بلدیاتی اداروں میں افسران کی تقرریاں نہ ہو سکیں

سندھ پیپلز لوکل گورنمنٹ آرڈیننس کے نفاذ کے باوجود پانچوں ڈویژن کومیٹروپولیٹن کادرجہ دینے کانوٹیفکیشن جاری نہ ہوسکا

محکمہ بلدیات کے ذمے دار ذرائع کے مطابق ابھی تک گورنر ہائوس ، وزیراعلیٰ ہائوس یا وزیر بلدیات کی جانب سے تبادلوں و تقرریوں کے احکامات موصول نہیں ہوئے ہوئے۔ فوٹو: فائل

گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد خان کی جانب سے سندھ پیپلز لوکل گورنمنٹ آرڈیننس صوبے میں نافذ کرنے کے باوجود متعلقہ اسامیوں پر افسران کی تقرریاں عمل میں نہیں لائی جاسکی ہیں.

اس ضمن میں پیپلز پارٹی اور متحدہ قومی موومنٹ میں مختلف اسامیوں پر تعیناتی کے حوالے سے فارمولا طے نہیں ہوسکا جبکہ آرڈیننس نافذ ہونے کے بعد محکمہ بلدیات کی جانب سے ابھی تک پانچوں ڈویژن کو میٹروپولیٹن کا درجہ دینے کا بھی کوئی نوٹیفکیشن جاری نہیں ہوسکا۔

اس ضمن میں محکمہ بلدیات نے ٹائونز اور تعلقہ کی اسامی کیلیے سی ایم او(چیف میونسپل آفسیر)اور ٹی ایم او (ٹائون میونسپل آفسیر)کے حوالے سے ایک سمری تیار کی ہے کہ اور واضح کیا ہے کہ جن افسران کو ٹائون اور تعلقہ میں تعینات کیا جائے ان کے نام مختص کرنے کا فیصلہ کیا جائے تاہم صوبائی سطح پر ابھی تک اس کا فیصلہ نہیں کیا جاسکا ہے۔

ذرائع کے مطابق اسی طرح ڈسٹرکٹ کونسل کے عہدے کا معاملہ بھی ابھی تک حل نہیں کیا جاسکا جبکہ پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کی کور کمیٹی میں طے کیا گیا تھا کہ میٹرو پولیٹن میں چیف افسر تعینات ہوں گے جبکہ ڈسٹرکٹ کونسل میں کس نام سے افسر تعینات ہوں گے اس کا بھی فیصلہ نہیں ہوسکا ہے۔

ذرائع کے مطابق کراچی کے ڈویژن سطح پر اور14ٹائونز، حیدرآباد میں ڈویژن کی سطح پر اور شہری علاقوں میں ایم کیو ایم کی سفارش پر افسران تعینات ہوں گے جبکہ دیگر دیہی علاقوں میں پیپلز پارٹی کے مقامی رہنمائوں کی سفارش پر تعیناتیوں کا سلسلہ شروع ہوگا تاہم اس ضمن میں دونوں جماعتوں کے درمیان مذاکرات کا عمل جاری ہے اور متعلقہ محکموں سے افسران کی فہرستیں طلب کی گئی ہیں۔


توقع ہے کہ آئندہ ہفتے سے اس جانب پیش قدمی ہوگی،محکمہ بلدیات کے ذمے دار ذرائع کے مطابق ابھی تک گورنر ہائوس ، وزیراعلیٰ ہائوس یا وزیر بلدیات کی جانب سے تبادلوں و تقرریوں کے احکامات موصول نہیں ہوئے ہیں جیسے ہی حکم نامہ موصول ہوگا نوٹیفکیشن جاری کردیے جائیں گے۔

یاد رہے کہ آرڈیننس کے نفاذ کے بعد سے سندھ میں میٹروپولیٹن اور ڈسٹرکٹ کونسل کا نظام نافذ العمل ہے لیکن کسی بھی متعلقہ محکمے نے اپنی اپنی متعلقہ اسامیوں اور افسران کو بلدیاتی نظام کے حوالے سے نچلی سطح پر منتقلی یا تبدیلی کا کوئی نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا ہے۔

صوبائی سطح کے بھی وہ محکمے جنہیں مقامی حکومتوں کے ماتحت کیا گیا ہے ان کی جانب سے بھی ابھی تک کوئی نوٹیفکیشن جاری نہیں ہوسکا جبکہ پانچ ڈویژنوں کو میٹرو پولیٹن کا درجہ دینے کا بھی نوٹیفکیشن جاری نہیں ہوسکا ہے۔

دوسری جانب سندھ پیپلز لوکل گورنمنٹ آرڈیننس کے نفاذ کے بعد ناراض اتحادیوں فنکشنل مسلم لیگ ، اے این پی اور نیشنل پیپلز پارٹی کو سندھ حکومت کے مختلف ذمے دار اندرون طور پر رابطے کرکے حکومت میں دوبارہ شمولیت کی کوششوں میں مصروف ہوگئے ہیں۔

اس ضمن میں صدر زرداری نے براہ راست بعض وزرا کو ذمے داری سونپ دی ہے اور ہدایت کی ہے کہ پیر پگارا ، شاہی سید اور غلام مرتضیٰ جتوئی سے ملاقات کرکے ان کے تحفظات دور کیے جائیں۔
Load Next Story