گورنمنٹ اسپتال کورنگی میں طویل لوڈ شیڈنگ400 مریض وارڈ سے نکل آئے
19گھنٹے بجلی بند رہنے سے انتظامی اور طبی معاملات مفلوج، مریضوں کے لیے پانی ختم ، بیشتر مریض اسپتال سے منتقل
جنریٹر کے لیے ڈیزل کی رقم بھی فراہم نہیں کی جاتی،یومیہ 3ہزارمریض اوپی ڈی میں معائنہ کیلیے آتے ہیں،ایم ایس ڈاکٹر خالد فوٹو : ایکسپریس / فائل
FAISALABAD:
بجلی کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ نے جہاں عوام کو پریشانی میں مبتلا کردیا وہاں سرکاری اسپتالوں میں زیر علاج مریضوں کیلیے بھی لوڈشیڈنگ عذاب بن گئی ہے ۔
بجلی کی عدم فراہمی کی وجہ سے سرکاری اسپتالوں میں زیر علاج مریضوں اور انتظامیہ بھی شدید مشکلات سے گزررہی ہے، سندھ گورنمنٹ اسپتال کورنگی میں 19 گھنٹے سے بجلی کی عدم فراہمی کی وجہ سے ہزاروں مریض حصول علاج سے محروم ہیں ، اسپتال میں بجلی اور پانی نہ ہونے سے انتظامی معاملات بھی مفلوج ہوگئے جبکہ زیر علاج مریضوں نے رات اسپتال سے باہر گزاری، اسپتال کے ایم ایس ڈاکٹر خالد بخاری کاکہنا ہے کہ اسپتال میں 19گھنٹے سے مسلسل جنریٹر چلا کر مریضوں کو طبی امداد فراہم کی جارہی ہے ۔
جنریٹر کے لیے ڈیزل کی رقم بھی فراہم نہیں کی جاتی ، انھوں نے بتایا کہ اسپتال میں 400 بستروں پر مریض موجود ہیں ،19گھنٹے سے بجلی نہ ہونے سے مریضوں نے رات اسپتال کے وارڈ سے باہر نکل کرگزاری ، ان کاکہنا تھا کہ بجلی نہ ہونے سے اسپتال میں پانی بھی ختم ہوگیا،اسپتال میں بجلی اور پانی نہ ہونے کی وجہ سے بیشتر مریض اسپتال سے منتقل ہورہے ہیں انھوں نے کہا کہ اسپتالوں کو بجلی کی لوڈشیڈنگ سے مستثنیٰ قرار دیاجائے ، ان کا کہنا تھا کہ اسپتال میں یومیہ 3ہزار مریض اوپی ڈی میں معائنے کیلیے آتے ہیں جبکہ400زیر علاج ہوتے ہیں اس کے باوجود اسپتال میں ادویات کا بجٹ صرف ایک کروڑ20لاکھ فراہم کیاجاتا ہے ۔
بجلی کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ نے جہاں عوام کو پریشانی میں مبتلا کردیا وہاں سرکاری اسپتالوں میں زیر علاج مریضوں کیلیے بھی لوڈشیڈنگ عذاب بن گئی ہے ۔
بجلی کی عدم فراہمی کی وجہ سے سرکاری اسپتالوں میں زیر علاج مریضوں اور انتظامیہ بھی شدید مشکلات سے گزررہی ہے، سندھ گورنمنٹ اسپتال کورنگی میں 19 گھنٹے سے بجلی کی عدم فراہمی کی وجہ سے ہزاروں مریض حصول علاج سے محروم ہیں ، اسپتال میں بجلی اور پانی نہ ہونے سے انتظامی معاملات بھی مفلوج ہوگئے جبکہ زیر علاج مریضوں نے رات اسپتال سے باہر گزاری، اسپتال کے ایم ایس ڈاکٹر خالد بخاری کاکہنا ہے کہ اسپتال میں 19گھنٹے سے مسلسل جنریٹر چلا کر مریضوں کو طبی امداد فراہم کی جارہی ہے ۔
جنریٹر کے لیے ڈیزل کی رقم بھی فراہم نہیں کی جاتی ، انھوں نے بتایا کہ اسپتال میں 400 بستروں پر مریض موجود ہیں ،19گھنٹے سے بجلی نہ ہونے سے مریضوں نے رات اسپتال کے وارڈ سے باہر نکل کرگزاری ، ان کاکہنا تھا کہ بجلی نہ ہونے سے اسپتال میں پانی بھی ختم ہوگیا،اسپتال میں بجلی اور پانی نہ ہونے کی وجہ سے بیشتر مریض اسپتال سے منتقل ہورہے ہیں انھوں نے کہا کہ اسپتالوں کو بجلی کی لوڈشیڈنگ سے مستثنیٰ قرار دیاجائے ، ان کا کہنا تھا کہ اسپتال میں یومیہ 3ہزار مریض اوپی ڈی میں معائنے کیلیے آتے ہیں جبکہ400زیر علاج ہوتے ہیں اس کے باوجود اسپتال میں ادویات کا بجٹ صرف ایک کروڑ20لاکھ فراہم کیاجاتا ہے ۔