ریگولیٹرزچیف کی تعیناتی کیلئے پارلیمنٹ سے منظوری لی جائے نیب

سرمایہ کاروں اوراسٹیک ہولڈرزکو ون ونڈو سروس کی سہولت فراہم کی جائے، وفاقی حکومت کو تجاویز

سرمایہ کاروں اوراسٹیک ہولڈرزکو ون ونڈو سروس کی سہولت فراہم کی جائے، وفاقی حکومت کو تجاویز فوٹو: فائل

لاہور:
قومی احتساب بیورو(نیب)نے ریگولیٹری اداروں کے سربراہان کی تعیناتی کیلیے پارلیمنٹ کی قائمہ کمیٹی کی منظوری کولازمی قراردینے کی تجویزدی ہے۔


نیب نے وفاقی حکومت کوتجویزدی کہ تمام ریگولیٹری اداروںمیں اہم عہدوں پرمجوزہ رولزکے مطابق قابل اور پروفیشنل افسران تعینات کیے جائیں جبکہ ریگولیٹری اداریسرمایہ کاروں اور اسٹیک ہولڈروں کوون ونڈو سروس کی سہولت فراہم کریں۔ ذرائع کے مطابق نیب نے یہ بھی کہاکہ تمام ریگولیٹرزکوایسے فیصلے جن کابراہ راست عوام پراثرپڑتاہے انھیں حتمی شکل دینے سے قبل عوامی سماعت کی جائے۔ اس کے علاوہ یہ بھی کہاگیاکہ نیپراکی طرح تمام ریگولیٹرزکی فعال ویب سائٹس ہوناچاہئیں۔

ویب سائٹس پرریگولیٹرزکے تمام پالیسی سطح کے فیصلے موجودہونے چاہئیں، ویب سائٹس کو باقاعدگی کے ساتھ اپ ڈیٹ کیاجائے۔ قومی احتساب بیورونے حکومت کو تجویزدی کہ ریگولیٹری اداروں کومتعلقہ ٹیکنیکل شعبوں میں ماہراورپروفیشنل تعینات کرنے کیلیے رولزمیں ترامیم کرنی چاہئیں اورریگولیٹرز کوتکنیکی معاملات کیلیے ماہرین کی خدمات حاصل کرنی چاہئیں اورصرف ایڈمنسٹریٹواتھارٹی کے طورپرکام نہیں کرنا چاہیے۔
Load Next Story