شام میں سرکاری فوج کے فضائی اور زمینی حملے89 افراد ہلاک شامی صدر کا کزن بھی مارا گیا
اللاذقیہ میں باغیوں اورفوج میں شدید جھڑپیں جاری،دونوں متحارب دھڑوں کے 80 جنگجو مارے گئے۔
اللاذقیہ میں باغیوں اورفوج میں شدید جھڑپیں جاری،دونوں متحارب دھڑوں کے 80 جنگجو مارے گئے۔ فوٹو:اے ایف پی
لاہور:
شام کے انسانی حقوق کے گروپ نے دعویٰ کیا ہے کہ شامی فورسز کے مختلف علاقوں میں فضائی اور زمینی حملوں میں 89 شہری ہلاک ہوگئے۔
ادھر ترکی کی سرحد کے نزدیک صوبہ اللاذقیہ میں باغیوں اور شامی فوج میں شدید جھڑپیں جاری ہیں جس میں 80 افراد مارے جاچکے ہیں، شامی فوج کے اعلیٰ عہدے دار اور صدر بشارالاسد کے کزن ہلال الاسدبھی باغی جنگجوؤں کے خلاف لڑائی کے دوران مارے گئے۔غیر ملکی خبررساں ادارے کے مطابق برطانیہ میں قائم شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق نے بتایا کہ89 شہریوں میں 26 افراد حلب ،33 دمشق کے مضافات میں ،13ادلب ،حمص ،حما اور دیرا میں پانچ پانچ جبکہ راکا اور دیروزور میں ایک ایک ہلاک ہوا۔تنظیم نے دعویٰ کیاکہ سرکاری فورسزنے حزب اختلاف کے زیر کنٹرول علاقوں میں کاروائیاں کیں ۔شام کے سرکاری خبررساں ادارے نے تصدیق کی ہے کہ شامی صدر کے کزن اور قومی دفاع کے کمانڈر ہلال الاسد صوبہ اذقیہ کے سرحدی شہر کساب میں باغیوں کے ساتھ لڑائی میں ہلاک ہوگئے۔
ہلال الاسد شمال مغربی صوبہ اللاذقیہ میں نیشنل ڈیفنس پیراملٹری فورس کے سربراہ تھے اوروہ سرحدی قصبے کسب میں باغیوں کے خلاف شدید جھڑپوں میں ہلاک ہوئے۔نیشنل ڈیفنس فورس نیم فوجی دستوں پر مشتمل ہے اور یہ ملیشیا صدربشارالاسد کی حکومت کا تختہ الٹنے کے لیے باغی جنگجوؤں کی سرکوبی کے لیے بنائی گئی تھی۔برطانیہ میں قائم شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق کی اطلاع کے مطابق ہلال الاسد اپنے سات جنگجوؤں سمیت النصرہ محاذ اوردوسرے اسلامی جنگجو گروپوں کے ساتھ لڑائی میں ہلاک ہوئے ہیں۔دوسری جانب شامی فوج اور باغیوں کے درمیان گزشتہ جمعے سے کسب میں شدید لڑائی ہورہی ہے اورباغیوں نے اس قصبے کے بیشتر حصے کاکنٹرول حاصل کرلیا تھا۔ اب تک دونوں متحارب دھڑوں کے 80 جنگجو مارے جاچکے ہیں۔قبل ازیں ترکی نے شام کے ایک جنگی طیارے کوسرحدی علاقے میں مارگرایا تھا۔شامی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس طیارے کو کسب میں باغیوں کیخلاف کارروائی کے دوران طیارہ شکن ہتھیار سے نشانہ بنایا گیا ہے جبکہ ترک وزیراعظم رجب طیب اردوان نے شامی طیارہ مارگرانے پر فوج کو مبارک باد دی ہے اورخبردارکیا ہے کہ اگرمستقبل میں ترکی کی سرحدی خلاف ورزی کی گئی تو اس پراسی طرح سخت ردعمل کا اظہارکیا جائے گا۔
شام کے انسانی حقوق کے گروپ نے دعویٰ کیا ہے کہ شامی فورسز کے مختلف علاقوں میں فضائی اور زمینی حملوں میں 89 شہری ہلاک ہوگئے۔
ادھر ترکی کی سرحد کے نزدیک صوبہ اللاذقیہ میں باغیوں اور شامی فوج میں شدید جھڑپیں جاری ہیں جس میں 80 افراد مارے جاچکے ہیں، شامی فوج کے اعلیٰ عہدے دار اور صدر بشارالاسد کے کزن ہلال الاسدبھی باغی جنگجوؤں کے خلاف لڑائی کے دوران مارے گئے۔غیر ملکی خبررساں ادارے کے مطابق برطانیہ میں قائم شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق نے بتایا کہ89 شہریوں میں 26 افراد حلب ،33 دمشق کے مضافات میں ،13ادلب ،حمص ،حما اور دیرا میں پانچ پانچ جبکہ راکا اور دیروزور میں ایک ایک ہلاک ہوا۔تنظیم نے دعویٰ کیاکہ سرکاری فورسزنے حزب اختلاف کے زیر کنٹرول علاقوں میں کاروائیاں کیں ۔شام کے سرکاری خبررساں ادارے نے تصدیق کی ہے کہ شامی صدر کے کزن اور قومی دفاع کے کمانڈر ہلال الاسد صوبہ اذقیہ کے سرحدی شہر کساب میں باغیوں کے ساتھ لڑائی میں ہلاک ہوگئے۔
ہلال الاسد شمال مغربی صوبہ اللاذقیہ میں نیشنل ڈیفنس پیراملٹری فورس کے سربراہ تھے اوروہ سرحدی قصبے کسب میں باغیوں کے خلاف شدید جھڑپوں میں ہلاک ہوئے۔نیشنل ڈیفنس فورس نیم فوجی دستوں پر مشتمل ہے اور یہ ملیشیا صدربشارالاسد کی حکومت کا تختہ الٹنے کے لیے باغی جنگجوؤں کی سرکوبی کے لیے بنائی گئی تھی۔برطانیہ میں قائم شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق کی اطلاع کے مطابق ہلال الاسد اپنے سات جنگجوؤں سمیت النصرہ محاذ اوردوسرے اسلامی جنگجو گروپوں کے ساتھ لڑائی میں ہلاک ہوئے ہیں۔دوسری جانب شامی فوج اور باغیوں کے درمیان گزشتہ جمعے سے کسب میں شدید لڑائی ہورہی ہے اورباغیوں نے اس قصبے کے بیشتر حصے کاکنٹرول حاصل کرلیا تھا۔ اب تک دونوں متحارب دھڑوں کے 80 جنگجو مارے جاچکے ہیں۔قبل ازیں ترکی نے شام کے ایک جنگی طیارے کوسرحدی علاقے میں مارگرایا تھا۔شامی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس طیارے کو کسب میں باغیوں کیخلاف کارروائی کے دوران طیارہ شکن ہتھیار سے نشانہ بنایا گیا ہے جبکہ ترک وزیراعظم رجب طیب اردوان نے شامی طیارہ مارگرانے پر فوج کو مبارک باد دی ہے اورخبردارکیا ہے کہ اگرمستقبل میں ترکی کی سرحدی خلاف ورزی کی گئی تو اس پراسی طرح سخت ردعمل کا اظہارکیا جائے گا۔