سندھ میں خاندانی منصوبہ بندی پر عملدرآمد ضروری ہےمقررین
عوامی سطح پر مہم چلائی جائے،مڈوائف اس حوالے سے تبدیلی لاسکتی ہیں
ڈاکٹرشیرشاہ سید این سی ایم این ایچ کے زیر اہتمام سیمینار سے خطاب کررہے ہیں اسٹیج پرڈاکٹرصاحب جان،ڈاکٹرصادقہ نعیم،ڈاکٹر سکندر اور ڈاکٹریاسمین زخترقاضی بیٹھی ہیں ۔ فوٹو : ایکسپریس
نیشنل کمیٹی فار میٹرنل اینڈ نیونیٹل ہیلتھ (این سی ایم این ایچ) کے تحت منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا ہے کہ سندھ میں خاندانی منصوبہ بندی پر عملدرآمد اور اس حوالے سے بڑی تبدیلی کے لیے مڈوائف کی تربیت ضروری ہے۔
مڈوائف اس حوالے سے بڑی تبدیلی لاسکتی ہیں، خاندانی منصوبہ بندی کے لیے عوامی سطح پر مہم چلانے کی ضرورت ہے، ماں صحت مند ہوگی توبچے بھی صحت مند ہونگے، خاندانی منصوبہ بندی ایک حساس معاملہ ہے، لوگوں کو اس کی قبولیت میں وقت لگتاہے، ان خیالات کا اظہار ماہرین نے کراچی کے مقامی ہوٹل میں ''فیصلہ وقفے کا:بچے کی پیدائش کے فوراً بعد'' کے موضوع پر منعقدہ سیمینار سے خطاب اور حاضرین کے جوابات دیتے ہوئے کیا، سیمینار سے ڈاکٹر شیر شاہ، ڈاکٹر صاحب جان، ڈاکٹر صادقہ جعفری، سکندر سومانی، عظمت وسیم و دیگر نے خطاب کیا، ڈاکٹر شیر شاہ کا کہنا تھا کہ بچوں کی پیدائش کے درمیان وقفہ ماں کے لیے ضروری ہے، ہمیں اس حوالے سے عوامی مہم چلانے کی ضرورت ہے، انھوں نے مدارس کے نصاب پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مدرسوں کے نصاب سے ایسے لوگ تیار ہورہے ہیں ۔
جنھیں دین کا معلوم ہی نہیں اور وہ اپنا طالبانی دین متعارف کرواتے ہیں، انھوں نے چین کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ خاندانی منصوبہ بندی کے پروگرام کے تحت چین نے اپنے کچھ صوبوں کے عوام کو ایک بچہ جبکہ کچھ صوبوں کے عوام کو 2 بچے پیدا کرنے کی پالیسی دے رکھی ہے، ڈاکٹر صاحب جان نے میڈیکل کے نصاب پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایم بی بی ایس کے نصاب میں خاندانی منصوبہ بندی کا تذکرہ موجود نہیں، نصاب میں اسے شامل کرنے اور اس کی تدریس کی ضرورت ہے، اس سلسلے میں ایم بی بی ایس کا نصاب یا تدریس ''گائنی'' سے آگے نہیں جاتی، سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے ماہرین کا کہنا تھا کہ خواتین کی تولیدی صحت اور خاندانی منصوبہ بندی کے سلسلے میں صحت کے تربیتی کونسلرز کا کردار اہم ہے، مقررین نے کہا کہ نجی میٹرنٹی ہوم نے اپنے ٹارگٹ سیٹ کیے ہوئے ہیں کہ انھیں ایک سال میں زچگی کے کتنے کیسز لینے ہیں، ان نجی میٹرنٹی ہومز کوبھی کنٹرول کرنے کی ضرورت ہے۔
مڈوائف اس حوالے سے بڑی تبدیلی لاسکتی ہیں، خاندانی منصوبہ بندی کے لیے عوامی سطح پر مہم چلانے کی ضرورت ہے، ماں صحت مند ہوگی توبچے بھی صحت مند ہونگے، خاندانی منصوبہ بندی ایک حساس معاملہ ہے، لوگوں کو اس کی قبولیت میں وقت لگتاہے، ان خیالات کا اظہار ماہرین نے کراچی کے مقامی ہوٹل میں ''فیصلہ وقفے کا:بچے کی پیدائش کے فوراً بعد'' کے موضوع پر منعقدہ سیمینار سے خطاب اور حاضرین کے جوابات دیتے ہوئے کیا، سیمینار سے ڈاکٹر شیر شاہ، ڈاکٹر صاحب جان، ڈاکٹر صادقہ جعفری، سکندر سومانی، عظمت وسیم و دیگر نے خطاب کیا، ڈاکٹر شیر شاہ کا کہنا تھا کہ بچوں کی پیدائش کے درمیان وقفہ ماں کے لیے ضروری ہے، ہمیں اس حوالے سے عوامی مہم چلانے کی ضرورت ہے، انھوں نے مدارس کے نصاب پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مدرسوں کے نصاب سے ایسے لوگ تیار ہورہے ہیں ۔
جنھیں دین کا معلوم ہی نہیں اور وہ اپنا طالبانی دین متعارف کرواتے ہیں، انھوں نے چین کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ خاندانی منصوبہ بندی کے پروگرام کے تحت چین نے اپنے کچھ صوبوں کے عوام کو ایک بچہ جبکہ کچھ صوبوں کے عوام کو 2 بچے پیدا کرنے کی پالیسی دے رکھی ہے، ڈاکٹر صاحب جان نے میڈیکل کے نصاب پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایم بی بی ایس کے نصاب میں خاندانی منصوبہ بندی کا تذکرہ موجود نہیں، نصاب میں اسے شامل کرنے اور اس کی تدریس کی ضرورت ہے، اس سلسلے میں ایم بی بی ایس کا نصاب یا تدریس ''گائنی'' سے آگے نہیں جاتی، سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے ماہرین کا کہنا تھا کہ خواتین کی تولیدی صحت اور خاندانی منصوبہ بندی کے سلسلے میں صحت کے تربیتی کونسلرز کا کردار اہم ہے، مقررین نے کہا کہ نجی میٹرنٹی ہوم نے اپنے ٹارگٹ سیٹ کیے ہوئے ہیں کہ انھیں ایک سال میں زچگی کے کتنے کیسز لینے ہیں، ان نجی میٹرنٹی ہومز کوبھی کنٹرول کرنے کی ضرورت ہے۔