستان کے سن چھپن یا تہتر کے آئین میں اقلیتوں کے مشورے سے ان کے مذہبی ، ثقافتی ، معاشی ، سیاسی ، انتظامی اور دیگر حقوق و مفادات کے تحفظ کے لیے کافی ، موثر ، ٹھوس اور لازمی تحفظات شامل کیے گئے کہ جن کا مطالبہ قرار دادِ لاہور میں کھل کر کیا گیا۔جب کہ خود قرار دادِ لاہور ایک ایسی فکر مند اقلیت کے جذبات کی ترجمانی ہے جسے متحدہ ہندوستان میں اپنا سیاسی ، سماجی اور معاشی مستقبل تاریک نظر آرہا تھا۔بالکل ایسے ہی جیسے آج کے پاکستان میں اقلیتوں کو محسوس ہورہا ہے۔حالانکہ پنجاب اور خیبر پختون خواہ کو چھوڑ کر تقسیم کے دوران پاکستان کے کسی اور علاقے سے ہندوؤں اور سکھوں نے بڑی تعداد میں نقل مکانی نہیں کی۔پنجاب اسمبلی کے عیسائی ارکانِ اسمبلی نے بلاک کی شکل میں پاکستان کی حمایت کی ۔
ایسے سوالات چوہتر برس ( انیس سو چالیس سے ) کے دوران کبھی تنقیدی تو کبھی مسلح شکل میں مسلسل اٹھائے جارہے ہیں اور ان وفاقی یونٹوں میں اٹھائے جا رہے ہیں جو ریاستِ پاکستان میں بڑی امید و آس کے ساتھ شامل ہوئے تھے۔مگر سندھ کو پاکستان میں شامل کروانے والا جی ایم سید ہو کہ بنگال کو نئی مملکت کا حصہ بنوانے والا سہروردی۔دونوں پر غداری کا ٹیگ لگا۔خان عبدالغفار خان اور ان کے خاندان نے کبھی پاکستان نہیں چھوڑا لیکن نئی مملکت کے راتوں رات بنے والے ماموؤں نے ان کی ریاست سے وفاداری کو ہمیشہ چیلنج کیا۔
شروع کے کچھ دنوں ہندوستان کے ہندو اکثریتی صوبوں سے نقلِ مکانی کرنے والی مسلمان قیادت ( نوابی بیورو کریٹک لیڈر شپ ) نے پاکستانیت کی مہر اپنے پاس رکھی اور پھر یہ مہر اوتھ کمشنر پنجاب ( لاہوری ملتانی پوٹھوہاری اسٹیبلشمنٹ ) کے پاس آگئی۔اور پھر یہ ہوا کہ پاکستانیت کے ہر سرٹیفکیٹ پر یہ مہر لگنا لازمی قرار پایا۔حتی کہ جناح صاحب کی گیارہ اگست انیس سو سینتالیس کی تقریر کے بارے میں بھی سوچا گیا کہ اس پر پاکستانیت کی مہر لگائی جائے یا نہیں۔اب تو یہ بھی انکشاف کردیا گیا ہے کہ اس تقریر کا کوئی وجود ہی نہیں۔اور یہ کہ پاکستان چودہ اگست کو ہی وجود میں آیا تھا بھلے جناح صاحب پندرہ اگست سمجھتے رہیں۔اور یہ کہ جناح صاحب وزیر مینشن کراچی میں پیدا ہوئے بھلے جناح صاحب کا نام ٹھٹھہ کے قصبے جھرک کے پرائمری اسکول رجسٹر میں ہی کیوں نہ لکھا گیا ہو۔بھلے قراردادِ لاہور مولوی اے کے فضل الحق نے ہی پیش کی ہو لیکن سابق یونینسٹ پنجاب کی نومسلم لیگی قیادت کو بنگالی اکثریت کی پاکستانیت روزِ اول سے بھی پہلے سے اہم قومی مفاد میں مشکوک دکھائی دینے لگی۔بنگال تو نہ رہا مگر رویہ آج تک زندہ ہے بلکہ زندہ باد ہے۔
ذرا سوچئے کہ آج پاکستان کی کوئی نسلی ، لسانی یا مذہبی اقلیت بالکل قرار دادِ لاہور کی طرح کی ایک قرار داد منظور کرنے کی کوشش کرے تو اکثریت اس کے ساتھ کیا سلوک کرے گی ؟ شکر ہے قرار دادِ لاہور اچھے وضع دار انگریزی وقتوں میں منظور ہوگئی۔
اگر کوئی مجھ سے پوچھے کہ تمہارے نزدیک قرار دادِ لاہور کا مفہوم کیا ہے تو میرے ذہن میں سوائے اس کے کوئی مفہوم نہیں کہ
'' تم میں سے کوئی شخص مومن نہیں ہوسکتا جب تک اپنے بھائی کے لیے وہی پسند نہ کرے جو اپنے لیے پسند کرتا ہے'' ( حدیث)۔
( وسعت اللہ خان کے دیگر کالم اور مضامین پڑھنے کے لیے bbcurdu.com پر کلک کیجیے )
'' آل انڈیا مسلم لیگ کا یہ اجلاس سمجھتا ہے کہ اس ملک (برٹش انڈیا) میں کوئی بھی آئینی منصوبہ تب تک کارآمد یا مسلمانوں کے لیے قابلِ قبول نہ ہوگا جب تک درجِ زیل اصولوں کے تحت مرتب نہیں کیا جائے گا۔
یہ کہ ایک دوسرے سے متصل خطوں میں ضروری جغرافیائی ردو بدل کرکے برطانوی ہند کے شمال مغربی خطے اور مشرقی خطے کے مسلمان اکثریتی علاقوں ( ریجن ) کو یکجا کرکے ایسی آزاد ریاستیں تشکیل دی جائیں جن میں شامل اکائیاں (صوبے ) آزاد و خود مختار ہوں۔
یہ کہ ان اکائیوں کے آئین میں اقلیتوں کے مشورے سے ان کے مذہبی ، ثقافتی، معاشی ، سیاسی، انتظامی اور دیگر حقوق و مفادات کے تحفظ کے لیے کافی، موثر اور لازمی تحفظات رکھے جائیں۔اور برطانوی ہند کے دیگر خطوں (ریجنز ) میں بھی مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے لیے ایسے ہی آئینی تحفظات یقینی بنائے جائیں۔
یہ اجلاس ورکنگ کمیٹی کو مذکورہ بنیادی اصولوں کی بنیاد پر ایک آئینی خاکہ مرتب کرنے کا اختیار دیتا ہے جس کے تحت مذکورہ خطوں ( ریجنز ) کے پاس دفاع ، خارجہ تعلقات، مواصلات، کسٹمز سمیت دیگر ضروری امور ہوں گے۔''
اس مسودے کو دیکھ کر کئی سوالات جنم لیتے ہیں۔ یہ بات صاف طور سے سمجھ میں نہیں آتی کہ ریجن ، یونٹ اور اسٹیٹس کی اصطلاحات علیحدہ علیحدہ مفہوم میں استعمال ہوئی ہیں یا ایک دوسرے کے متبادل کے طور پر۔پھر یہ واضح نہیں ہوتا کہ آئین سازی کون کرے گا ؟ ریجنز ؟ ان ریجنز پر مبنی آزاد ریاستیں یا ان آزاد ریاستوں میں شامل یونٹ ( صوبے )؟
کہیں قرار دادِ لاہور کے محرکین کا ماڈل امریکی کنفیڈرل آئین تو نہیں تھا جس میں صرف سات آرٹیکلز ہیں اور کنفیڈریشن میں شامل ریاستیں نوے فیصد امور پر قانون سازی میں آزاد ہیں؟
تو پھر ایسا کیا ہوا کہ چھ برس بعد مسلم لیگ کے لیجسلیچر کنونشن نے انیس سو چالیس کے جنرل کونسل اجلاس کی قرار داد میں درج اصطلاح اسٹیٹس (ریاستیں) کو اسٹیٹ ( ریاست ) سے بدل دیا۔ اگر اصل قرارداد میں اسٹیٹس کا لفظ محض ٹائپ کی غلطی تھا تو قرارداد کے ایک ایک جملے پر ڈیڑھ دن کی تفصیلی بحث کے دوران لیاقت علی خان جیسے چوکس شخص، قرارداد پیش کرنے والے مولوی اے کے فضل الحق اور قانونی ماہر حسین شہید سہروردی کو ٹائپ کی یہ غلطی کیوں نظر نہ آئی۔ سب کو چھوڑیں خود جناح صاحب جو ملازم سے گھر کے سودا سلف کا بل بھی منگوا کر پڑھتے تھے ان سے اتنی اہم ٹائپ مسٹیک کیسے صرفِ نظر ہوگئی؟
( اس بحث کو تو خیر جانے دیجیے کہ لیجسلیچر کونسل اپنے سے بالا جنرل کونسل کی قرارداد میں ترمیم کرسکتی ہے یا صرف جنرل کونسل ہی جنرل کونسل کی قرارداد میں ردوبدل کرسکتی ہے)۔بہرحال جو کچھ بھی ہوا پاکستان وجود میں آگیا۔
اچھا جب قراردادِ لاہور ( ترمیم شدہ ) کی بنیاد پر ایک ریاست وجود میں آ گئی تو پھر اس کا آئین بھی قرار داد ِ لاہور میں طے شدہ آئینی نکات کی روشنی میں بننا چاہیے تھا کہ جن کی مزید وضاحت جناح صاحب نے گیارہ اگست انیس سو سینتالیس کی مجلسِ قانون ساز کی تقریر میں کردی تھا۔ تو پھر انیس سو انچاس کی قرار دادِ مقاصد ( جناح صاحب کی وفات کے بعد ) کیوں لائی گئی؟ کیا یہ قرار دادِ مقاصد قرار دادِ لاہور میں طے کردہ آئین ساز خطوط کے مطابق تھی یا جزوی مختلف تھی یا یکسر مختلف تھی ؟؟ کیا سبب ہوا کہ قرار دادِ لاہور میں یہ پیرا نہیں تھا کہ مسلم اکثریتی علاقوں پر مبنی ریاستوں کے یونٹ جو آئین سازی کریں گے وہ شریعت کے اصولوں کے تابع ہوگی اور کوئی شق شریعت سے متصادم نہیں ہوگی۔
( شائد سبب یہ ہو کہ مولانا مودودی ، علامہ عنایت اللہ مشرقی اور اکابرینِ جمعیت علمائے ہند وغیرہ بائیس مارچ انیس سو چالیس کے دن لاہور کے منٹو پارک میں نہیں تھے۔
قرار دادِ لاہور کو پڑھیں تو لگتا ہے کہ اختیارات کی غیر مرکزیت کے اعتبار سے ممکنہ وفاقی یا کنفیڈرل یونٹوں کو امریکی ریاستوں سے بھی زیادہ آزادی و خودمختاری حاصل ہوگی۔ لیکن اس قرار داد کی بنیاد پر بننے والے ملک کی سیاسی و آئینی تاریخ دیکھیں تو لگتا ہے کہ بیشتر ادوار میں وفاقی یونٹ سانس بھی مرکز سے پوچھ کر لیتے رہے اور مرکز کسی نادیدہ حکومت سے پوچھ کر حسبِ ضرورت سانس سپلائی کرتا رہا اور آج بھی یہی کررہا ہے۔ قرار دادِ لاہور کی روشنی میں اختیارات کی لامرکزیت تو خیر کیا ہوگی یہاں تو وفاقی یونٹ اٹھارویں ترمیم کی مدد سے آزاد ہونے والے اختیارات بھی عملاً استعمال کرنے کے لیے پہلے وفاق کی بھنوؤں کا انداز دیکھتے ہیں۔اور وفاقی حکومت اپنے فیصلے کرنے سے پہلے کسی اور سے پوچھتی ہے '' کر لواں ''...
لے سانس بھی آہستہ کہ نازک ہے بہت کام۔
اور کیا پاکستان کے سن چھپن یا تہتر کے آئین میں اقلیتوں کے مشورے سے ان کے مذہبی ، ثقافتی ، معاشی ، سیاسی ، انتظامی اور دیگر حقوق و مفادات کے تحفظ کے لیے کافی ، موثر ، ٹھوس اور لازمی تحفظات شامل کیے گئے کہ جن کا مطالبہ قرار دادِ لاہور میں کھل کر کیا گیا۔جب کہ خود قرار دادِ لاہور ایک ایسی فکر مند اقلیت کے جذبات کی ترجمانی ہے جسے متحدہ ہندوستان میں اپنا سیاسی ، سماجی اور معاشی مستقبل تاریک نظر آرہا تھا۔بالکل ایسے ہی جیسے آج کے پاکستان میں اقلیتوں کو محسوس ہورہا ہے۔حالانکہ پنجاب اور خیبر پختون خواہ کو چھوڑ کر تقسیم کے دوران پاکستان کے کسی اور علاقے سے ہندوؤں اور سکھوں نے بڑی تعداد میں نقل مکانی نہیں کی۔پنجاب اسمبلی کے عیسائی ارکانِ اسمبلی نے بلاک کی شکل میں پاکستان کی حمایت کی ۔
ایسے سوالات چوہتر برس ( انیس سو چالیس سے ) کے دوران کبھی تنقیدی تو کبھی مسلح شکل میں مسلسل اٹھائے جارہے ہیں اور ان وفاقی یونٹوں میں اٹھائے جا رہے ہیں جو ریاستِ پاکستان میں بڑی امید و آس کے ساتھ شامل ہوئے تھے۔مگر سندھ کو پاکستان میں شامل کروانے والا جی ایم سید ہو کہ بنگال کو نئی مملکت کا حصہ بنوانے والا سہروردی۔دونوں پر غداری کا ٹیگ لگا۔خان عبدالغفار خان اور ان کے خاندان نے کبھی پاکستان نہیں چھوڑا لیکن نئی مملکت کے راتوں رات بنے والے ماموؤں نے ان کی ریاست سے وفاداری کو ہمیشہ چیلنج کیا۔
شروع کے کچھ دنوں ہندوستان کے ہندو اکثریتی صوبوں سے نقلِ مکانی کرنے والی مسلمان قیادت ( نوابی بیورو کریٹک لیڈر شپ ) نے پاکستانیت کی مہر اپنے پاس رکھی اور پھر یہ مہر اوتھ کمشنر پنجاب ( لاہوری ملتانی پوٹھوہاری اسٹیبلشمنٹ ) کے پاس آگئی۔اور پھر یہ ہوا کہ پاکستانیت کے ہر سرٹیفکیٹ پر یہ مہر لگنا لازمی قرار پایا۔حتی کہ جناح صاحب کی گیارہ اگست انیس سو سینتالیس کی تقریر کے بارے میں بھی سوچا گیا کہ اس پر پاکستانیت کی مہر لگائی جائے یا نہیں۔اب تو یہ بھی انکشاف کردیا گیا ہے کہ اس تقریر کا کوئی وجود ہی نہیں۔اور یہ کہ پاکستان چودہ اگست کو ہی وجود میں آیا تھا بھلے جناح صاحب پندرہ اگست سمجھتے رہیں۔اور یہ کہ جناح صاحب وزیر مینشن کراچی میں پیدا ہوئے بھلے جناح صاحب کا نام ٹھٹھہ کے قصبے جھرک کے پرائمری اسکول رجسٹر میں ہی کیوں نہ لکھا گیا ہو۔بھلے قراردادِ لاہور مولوی اے کے فضل الحق نے ہی پیش کی ہو لیکن سابق یونینسٹ پنجاب کی نومسلم لیگی قیادت کو بنگالی اکثریت کی پاکستانیت روزِ اول سے بھی پہلے سے اہم قومی مفاد میں مشکوک دکھائی دینے لگی۔بنگال تو نہ رہا مگر رویہ آج تک زندہ ہے بلکہ زندہ باد ہے۔
ذرا سوچئے کہ آج پاکستان کی کوئی نسلی ، لسانی یا مذہبی اقلیت بالکل قرار دادِ لاہور کی طرح کی ایک قرار داد منظور کرنے کی کوشش کرے تو اکثریت اس کے ساتھ کیا سلوک کرے گی ؟ شکر ہے قرار دادِ لاہور اچھے وضع دار انگریزی وقتوں میں منظور ہوگئی۔
اگر کوئی مجھ سے پوچھے کہ تمہارے نزدیک قرار دادِ لاہور کا مفہوم کیا ہے تو میرے ذہن میں سوائے اس کے کوئی مفہوم نہیں کہ
'' تم میں سے کوئی شخص مومن نہیں ہوسکتا جب تک اپنے بھائی کے لیے وہی پسند نہ کرے جو اپنے لیے پسند کرتا ہے'' ( حدیث)۔
( وسعت اللہ خان کے دیگر کالم اور مضامین پڑھنے کے لیے bbcurdu.com پر کلک کیجیے )