حکومتی کمیٹی اور طالبان کی پہلی براہ راست ملاقات خراب موسم کے باعث ملتوی
موسم بہترہوتے ہی کمیٹی کے ارکان طے شدہ مقام کو روانہ ہو جائینگے،بات چیت میں کامیابی کے امکانات روشن ہیں
طالبان نے تمام تنظیموں پر کنٹرول حاصل کر لیا، مذاکرات سبوتاژ کرنیوالوں پر بھی نظر رکھے ہوئے ہیں،یوسف شاہ، طاقت سے مسائل حل نہیں ہوتے،سمیع الحق۔ فوٹو: فائل
حکومتی کمیٹی اورطالبان کی سیاسی شوریٰ کی پہلی براہ راست ملاقات جو منگل کوہونا تھی، خراب موسم کے باعث ملتوی کردی گئی۔
حکومتی اورطالبان کمیٹی کے ارکان ملاقات کے لیے روانہ نہ ہو سکے۔ طالبان کمیٹی کے رکن پروفیسرابراہیم نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ خراب موسم کی وجہ سے فضائی سفر ممکن نہیں۔ کمیٹی میں شامل چندبزرگ ارکان زمینی سفرنہیں کرسکتے اس لیے حکومتی کمیٹی قبائلی علاقے میں نہیں جا سکی۔ موسم بہترہوتے ہی کمیٹی کے ارکان طالبان شوریٰ سے مذاکرات کے لیے روانہ جائیںگے۔ طالبان کوملاقات موخرہونے کے بارے میں آگاہ کردیا گیاہے۔ ملاقات کا امکان ایف آربنوں میں تھا۔ مصلحت کے تحت ملاقات کے مقام کوخفیہ رکھاگیا ہے۔ مذاکرات کا ایجنڈا صرف اور صرف امن ہے۔ طالبان قیدیوں کی رہائی سے متعلق حکومت نے ابھی تک کوئی جواب نہیں دیا۔ فریقین کا فی الحال کوئی بھی مطالبہ نہیں ہے۔ تمام مطالبات حکومتی کمیٹی اورطالبان شوریٰ کی ملاقات میںرکھے جائیں گے۔
حکومت طالبان کے غیرعسکری قیدیوں کے حوالے سے تحقیقات کررہی ہے۔ شکرہے کہ بہت سے خفیہ ہاتھ ہونے کے باوجود کافی دنوں سے دہشت گردی کے واقعات نہیں ہوئے۔ انھوں نے کہاکہ حکومت کے ساتھ مذاکرات میں قاری شکیل، اعظم طارق، مولوی ذاکراور مولوی بشیرطالبان کی نمائندگی کریں گے۔ پروفیسرابراہیم نے کہاکہ چاہتے ہیں دونوں جانب سے غیرعسکری قیدیوں کورہا کیا جائے۔ مذاکرات سے قبل یہ اقدام امن کے قیام کے لیے انتہائی مثبت ثابت ہوگا۔ انھیں وزیرداخلہ اورڈی جی آئی ایس آئی کے مابین ملاقات کا علم نہیں کہ اس میں کیا طے ہوا ہے۔ مذاکرات میں کامیابی کے امکانات بھی روشن ہیںتاہم خدشات بھی موجودہیں۔ یہ مذاکرات جلدنتیجے تک پہنچ سکتے ہیں تاہم طول بھی پکڑسکتے ہیں۔ موسم ٹھیک ہواتو آج بھی ملاقات کے لیے جاسکتے ہیں۔ انھوںنے کہاکہ شاید قیدیوں کے ساتھ برتاؤ میں دونوں فریقین قواعدوضوابط کا خیال نہیں رکھ رہے۔
امن قائم ہوگا تو ان شااللہ شریعت بھی آجائے گی۔ طالبان کمیٹی کے کوآرڈینیٹر مولانایوسف شاہ نے کہا کہ طالبان نے تمام تنظیموں پر کنٹرول حاصل کرلیا ہے اورکوشش کی جا رہی ہے کہ جنگ بندی کے دوران ایسی حرکت نہ ہو جس سے مذاکراتی عمل سبوتاژہو۔ طالبان کمیٹی کے سربراہ مولاناسمیع الحق نے بتایاکہ خراب موسم کے باعث پروازکے ذریعے مطلوبہ مقام پرپہنچنا ممکن نہیں جس کی وجہ سے ملاقات ملتوی کی گئی۔ انھوںنے کہاکہ مذاکرات کامیابی کی طرف گامزن ہیں۔ دونوں فریق کامیابی کے لیے مخلص ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ کبھی طاقت سے مسائل حل نہیں ہوئے۔
حکومتی اورطالبان کمیٹی کے ارکان ملاقات کے لیے روانہ نہ ہو سکے۔ طالبان کمیٹی کے رکن پروفیسرابراہیم نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ خراب موسم کی وجہ سے فضائی سفر ممکن نہیں۔ کمیٹی میں شامل چندبزرگ ارکان زمینی سفرنہیں کرسکتے اس لیے حکومتی کمیٹی قبائلی علاقے میں نہیں جا سکی۔ موسم بہترہوتے ہی کمیٹی کے ارکان طالبان شوریٰ سے مذاکرات کے لیے روانہ جائیںگے۔ طالبان کوملاقات موخرہونے کے بارے میں آگاہ کردیا گیاہے۔ ملاقات کا امکان ایف آربنوں میں تھا۔ مصلحت کے تحت ملاقات کے مقام کوخفیہ رکھاگیا ہے۔ مذاکرات کا ایجنڈا صرف اور صرف امن ہے۔ طالبان قیدیوں کی رہائی سے متعلق حکومت نے ابھی تک کوئی جواب نہیں دیا۔ فریقین کا فی الحال کوئی بھی مطالبہ نہیں ہے۔ تمام مطالبات حکومتی کمیٹی اورطالبان شوریٰ کی ملاقات میںرکھے جائیں گے۔
حکومت طالبان کے غیرعسکری قیدیوں کے حوالے سے تحقیقات کررہی ہے۔ شکرہے کہ بہت سے خفیہ ہاتھ ہونے کے باوجود کافی دنوں سے دہشت گردی کے واقعات نہیں ہوئے۔ انھوں نے کہاکہ حکومت کے ساتھ مذاکرات میں قاری شکیل، اعظم طارق، مولوی ذاکراور مولوی بشیرطالبان کی نمائندگی کریں گے۔ پروفیسرابراہیم نے کہاکہ چاہتے ہیں دونوں جانب سے غیرعسکری قیدیوں کورہا کیا جائے۔ مذاکرات سے قبل یہ اقدام امن کے قیام کے لیے انتہائی مثبت ثابت ہوگا۔ انھیں وزیرداخلہ اورڈی جی آئی ایس آئی کے مابین ملاقات کا علم نہیں کہ اس میں کیا طے ہوا ہے۔ مذاکرات میں کامیابی کے امکانات بھی روشن ہیںتاہم خدشات بھی موجودہیں۔ یہ مذاکرات جلدنتیجے تک پہنچ سکتے ہیں تاہم طول بھی پکڑسکتے ہیں۔ موسم ٹھیک ہواتو آج بھی ملاقات کے لیے جاسکتے ہیں۔ انھوںنے کہاکہ شاید قیدیوں کے ساتھ برتاؤ میں دونوں فریقین قواعدوضوابط کا خیال نہیں رکھ رہے۔
امن قائم ہوگا تو ان شااللہ شریعت بھی آجائے گی۔ طالبان کمیٹی کے کوآرڈینیٹر مولانایوسف شاہ نے کہا کہ طالبان نے تمام تنظیموں پر کنٹرول حاصل کرلیا ہے اورکوشش کی جا رہی ہے کہ جنگ بندی کے دوران ایسی حرکت نہ ہو جس سے مذاکراتی عمل سبوتاژہو۔ طالبان کمیٹی کے سربراہ مولاناسمیع الحق نے بتایاکہ خراب موسم کے باعث پروازکے ذریعے مطلوبہ مقام پرپہنچنا ممکن نہیں جس کی وجہ سے ملاقات ملتوی کی گئی۔ انھوںنے کہاکہ مذاکرات کامیابی کی طرف گامزن ہیں۔ دونوں فریق کامیابی کے لیے مخلص ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ کبھی طاقت سے مسائل حل نہیں ہوئے۔