سوشل میڈیا کیلیے کرکٹرز کو اداکار بنانے پر تنقید ہونے لگی
توجہ صرف کارکردگی پر مرکوز ہونا چاہیے، نقل کیلیے بھی عقل ضروری ہے،یونس خان
توجہ صرف کارکردگی پر مرکوز ہونا چاہیے، نقل کیلیے بھی عقل ضروری ہے،یونس خان (فوٹو: اسکرین شارٹ)
سوشل میڈیا کے لیے قومی کرکٹ ٹیم کے پلئیرز کو اداکار بنانے پر تنقید ہونے لگی۔
گزشتہ کچھ عرصے سے قومی کرکٹرز کی ویڈیوز تسلسل کے ساتھ سوشل میڈیا پر سامنے آرہی ہیں جبکہ کارکردگی کا گراف نیچے جارہا ہے۔ ایک ٹی وی پروگرام میں اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے سابق کپتان یونس خان نے کہا کہ یہ سلسلہ نیٹ فلیکس سے شروع ہوا تھا مگر نقل کیلیے بھی عقل چاہیے، ٹریول ڈائریز ہم بھی بناتے تھے مگر اس کا طریقہ یہ ہے کہ ورلڈکپ جیت کر آئیں تو اپنی جدوجہد کے مختلف مراحل کی ویڈیو جاری کریں۔
انہوں نے کہا کہ آج کل میچ کھیلا نہیں ہوتا مگر سوشل میڈیا پر بہت کچھ آجاتا ہے،کھلاڑیوں کی توجہ صرف کارکردگی، رنز اور وکٹوں پر مرکوز ہونا چاہیے، ایونٹ جیت جائیں تو ویڈیوز میں بتا دیں، نہیں بھی جیتے تو وجوہات سے آگاہ کردیں۔
مزید پڑھیں: سخت جان پروٹیز پر قابو پانے کی پلاننگ ہونے لگی
یونس خان نے کہا کہ ویرات کوہلی کے کمرے کی ویڈیو لیک ہوئی تو ان کو خوش ہونا چاہیے تھا مگر انھوں نے بْرا منایا کہ پرائیویسی میں دخل اندازی کیوں ہوئی، ہمارے ہاں باہر نکلتے ہی بتا دیتے ہیں کہ میں کمرے میں تھا اب باہر آگیا ہوں۔
سابق وکٹ کیپر کامران اکمل نے کہا کہ ویڈیوز کا سلسلہ بڑی دیر سے جاری ہے،کرکٹ پر توجہ مرکوز نہیں رہی، معیار بھی نیچے گیا، ہمارے ہاں تو جس کی سالگرہ ہوتی ہے اس کو کیک کاٹنے کیلیے ٹیم میں لے لیتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ چیئرمین پی سی بی رمیز راجہ نے جس دور میں کرکٹ کھیلی وہ جانتے ہیں کہ اس وقت کتنی توجہ کھیل پر دی جاتی تھی،ماضی میں اپنے یوٹیوب چینل پر وہ خود بھی یہی بات کرتے رہے ہیں۔
گزشتہ کچھ عرصے سے قومی کرکٹرز کی ویڈیوز تسلسل کے ساتھ سوشل میڈیا پر سامنے آرہی ہیں جبکہ کارکردگی کا گراف نیچے جارہا ہے۔ ایک ٹی وی پروگرام میں اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے سابق کپتان یونس خان نے کہا کہ یہ سلسلہ نیٹ فلیکس سے شروع ہوا تھا مگر نقل کیلیے بھی عقل چاہیے، ٹریول ڈائریز ہم بھی بناتے تھے مگر اس کا طریقہ یہ ہے کہ ورلڈکپ جیت کر آئیں تو اپنی جدوجہد کے مختلف مراحل کی ویڈیو جاری کریں۔
انہوں نے کہا کہ آج کل میچ کھیلا نہیں ہوتا مگر سوشل میڈیا پر بہت کچھ آجاتا ہے،کھلاڑیوں کی توجہ صرف کارکردگی، رنز اور وکٹوں پر مرکوز ہونا چاہیے، ایونٹ جیت جائیں تو ویڈیوز میں بتا دیں، نہیں بھی جیتے تو وجوہات سے آگاہ کردیں۔
مزید پڑھیں: سخت جان پروٹیز پر قابو پانے کی پلاننگ ہونے لگی
یونس خان نے کہا کہ ویرات کوہلی کے کمرے کی ویڈیو لیک ہوئی تو ان کو خوش ہونا چاہیے تھا مگر انھوں نے بْرا منایا کہ پرائیویسی میں دخل اندازی کیوں ہوئی، ہمارے ہاں باہر نکلتے ہی بتا دیتے ہیں کہ میں کمرے میں تھا اب باہر آگیا ہوں۔
سابق وکٹ کیپر کامران اکمل نے کہا کہ ویڈیوز کا سلسلہ بڑی دیر سے جاری ہے،کرکٹ پر توجہ مرکوز نہیں رہی، معیار بھی نیچے گیا، ہمارے ہاں تو جس کی سالگرہ ہوتی ہے اس کو کیک کاٹنے کیلیے ٹیم میں لے لیتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ چیئرمین پی سی بی رمیز راجہ نے جس دور میں کرکٹ کھیلی وہ جانتے ہیں کہ اس وقت کتنی توجہ کھیل پر دی جاتی تھی،ماضی میں اپنے یوٹیوب چینل پر وہ خود بھی یہی بات کرتے رہے ہیں۔