طیارہ حادثہ مسافروں کے ورثا کومعاوضے کی رقم جمع کرانے کا حکم
ایئر بلو انتظامیہ ایک ہفتہ میں ایک کروڑ روپے ہائیکورٹ ناظر کے پاس جمع کرائے گی
ایئر بلو انتظامیہ ایک ہفتہ میں ایک کروڑ روپے ہائیکورٹ ناظر کے پاس جمع کرائے گی. فوٹو: فائل
سندھ ہائیکورٹ کے جسٹس فاروق شاہ نے ایئر بلو طیارے کے حادثے میں جاں بحق ہونے والوں کے اہل خانہ کو معاوضے کی ادائیگی کیلیے ایئر بلو انتظامیہ کوایک ہفتہ میں ایک کروڑ روپے سندھ ہائیکورٹ کے ناظر کے پاس جمع کرانے کی ہدایت کی ہے۔
عدالت نے بدھ کو توہین عدالت کی درخواست کی سماعت کی،درخواست میں موقف اختیارکیاگیا ہے کہ 28جولائی2010کو کراچی سے اسلام آباد جانے والی ایئر بلو کی پرواز کو حادثہ پیش آیا جس کے نتیجے میں 152مسافر جاں بحق ہوگئے تھے،بعد ازاں سول ایوی ایشن اتھارٹی نے لواحقین کو اپنے حصے کے 5,5 لاکھ روپے ادا کردیے ، جبکہ ایئر بلو نے اپنے حصے کے 50,50 لاکھ روپے ادا نہیں کیے۔
حادثے میں درخواست گزارکی اہلیہ انور بیگم اور بیٹا رائو زاہد بھی جاں بحق ہوگئے تھے،واضح رہے کہ ایئر بلو حادثہ سے متعلق ہیومن رائٹس اینڈ سول لبرٹیز سوسائٹی آف پاکستان (ایچ آر سی ایل ایس پی) کی جانب سے دائر کردہ ایک آئینی درخواست بھی سندھ ہائی کورٹ میں زیر سماعت ہے جس میں وزارت دفاع، سول ایوی ایشن اتھارٹی، ایئر بلو انتظامیہ اور کراچی و اسلام آباد کے ایئر ٹریفک کنٹرولر کو فریق بناتے ہوئے ایئر بلو طیارے کے حادثے کی تحقیقاتی رپورٹ منظر عام پر لانے کی استدعا کی گئی ہے، درخواست میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں اب تک 18 فضائی حادثات ہو چکے ہیں مگر کسی حادثے کی تحقیقاتی رپورٹ منظر عام پر نہیں آ سکی۔
عدالت نے بدھ کو توہین عدالت کی درخواست کی سماعت کی،درخواست میں موقف اختیارکیاگیا ہے کہ 28جولائی2010کو کراچی سے اسلام آباد جانے والی ایئر بلو کی پرواز کو حادثہ پیش آیا جس کے نتیجے میں 152مسافر جاں بحق ہوگئے تھے،بعد ازاں سول ایوی ایشن اتھارٹی نے لواحقین کو اپنے حصے کے 5,5 لاکھ روپے ادا کردیے ، جبکہ ایئر بلو نے اپنے حصے کے 50,50 لاکھ روپے ادا نہیں کیے۔
حادثے میں درخواست گزارکی اہلیہ انور بیگم اور بیٹا رائو زاہد بھی جاں بحق ہوگئے تھے،واضح رہے کہ ایئر بلو حادثہ سے متعلق ہیومن رائٹس اینڈ سول لبرٹیز سوسائٹی آف پاکستان (ایچ آر سی ایل ایس پی) کی جانب سے دائر کردہ ایک آئینی درخواست بھی سندھ ہائی کورٹ میں زیر سماعت ہے جس میں وزارت دفاع، سول ایوی ایشن اتھارٹی، ایئر بلو انتظامیہ اور کراچی و اسلام آباد کے ایئر ٹریفک کنٹرولر کو فریق بناتے ہوئے ایئر بلو طیارے کے حادثے کی تحقیقاتی رپورٹ منظر عام پر لانے کی استدعا کی گئی ہے، درخواست میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں اب تک 18 فضائی حادثات ہو چکے ہیں مگر کسی حادثے کی تحقیقاتی رپورٹ منظر عام پر نہیں آ سکی۔