اسٹریٹ چائلڈزورلڈ کپ پاکستانی اسٹارز جگمگانے کو تیار
فٹبال ایونٹ کی افتتاحی تقریب 30 مارچ کو برازیلین شہر ریوڈی جنیرو میں ہوگی
فٹبال ایونٹ کی افتتاحی تقریب 30 مارچ کو برازیلین شہر ریوڈی جنیرو میں ہوگی۔ فوٹو: فائل
فٹبال آوارہ بچوں کیلیے روشن مستقبل کا اشارہ بن گیا، گلیوں میں زندگی گزارنے والے پاکستانی بچے 30 مارچ سے برازیل میں شروع ہونے والے اسٹریٹ چائلڈ ورلڈ کپ میں صلاحیتوں کے جوہر دکھائیں گے۔
عالمی مقابلے میں گرین شرٹس زیب تن کرنے والے کھلاڑیوں کا کہنا ہے کہ کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ اتنی عزت افزائی ہوگی، فٹبال نے زندگی کے مقصد سے روشناس کرواکے نئی شناخت دیدی۔ تفصیلات کے مطابق 30 مارچ سے برازیل میں شیڈول دوسرے اسٹریٹ چائلڈ فٹبال ورلڈ کپ میں شرکت کیلیے پاکستان ٹیم میں جگہ بنانے والے16سالہ محمد سلمان اپنی زندگی کراچی کی سڑکوں پر گزارنے پر مجبورتھے، گدا گری اور نشہ ان کی عادتوں میں شامل تھے لیکن اب وہ ناصرف باعزت زندگی کی طرف لوٹ رہے ہیں بلکہ انھیں مستقبل کیلیے نئی منزلوں کی بھی تلاش ہے۔ان کا کہنا ہے کہ ماضی میں سڑکوں پر آوارہ گردی اورمنشیات کا عادی تھا، تعلیم سے دوری ہی اچھی لگتی لیکن اب احساس ہوا کہ غلط راستے پر تھا، ہمیں احساس ہوگیا کہ کیا کرنا چاہیے اور مستقبل کے کے راستے کون سے ہیں، اسٹریٹ چائلڈ ورلڈ کپ میں پاکستان کی نمائندگی کرنے کا موقع ملنے کو اپنی خوش قسمتی سمجھتا ہوں۔
دوسری طرف ماضی میں سڑکوں پر بھٹکنے والے ایک اور پاکستانی بچے اویس علی کا کہنا ہے فٹبال کے ذریعے باعزت شہری ہونے کا احساس ہوا، آوارگی کے دور میں کوئی بھی عزت سے پیش نہیں آتا تھا، مجھے ان پڑھ ہونے پر بھی کوئی شرمندگی نہیں تھی لیکن آزاد فاؤنڈیشن نے تعلیم کی آگہی دی، نویں کلاس میں پڑھ رہا ہوں، اب ہر جگہ ہیرو کی طرح جانا جاتا ہوں۔ پاکستانی ٹیم کے کوچ عبدالرشید نے تسلیم کیا کہ پریشانیوں میں مبتلا خاندانوں سے تعلق رکھنے والے اسٹریٹ چائلڈ کو عام زندگی کی جانب راغب کرنے میں بہت ساری دشواریاں پیش آتی ہیں خاص طور پر جب ان کو پہلی بار فٹبال کھیلنے کیلیے میدان میں اتارا جاتا ہے،کھلاڑی اپنی توجہ اس جانب مبذول نہیں کر پارہے تھے لیکن اس کے باوجود ہم اپنے مشن کی تکمیل کیلیے پرامید تھے اور آخر کار انھیں ایک ٹیم کی شکل میں ڈھال لیا گیا۔ یادرہے کہ اسٹریٹ چائلڈ ورلڈ کا پہلا ایڈیشن فٹبال کے عالمی کپ 2010 سے قبل جنوبی افریقہ میںکھیلا گیا تھا، دوسرا ایڈیشن 27 مارچ سے برازیل میں شروع ہورہا ہے، ابتدائی دوروز تک مختلف ملکوں کی ٹیموں کی ورکشاپس ہونگی،ایونٹ کی افتتاحی تقریب کا انعقاد 30 مارچ کو ریوڈی جنیرو میں ہوگا۔
عالمی مقابلے میں گرین شرٹس زیب تن کرنے والے کھلاڑیوں کا کہنا ہے کہ کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ اتنی عزت افزائی ہوگی، فٹبال نے زندگی کے مقصد سے روشناس کرواکے نئی شناخت دیدی۔ تفصیلات کے مطابق 30 مارچ سے برازیل میں شیڈول دوسرے اسٹریٹ چائلڈ فٹبال ورلڈ کپ میں شرکت کیلیے پاکستان ٹیم میں جگہ بنانے والے16سالہ محمد سلمان اپنی زندگی کراچی کی سڑکوں پر گزارنے پر مجبورتھے، گدا گری اور نشہ ان کی عادتوں میں شامل تھے لیکن اب وہ ناصرف باعزت زندگی کی طرف لوٹ رہے ہیں بلکہ انھیں مستقبل کیلیے نئی منزلوں کی بھی تلاش ہے۔ان کا کہنا ہے کہ ماضی میں سڑکوں پر آوارہ گردی اورمنشیات کا عادی تھا، تعلیم سے دوری ہی اچھی لگتی لیکن اب احساس ہوا کہ غلط راستے پر تھا، ہمیں احساس ہوگیا کہ کیا کرنا چاہیے اور مستقبل کے کے راستے کون سے ہیں، اسٹریٹ چائلڈ ورلڈ کپ میں پاکستان کی نمائندگی کرنے کا موقع ملنے کو اپنی خوش قسمتی سمجھتا ہوں۔
دوسری طرف ماضی میں سڑکوں پر بھٹکنے والے ایک اور پاکستانی بچے اویس علی کا کہنا ہے فٹبال کے ذریعے باعزت شہری ہونے کا احساس ہوا، آوارگی کے دور میں کوئی بھی عزت سے پیش نہیں آتا تھا، مجھے ان پڑھ ہونے پر بھی کوئی شرمندگی نہیں تھی لیکن آزاد فاؤنڈیشن نے تعلیم کی آگہی دی، نویں کلاس میں پڑھ رہا ہوں، اب ہر جگہ ہیرو کی طرح جانا جاتا ہوں۔ پاکستانی ٹیم کے کوچ عبدالرشید نے تسلیم کیا کہ پریشانیوں میں مبتلا خاندانوں سے تعلق رکھنے والے اسٹریٹ چائلڈ کو عام زندگی کی جانب راغب کرنے میں بہت ساری دشواریاں پیش آتی ہیں خاص طور پر جب ان کو پہلی بار فٹبال کھیلنے کیلیے میدان میں اتارا جاتا ہے،کھلاڑی اپنی توجہ اس جانب مبذول نہیں کر پارہے تھے لیکن اس کے باوجود ہم اپنے مشن کی تکمیل کیلیے پرامید تھے اور آخر کار انھیں ایک ٹیم کی شکل میں ڈھال لیا گیا۔ یادرہے کہ اسٹریٹ چائلڈ ورلڈ کا پہلا ایڈیشن فٹبال کے عالمی کپ 2010 سے قبل جنوبی افریقہ میںکھیلا گیا تھا، دوسرا ایڈیشن 27 مارچ سے برازیل میں شروع ہورہا ہے، ابتدائی دوروز تک مختلف ملکوں کی ٹیموں کی ورکشاپس ہونگی،ایونٹ کی افتتاحی تقریب کا انعقاد 30 مارچ کو ریوڈی جنیرو میں ہوگا۔