تھر میں اموات وزیر اعلیٰ قائم علی شاہ نے اپنی حکومت اور افسروں کو بری الذمہ قرار دیدیا

کوتاہی یاغفلت نہیں برتی، گندم کی ترسیل میں تاخیر ہوئی، وزیراعلیٰ، میڈیا نے ’’اوورپلے‘‘ کیا، شرجیل میمن

کوتاہی یاغفلت نہیں برتی، گندم کی ترسیل میں تاخیر ہوئی، وزیراعلیٰ، میڈیا نے ’’اوورپلے‘‘ کیا، شرجیل میمن. فوٹو: فائل

وزیراعلیٰ سندھ سیدقائم علی شاہ نے کہاہے کہ تھرکی صورت حال کے حوالے سے حکومت سندھ اوراس کے کسی افسرکی کوئی کوتاہی،غفلت یانااہلی نہیں، خشک سالی اورقحط کے اثرات سے اموات ہوتیں تو10سال سے اوپرکے لوگ بھی مرتے، 10 سال سے کم عمربچوں کی اموات کے دیگراسباب ہوتو آرمی ایوی ایشن سے بھی مددلی جائے۔

عدالت نے آئندہ سماعت پرسابق ریلیف کمشنر لالہ فضل الرحمٰن،سابق کمشنر میر پور خاص غلام مصطفیٰ پھُل اورسابق ڈپٹی کمشنرمیر پورخاص مخدوم عقیل الزماں کوطلب کرلیا۔چیف جسٹس مقبول باقرکی سربراہی میں بینچ نے تھرپارکرمیں قحط سالی اورہلاکتوں سے متعلق سندھ ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کے سیکریٹری عاصم اقبال، شہاب سرکی اوردیگر کی درخواست پر ازخود نوٹس، پائلراوردیگر کی درخواستوں کی سماعت کی،سرکاری رپورٹ میں بتایاگیا کہ تاحال22,758 متاثرین خوراک فراہم نہیں کی جاسکی ،عدالت نے خوراک کی عدم فراہمی پر برہمی کااظہار کرتے ہوئے انتظامیہ کوہدایت کی کہ دوردراز علاقوں تک خوراک کی فراہمی کیلیے ہر ممکن اقدامات کیے جائیں،اس موقع پر ریلیف کمشنر کی جانب سے عدالت کو بتایا گیا کہ اب تک مٹھی،تھرپارکر،ڈیپلو،چھاچھرو،ننگرپارکراور اسلام کوٹ میں 217926 خاندانوں کوگندم کی 108963 بوریاں پہنچائی جاچکی ہیں جبکہ22,758خاندانوں کو اب تک گندم نہیں پہنچائی جاسکی۔


عدالت نے تھرپارکر میں جاری ریلیف سرگرمیوں کا جائزہ لینے کیلیے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج تھرپارکر کی سربراہی میں3رکنی کمیٹی تشکیل دے دی ہے، عدالت نے کمیٹی میں ایس آئی یوٹی کے ڈاکٹراور سماجی کارکن سونوخان کو نامزدکرتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ تھرپارکر میں صحت کی سہولیات سے متعلق تفصٰلی رپورٹ پیش کریں۔ عدالت نے محکمہ صحت کوہدایت کی کہ تھرپارکر میں تعینات ڈاکٹروں کی فہرست پیش کی جائے اور جن ڈاکٹروں نے غفلت برتی اورڈیوٹی جوائن نہیں ان کے خلاف کی گئی تادیبی کارروائی کی تفصیلات سے بھی آگاہ کیاجائے۔عدالت نے ڈی آئی جی حیدراباد ثنااللہ عباسی کی سربراہی میں قائم فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کی رپورٹ بھی پیش کرنے کی ہدایت کی۔چیف سیکریٹری سجادسلیم کی جانب سے عدالت کو بتایا گیاکہ تھرپارکر میں خوراک کی فراہمی کے حوالے سے غفلت برتنے پرسابق ریلیف کمشنرلالہ فضل الرحمٰن، سابق کمشنر میر پور خاص غلام مصطفیٰ پھُل اورسابق ڈپٹی کمشنر میر پور خاص مخدوم عقیل الزماں کوان کے عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے۔

عدالت نے تینوں افسران کوآئندہ سماعت پر پیش ہونے کا حکم دیاہے،عدالت نے سیکریٹری صحت، سیکریٹری خوراک ،سیکریٹری ریلیف اینڈ بورڈ آف ریونیوکی رپوٹس کو غیر تسلی بخش قراردیتے ہوئے آبزرویشن دی کہ افسو س کامقام ہے کہ گندم کی تقسیم کاکوئی فارمولا موجودہی نہیں،جسٹس مقبول باقر نے ریمارکس دیے کہ ثابت ہوچکا ہے کہ اموات غذاکی کمی کی وجہ سے بھی ہوئی ہیں،ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے موقف اختیار کیا کہ وزیر اعلیٰ کا کام حکم دینا اور سیکریٹری خوراک کا کام اس پر عملد رآمد کرناہے ،زیادہ تر افسران کراچی اور حیدرآباد میں وقت گزارتے ہیں یہ رات کوجاگتے اور دن میں سوتے ہیں۔عدالت نے سماعت8اپریل تک ملتوی کردی۔

سندھ ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کے سیکریٹری عاصم اقبال نے اپنی درخواست میں چیف جسٹس کو بتایا کہ گزشتہ 3ماہ میں ضلع تھرپارکرمیں خوراک کی قلت سے خواتین اور بچوں سمیت ایک سو سے زائد افرادہلاک ہوچکے ہیں مگران کی بحالی کیلیے اقدامات نہیں کیے جارہے۔درخواست میں کہاگیاہے کہ عوام کے جان و مال اوربنیادی حقوق کاتحفظ حکومت کی بنیادی ذمے داری ہے مگرحکومت اپنی ذمے داری اداکرنے میں ناکام ہوگئی ہے۔
Load Next Story